بلاول کی سنو عمران خان

بلاول کی سنو عمران خان
بلاول کی سنو عمران خان

  

آصف علی زرداری کے اقتدار کا سورج آسمان پر تھا، بابر اعوان ان کے دربار عالیہ میں اکبر کے ملاں دو پیادہ اور بیربل سے کم نہ تھے یہی وہ دن تھے جب اعتزاز احسن

’’پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں‘‘

کی تصویر بنے ہوئے تھے، سو انہی دِنوں اعتزاز احسن نواز شریف کی دیوانگی میں فرمایا کرتے تھے

میڈا عشق وی توں ایمان وی توں

بابر اعوان ان دِنوں پیپلزپارٹی کے ابھرتے ہوئے نوجوان لیڈر بلاول بھٹو زرداری کے ’’اتالیق‘‘ بھی مقرر کئے گئے تھے اور اِس حوالے سے خبر عام تھی کہ وہ بلاول کی اُردو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک دن ایک نجی چینل کے ساتھ انٹرویو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں فرمایا۔۔۔بلاول کو کسی لمبی چوڑی تقریر کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ وہ بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہے، وہ جب باہر نکلے گا۔۔۔ اور ذرا سوچئے، جب اُس نے اپنی شہید ماں کے خون آلود کپڑے عوام کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔۔۔ لوگو! یہ میری ماں شہید کے وہ خون آلود کپڑے ہیں جو انہوں نے بوقتِ شہادت پہنے ہوئے تھے اور مَیں نے یہ کپڑے سنبھال کے رکھے ہوئے تھے تاکہ وقت آنے پر آپ سے پوچھ سکوں کہ میری ماں کے ساتھ انصاف کب ہو گا؟ بابر اعوان کے اِس جواب پر اینکر کا حق بنتا تھا کہ وہ ان سے پوچھتا کہ اگر عوام نے بلاول سے کہہ دیا کہ انصاف لینا ہے تو اپنے باپ سے پوچھو جو بی بی کی شہادت کے بعد پانچ سال حکمران رہا اور اس نے ایک بار بھی انصاف لینے یا دینے کی کوشش نہیں کی، مگر میڈیا اُس وقت بھی ایسے ہی ’’نڈر، بے باک‘‘ اور حق پرست تھا جیسا کہ اب نظر آتا ہے۔

بابر اعوان کا یہ بیان سُن کر مجھے بہت عجیب لگا کہ یہ ’’بندہ‘‘ ایک نوجوان سیاست دان کو کس راہ پر لگا رہا ہے۔یہ یقیناًبلاول کی غلط سیاسی تربیت کر رہا ہے،مگر کرنا خدا کا یہ ہوا کہ کچھ عرصے بعد بابر اعوان اپنے تمام تر سیاسی نظریات اور خیالات کے ساتھ عمران خان کے پاس پہنچ گئے اور آج کل وہ عمران خان کی سیاسی تربیت کرنے میں مصروف ہیں،جس کے نمونے عمران خان اپنی تقریروں میں پیش کرتے رہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی خوش قسمتی ہے، بابر اعوان جیسے ’’اتالیق‘‘ اس کی زندگی میں سے نکل گئے ہیں اور وہ ملکی سیاست میں انتہائی شائستگی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، اندرون سندھ اور پنجاب میں وہ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے اپنے منشور کے حوالے سے بات کر رہا ہے وہ لوگوں کوا پنے مستقبل کے خوابوں سے آگاہ کر رہا ہے۔وہ ہمارے عمران خان کی طرح ’’اوئے توئے‘‘ ’’گدھے‘‘ اور اِس طرح کے الفاظ سے گریز کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ وہ گالی گلوچ کی سیاست نہیں کرنا چاہتا۔۔۔

بلاول بھٹو کا سیاسی بیانیہ آہستہ آہستہ نواز شریف کے بیانیے کے قریب آ رہا ہے، یعنی بلاول بھی کہہ رہا ہے کہ مُلک کے حالات کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی طرف بڑھیں، نواز شریف بہت پہلے یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وہ قومی سطح پر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ’’ڈائیلاگ‘‘ کے لئے تیار ہیں۔ اب بلاول کے اس بیان میں آمادگی نظر آتی ہے۔۔۔ یعنی ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ مُلک کی بڑی قومی سیاسی جماعتیں کسی بھی وقت ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی طرف پلٹ سکتی ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو اِس جانب توجہ دینی بھی چاہئے،کیونکہ مُلک کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ سیاسی طور پر ’’جنگ‘‘ کی کیفیت کو جاری رکھا جائے،ہم اِس وقت قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت سے خطرات میں گِھر چکے ہیں۔ بہت سے مسائل درپیش ہیں اور اگر ہم یونہی غلط سلط الزامات لگا کے مُلک کی مقبول قیادت کو کونے سے لگاتے رہے تو پھر ہمارے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا اور پاپولر قیادت کی جگہ ایک ’’ہنگامی قیادت‘‘ اوپر لانے کی کوشش میں ہم مزید’’ہنگامی‘‘ حالات کا شکار ہو جائیں گے۔بلاول بھٹو کے ’’میثاق جمہوریت‘‘ کے بیان کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔مسلم لیگ(ن) کو واپسی بیانات تک نہیں باقاعدہ سیاسی رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے۔عمران خان کو بھی ایک سیاست دان کے کردار کے لئے خود کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔وہ ایک بزرگ آدمی ہیں،انہیں چاہئے کہ وہ نوجوانوں جیسے جوش خروش سے باہر نکلیں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کے بارے میں اپنی زبان درست کریں۔۔۔اپنے سیاسی نظریے کو آگے لے کر ضرور چلیں،مگر اِس مُلک کے لئے ’’حرفِ آخر‘‘ نہ بنیں، کیونکہ وہ ابھی ’’حرفِ آخر‘‘ نہیں ہیں۔ وزیراعظم بننے کی ان کی ’’خواہش‘‘ بُری نہیں ہے، وہ ایک بار نہیں بار بار بنیں، مگر یہ مت بھولیں کہ محض وزیراعظم بن جانے سے وہ اگر اِس مُلک کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔انہیں ناممکن کو ممکن بنانے کے لئے جیسی بھی ہے اس مُلک کی دیگر سیاسی قیادت کے ساتھ اپنے سیاسی روابط بہتر بنانے ہوں گے،سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے لئے اپنی زبان کو بہتر بنانا ہو گا۔۔۔

انہیں اب مُلک کے دیگر مسائل کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنا ہو گی۔۔۔نواز شریف اور مریم نواز کو جیل لے جانے کی ان کی خواہش پوری ہو چکی ہے، یعنی وہ سیاسی طور پر ’’فاتح‘‘ کہے جا سکتے ہیں۔ اب انہیں ایک ’’مردِ میدان‘‘ کی طرح اپنے بیانیے کو بدلنا چاہئے اور اپنی سیاست کو ’’تین قیدیوں‘‘ کے اردگرد نہیں رکھنا چاہئے۔ مَیں تو کہتا ہوں انہیں بلاول بھٹو زرداری سے سیکھنا چاہئے، جو اپنے جلسوں میں جوانی کا جوش دکھانے کے بجائے ایک بزرگ کے لب و لہجے میں بہت سنجیدگی سے بات کر رہا ہے اور لوگ اس کی بات سُن رہے ہیں اور وہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ مُلک کو آگے لے جا سکتا ہے۔ وہ ثابت کر رہا ہے کہ اگر لوگ اس پر اعتماد کریں تو وہ ان کے اعتماد پر پورا اُتر سکتا ہے۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ بلاول کو وزیراعظم بننے کی جلدی ہے۔وہ قومی حکومت کے قیام کے لئے بھی رضا مند نظر آتا ہے۔۔۔وہ ہر حال میں بضد نہیں ہے کہ ہر قیمت پر کرسی ملنی چاہئے،مگر بدقسمتی سے عمران خان ہر قیمت پر کرسی چاہتا ہے، مگر انہیں احتیاط سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔وہ خود کو ’’حرفِ آخر‘‘ کے طور پر پیش نہ کریں۔انہیں ’’زبر‘‘ بننے کے بجائے ’’زیر‘‘ بننے کی ضرورت ہے۔ وہ صوبہ جنوبی پنجاب بنانا چاہتے ہیں تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ سرائیکی زبان کے سب سے بڑے شاعر خواجہ فرید نے نواب صادق حسن کے نام چٹھی لکھتے ہوئے فرمایا تھا:

’’زبر‘‘ نہ بن ’’زیر‘‘ بن

متاں پیش نہ پیش آونجی

اے نواب ۔۔۔ زیر بن زبر نہ بن،کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی مصیبت آ جائے۔۔۔

مزید :

رائے -کالم -