مسکراہٹ سے ٹوٹا ہوا رشتہ

مسکراہٹ سے ٹوٹا ہوا رشتہ
مسکراہٹ سے ٹوٹا ہوا رشتہ

  

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میں ایک مشہور شاعر ہوں۔ غزل کہتا ہوں، لیکن کبھی کبھار مُنہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے مزاحیہ اشعار بھی کہہ لیتا ہوں۔ مجھے چھپنے چھپانے کا زیادہ شوق نہیں ہے، لیکن آج کل اخبارات میں ’’ خبر ہائے بد‘‘کے سواکچھ ہوتا نہیں ، جنھیں پڑھ کر دُکھی لوگ مزید دُکھی ہو جاتے ہیں، چنانچہ قارئین کا مسکراہٹ سے ٹوٹا ہوا رشتہ بحال کرنے کے لئے چند اشعار پیشِ خد مت ہیں:

ہم کہ مے خانے میں بھی اکثر پھسلتے تھے مگر

غسل خانے میں پھسلنے کا مزا ہی اور ہے

میرے سوالِ وصل کا اُس نے دیا جواب

انسانیت کے دائرے میں رہ کے بات کر

سادہ کھانے کی کرتے ہیں تلقین

کھایم مشکل وگر نہ کھایم مشکل

پوچھا کل اتفاق سے اُس نے ہمارا حال

تب سے ہمارا حال زیادہ خراب ہے

مَیں نے شیمپین مانگی اُس نے پوست

فکرِ ہر کس بقدرِ ہمتِ اوست

عشق پر ہے یہ سیاست کا اثر

کوئے محبوب میں ہڑتال ہے آج

درد جب ہو رہا ہو گھُٹنے میں

دیر کچھ تو لگے گی اُٹھنے میں

اُس چاند سے چہرے پر بس ایک نظر کرنا

بے شرمی کی یہ حرکت مت بارِ دگر کرنا

پانی پانی کر گئی مجھ کو طوائف کی یہ بات

اب شریفوں کے محلے میں بھی اپنے لوگ ہیں

ہر ایک گاؤں ، ہر اِک شہر ، ہر دیار میں جنگ

’’وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ‘‘

خودی کو کر بلند اتنا، بلند اتنا، بلند اتنا

کہ تنگ آکر خدا کہہ دے، میاں بس کر، میاں بس کر

محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں پتنگ

ہر خرابی کا سبب بیگم نے ٹھہرایا مجھے

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاکِ کا شغر

وقت کرتا نہیں کسی کو معاف

وقت کردیتا ہے طبیعت صاف

اور سے اور ہوئی جاتی ہو

قابلِ غور ہوئی جاتی ہو

مار کھا لیتا ہے چُپ چاپ مری باجی سے

بس یہی بات ہے اچھی مرے بہنوئی کی

کوچۂ یار کا دورہ تو کیا ہے چھُپ کر

چند مشکوک سے کردار نظر آئے ہیں

انسانیت سے عاری بس ایک میں ہوں ورنہ

ہر شخص اِس نگر میں اللہ کا ولی ہے

کیسی کیسی عورتیں اللہ نے پیدا کریں

دل مجھے کہتا ہے پنجابی میں ’’ایہناں توں ڈریں‘‘

ہے خواہش اب زمیں کی اور نہ حاجت ہے زر و زن کی

دِلِ بیمار کو اب ہے ضرورت آکسیجن کی

ہم نے موٹی کو سر آنکھوں پہ بٹھا رکھاہے

ویٹ لفٹنگ میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے

اللہ دتّہ اے ڈی گوہر بن گیا

اک حسین بیوی کا شوہر بن گیا

اب بھاگ کے جاؤ گی کہاں جانِ تمنّا

آپہنچا ہے مردان سے اک خانِ تمنّا

عشق میں کیسا بلنڈر کر دیا

ایک ہی دل تھا سرنڈر کر دیا

ہم سمجھتے رہے اُسے معشوق

وہ سمجھتا رہا ہمیں مشکوک

ہوا ہے ابھی اُس کی شادی کو ہفتہ

اُسے بھول جاؤ گے تم رفتہ رفتہ

مزید :

کالم -