مسلم لیگ (ن) راستہ بناچکی

مسلم لیگ (ن) راستہ بناچکی
مسلم لیگ (ن) راستہ بناچکی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لوگ اس وقت سوچ رہے ہیں کہ کیا نون لیگ کو کھلا راستہ ملے گا ؟ ان کے نزدیک اسٹیبلشمنٹ اس آخری مرحلے پر نون لیگ کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دے گی جبکہ ہمارا ماننا ہے کہ ایک استاد اپنے شاگرد پہلوان کو تب تک ہی گر سکھاسکتا ہے جب تک کہ وہ اکھاڑے میں نہیں اترتا ہے ۔ ایک مرتبہ جب اس کا پٹھا اکھاڑے میں اترجائے تو پھر اسے اپنے زور بازو پر ہی کشتی لڑنا پڑتی ہے ۔ چنانچہ بھلے عام تاثر ہو کہ پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ کی حمائت حاصل ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ کس طرح پی ٹی آئی کی جگہ الیکشن لڑسکتی ہے ، یہ کام اسے اکیلے ہی نون لیگ کے مقابلے میں کرنا پڑے گا اور جب اکھاڑے میں دونوں حریف اتریں گے تو پھر فیصلہ ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا، ان کے نعروں پر نہیں ہوگا۔ اس کی دوسری مثال آج کل کی اکیڈیمیوں کی ہے جن میں دن رات ایک کرکے طلباء کو تیاری کروائی جاتی ہے ، طرح طرح کے گر سکھائے جاتے ہیں ، گیس پیپر بنا کر دیئے جاتے ہیں لیکن کمرہ امتحان میں طلباء اکیلے ہی ہوتے ہیں ، وہاں ان کی اپنی ذہنی قابلیت اور استطاعت کا ٹیسٹ ہوتا ہے ، استاد ان کے ساتھ نہیں بیٹھا ہوتا۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ پولنگ بوتھ کے اندر سب سے کمزور پلیئر ہوگی کیونکہ وہاں پر تعینات لوگ اور ووٹ ڈالنے والے عوام کسی سے نہیں ڈرتے ، کسی سے نہیں جھجھکتے۔اس لئے اس سے قطع نظر کہ منصوبہ سازوں نے کیا سوچا ہواہے ، عوام کو اپنا حق رائے دہی نیک نیتی سے استعمال کرنا چاہئے کیونکہ اللہ سب سے بڑا منصوبہ ساز ہے!

یوں بھی جب سے عمران خان نے پنجابیوں کو گدھا کہاہے، پنجابیوں نے اس گدھے کے جلسوں میں جانا چھوڑ دیا ہے !...یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی جماعت کبھی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں پہنچی ہے نہ کوئی فرد لیڈر بن سکا ہے ۔ اسلامی جمہوری اتحاد کی مثال ہمارے سامنے ہے جس کی باگ ڈور اسٹیبلشمنٹ نے مرحوم غلام مصطفےٰ جتوئی کے ہاتھ میں دی تھی مگر وہ لاہور سے چل کر اوکاڑ ہ تک ہی پہنچے تھے کہ فضا وزیر اعظم نواز شریف کے نعروں سے گونج رہی تھی کیونکہ نواز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب نہ صرف بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا بلکہ اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو بھی ناکوں چنے چبوائے تھے۔ یہ تو پیپلز پارٹی والوں کا پراپیگنڈہ تھا کہ جس نے نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا لیکن نواز شریف نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ پاکستان میں جمہوری عمل کے بیچ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پسند نہیں کرتے اور انہیں جب جب موقع ملا انہوں نے عوام کے حق حاکمیت کی بالادستی کا علم بلند کیا ہے ۔ چنانچہ اگر عمران سمجھتے ہیں کہ وہ اسٹیبلمشنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر وزیر اعظم بن سکتے ہیں توغلط فہمی کا شکار ہیں کیونکہ ایسا ہونا ہوتاتو جماعت اسلامی کی قیادت کب کی بن چکی ہوتی جس کے بارے میں ایک زمانے میں علی الاعلان کہا جاتا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہے۔ لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ عوام نے کبھی بھی جماعت اسلامی کو پذیرائی نہیں بخشی ہے

، چاہے وہ ظالمو قاضی آرہا ہے کا روپ دھار لے یا پاسبان کی شکل اختیار کرلے ۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کے پیچھے ہے انہیں عمران خان کے خالی کرسیوں سے خطاب نظر نہیں آتے ؟ انتخابات میں پانچ دن رہتے ہوں اور عمران خان کے جلسوں میں اگر ایک کونسلر کے جلسے جتنے بھی لوگ نہ آرہے ہوں تو اس کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا مطلب ہے کہ لوگوں نے اس پراپیگنڈکے کا اثر نہیں لیا ہے جو یک طرفہ ٹریفک چلانے والے ٹی وی چینلوں نے پھیلانے کی کوشش کی ہے ۔ مصری حکومت کے مطابق جس کسی کو سوشل میڈیا پر پانچ ہزار سے زائد لوگ فالو کرتے ہیں ، وہ ازخود ایک میڈیا تصور ہوگا ۔ اس کا مطلب ہے کہ 2018کے انتخابات سے قبل لوگوں کا معلومات کے لئے ٹی وی چینلوں اور اخباروں پر انحصار کم ہو چکا ہے اور وہ معلومات کی بغیر کسی بندش کے دستیابی کے قائل ہیں تاکہ وہ ازخودسب کچھ جان کر فیصلہ کر سکیں۔ چونکہ عوام دنیا میں کہیں بھی اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں کرتے اوراس بات کے حامی نہیں ہیں کہ ان کی قسمت کے فیصلے کسی اور جگہ ہوں اس لئے انہوں نے پاکستان میں بھی اس کا اظہار شروع کردیا ہے اور عمران خان کے جلسے انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی اس طرح خالی ہونے لگے ہیں جس طرح انتخابات ہارنے کے بعد جہانگیر ترین کے بیٹے کا ڈیرہ خالی ہوا تھا۔

اگر یہ کہا جارہا ہے کہ نون لیگ اپنا راستہ بنا چکی ہے تو غلط نہیں کہا جا رہاکیونکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانیوں سمیت دنیا میں کہیں بھی اس بات کو پسند نہیں کیا جاتا کہ کوئی پیچھے بیٹھ کران کی ڈوریاں ہلائے اور وہ کٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے پھریں۔مصر میں سوشل میڈیا سے شروع ہونے والے عرب سپرنگ کی مثال ہمارے سامنے ہے ، اسی طرح ترکی میں جب طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی تو سوشل میڈیا نے جو انقلاب برپا کیا ،آج کل عمران خان کے جلسوں میں حاضرین کی روز بروز گھٹتی تعدادایک ویسے ہی انقلاب کاپیش خیمہ ہے ۔ یوں بھی بات اتنی سی ہے کہ نون لیگ کے مقابلے میں جو امیدوار پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر 2013میں ہارے تھے وہ 2018میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ہار جائیں گے۔ آخر ندیم افضل چن نے گزشتہ پانچ برسوں میں پیپلز پارٹی سے بے وفائی کے سوا کیا کیا ہے ؟ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پی ٹی آئی نے ہرانا نون لیگ کوہے اور لوگ پیپلز پارٹی سے ٹوٹ ٹوٹ کر اسے جوائن کررہے ہوں ۔ پی ٹی آئی کے جیتنے کے اسباب تو تب پیدا ہوسکتے تھے اگر نواز شریف کے اقتدار سے باہر ہوتے ہی نون لیگ کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے اور نون لیگئے بھاگم بھاگ پی ٹی آئی کو جوائن کر چکے ہوتے ۔ اگر اسٹیبلشمنٹ نون لیگ کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تو اسٹیبلشمنٹ نون لیگ کو الیکشن میں دھاندلی سے ہرانے میں کیسے کامیاب ہوسکتی ہے ۔ یہ الیکشن پرو نواز اور انٹی نواز فورسز کے درمیان ہے ، پرو اسٹیبلشمنٹ اور انٹی ااسٹیبلشمنٹ قوتوں کے درمیان نہیں ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے پاس سوائے پسپائی کے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

نواز شریف کے ساتھ اس کی پارٹی اس لئے کھڑی رہی ہے کہ پاکستان کے عوام نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ لاکھوں کروڑوں خرچ کرکے الیکشن لڑنے والے بیوقوف تو نہیں ہیں کہ ایک ہارنے والی پارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں اتریں۔ آخر ان کو کچھ نظر آرہا ہے تو وہ نون لیگ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں ؟ جن کو کچھ نظر نہیں آتا تھا دیکھ لیجئے وہ کیسے پیپلز پارٹی کی بس سے دھڑا دھڑ اترے ہیں ۔ اس لئے ہم سب کو اس یقین کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کرنا ہے کہ نون لیگ جیت کے لئے اپنا راستہ بناچکی ہے کیونکہ گزشتہ پانچ سال میں عوام کی جتنی خدمت کی گئی ہے اتنی تو فیلڈ مارشل ایوب خان کے دس برسوں میں بھی نہیں ہو سکی ہے کیونکہ نواز شریف نے کوئی بائیس خاندانوں کونہیں پالا ہے ۔ اس کے برعکس اس کی میٹرو پر عام آدمی شان سے سفر کرتا ہے اور

مزید : رائے /کالم