امریکی گریٹ گیم اور بلوچستان

امریکی گریٹ گیم اور بلوچستان
 امریکی گریٹ گیم اور بلوچستان

  



پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے ،جو ہمیشہ خطرات میں گھرا نظر آتا ہے سازشوں کی یلغارہے ،جو ہرطرف سے منڈلاتی نظرآتی ہے ،جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہواتو اس کا وجود لرز رہا تھا بڑی مشکل سے سنبھلا ایک عظیم اسلامی ملک کو دولخت کردیا گیا یوں پہلی سازش تھی ،جس میں بین الاقوامی اسلام دشمن قوتیں شامل تھیں اور بھارت کو استعمال کیا گیا ۔بھارت تقسیم ہند کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکا اس لئے وہ اس گھناؤنی سازش میں انتہائی خوش دلی سے شریک ہوا ،لیکن اس کے بعد بھی وہ خاموش نہیں بیٹھا 1971ء کے بعدبلوچستان میں سازشوں کا سلسلہ شروع کیا گیا اور 1973ء میں بلوچستان میں مسلح تصادم شروع ہوگیا بلوچستان کی منتخب حکومت کو ختم کیاگیا بدقسمتی سے اس سازش میں جہاں سوویت یونین شریک تھا وہاں شاہ ایران پہلی دفعہ پاکستان کی سیاست میں امریکی آشیربادکے ذریعے داخل ہوگیا۔ 1972ء میں بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی نیپ نے حکومت تشکیل دی تھی یوں بلوچستان گریٹ گیم کا حصہ بن گیا۔ 1973ء میں سوویت یونین کی مداخلت میں تیزی آگئی ۔افغانستان میں سردار داؤد نے ظاہرشاہ کا تختہ الٹ دیا اور اس کے بعدسردارداؤد کا تختہ الٹ دیا گیا اور نور محمد ترہ کئی کو برسراقدار لایا گیا۔ افغانستان ایک سوشلسٹ ملک بن گیا۔ اس کے بعد پاکستان کے سر پر خطرات منڈلانا شروع ہوگئے۔ علیحدگی کی تحریک نے پھر زور پکڑلیا اور مسلح جدوجہد بلوچستان کے بلوچ حصوں میں شروع ہوگئی۔

1978ء تک پہنچتے پہنچتے افغانستان میں سوشلسٹ انقلاب کے خلاف طاقتور مزاحمت نے جنم لیا۔ افغانستان میں اندرونی کشمکش شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں بلوچستان میں مسلح جدوجہد محدود اور کمزور ہوگئی اوراس نئی کشمکش نے جو افغانستان میں شروع ہوئی تھی۔ بین الاقوامی قوتوں کو بلوچستان سے افغانستان منتقل کردیا اور پاکستان نے سکھ کاسانس لیا ۔1988ء میں جاکر افغانستان میں سوشلزم کے ان داتا کا دور ختم ہوگیا اور ایک طاقتور سپرپاور دم توڑ گئی۔اس خطرہ کا خوف ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا اور پاکستان نے اطمینان کا سانس لیا یوں بلوچستان گریٹ گیم کے حصار سے نکل گیا۔ اس درمیانی مرحلے میں چین کو آگے آنے کا موقع مل گیا اور وہ گوادر میں داخل ہوگیا یہ موقع مغرب نے اسے فراہم کیا۔ ایٹمی دھماکے نے جہاں پاکستان کوتنہا کیا وہاں مسلم ممالک اور چین کی قربت نے نئی قوت فراہم کردی پاکستان کی ایٹمی قوت نے جہاں اسے مستحکم کیا وہاں اسے نئے خطرات سے دوبارہ مدمقابل کردیا اب سوویت یونین کے بجائے امریکہ اور مغرب پاکستان کے لئے خطرہ بن گئے اور اسرائیل اس میں شریک ہوگیا ،جبکہ چین پاکستان کے بہت قریب آگیا شاہ ایران بلوچستان کے حوالے سے جس سازش میں شریک تھا ایران کے اسلامی انقلاب نے اسے ختم کردیا یوں ایک باب ختم ہوگیا۔

اس مرحلے میں افغانستان مجاہدین کے ہاتھ سے نکل کر طالبان کے ہاتھ میں آگیا تھا۔ یہ پاکستان کے لئے پرسکون مرحلہ تھا جواس کی تاریخ میں پہلی بار اسے حاصل ہوا تھا اس لئے بلوچستان کا محاذ بالکل خاموش ہوگیا تھا یہ وہ دور تھا جب بلوچستان میں مسلح جدوجہد مفقود ہوگئی تھی اور طالبان کی حکمرانی نے بھارت کو بہت زیادہ پریشان کردیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی جہادی تحریکوں نے بہت زور پکڑا افغانستان میں طالبان کی حکمرانی بھارت کو بہت زیادہ پریشان کررہی تھی اور اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا چونکہ پاکستان ایٹمی قوت بن چکا تھا اور طالبان افغانستان میں غالب ہوچکے تھے اس لئے بھارت کا وہ محاذ جو اس نے بلوچستان میں کھولنے کی کوشش کی تھی بالکل خاموش ہوگیا تھا اس مرحلہ میں جنرل پرویزمشرف کے ذہن میں نہ جانے یہ خیال کہاں سے آگیا کہ انہوں نے امریکہ مخالف ممالک کادورہ شروع کردیا ۔

اس کی پشت پر چین کی آشیرباد تھی یا کوئی اور سبب تھااس نے ایران شمالی کوریا چین کے دوروں سے آغاز کیا اور جنرل مشرف نے بھارت کو کھل کر دھمکی دی اور کہا کہ اب گوادر پر چینی بیڑہ آئے گا تو پھر ہم دیکھیں گے کہ پاکستان کوکون دھمکی دیتا ہے یہ اس کی خطرناک دھمکی اور امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی جنرل پرویزمشرف کے ذہن میں امریکہ مخالف کیمپ کا خیال سما گیا تھا اور اپنے اس خیال کے حوالے سے وہ کیوبا کا دوبارہ دورہ کرنا چاہتا تھا کہ ایک دھماکے نے پوری دنیا کو حیرت زدہ اور خوفزدہ کردیا اور وہ واقعہ تھا نائن الیون کا جس نے بین الاقوامی سیاست کا رخ ہی بدل کررکھ دیا یوں امریکہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ آور ہوگیا اورجنرل پرویزمشرف جو کھیل امریکہ کے خلاف کھیلنے چلا تھا اس سے اس نے یوٹرن لیا اور مکمل امریکی کھیل کا حصہ بن گیا اور اس حد تک دباؤ میں آگیا کہ پاکستانی فوج کو بھی اس میں شریک کردیا ایک لاکھ سے زیادہ فوج پاک افغان سرحد پرتعینات کردی۔ جیکب آباداور بلوچستان کی سرزمین امریکہ کے استعمال کے لئے فراہم کردی بلوچستان کا ساحل امریکی بیڑے کے لئے استعمال ہوا جنرل پرویزمشرف ہوا میں اڑ رہا تھا ،لیکن امریکہ نے اسے منہ کے بل زمین پر گرادیا۔

امریکہ اورمغرب افغانستان کے اندر ایک نئی جنگ میں شریک ہوگئے اب بارہ سال کے بعدبالکل ہی صورت حال بدل گئی ہے چونکہ پاکستان طالبان کا پشت پناہ تھا اور جب طالبان کی حکومت ختم کی گئی تو پاکستان کو بھی امریکہ نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اسے معلوم تھا کہ پاکستان طالبان کا کیوں پشت پناہ تھا اس لئے وہ پاکستان کوپھرسبق سکھانا چاہتا ہے اور اب اس کی نگاہ بلوچستان پر ہے اب بھارت بھی اس گریٹ گیم کا حصہ بنا ہوا ہے اور بلوچستان پاکستان کے لئے انتہائی حساس خطہ بن گیا ہے اور سب سے حیرت کی بات اب یہ ہے کہ امریکہ بلوچستان میں وہی کھیل کھیلنا چاہتا ہے جوکبھی سوویت یونین کھیل رہاتھا اب امریکہ اسی صورت حال سے افغانستان میں دوچار ہے، جس سے پہلے کبھی سوویت یونین دوچار رہا تھا امریکہ کو شکست کا سامنا ہے اور بلوچستان میں ان قوتوں کا مدد گار ثابت ہورہا ہے جو بلوچستان کو آزاد دیکھنا چاہتی ہیں اور مختلف حصوں میں مسلح جدوجہد نظر آرہی ہے اب چین دوبارہ گوادر میں داخل ہوگیا ہے ،بلوچ قوم پرست چین کے مخالف ہیں بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کھل کر چین کی مخالفت کررہی ہے۔سرداراخترمینگل کی بی این پی بھی چین مخالف پارٹی ہے جب امریکہ نے کوئٹہ میں اپنا قونصل خانہ کھولنے کا فیصلہ کیا تو سب سے بڑھ کر نیشنل پارٹی بی این پی اور پشتونخوا اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کھل کر حمایت کی۔

مزید : کالم