حساس ادارے کے افسر بن کر پی ٹی آئی کیلئے ووٹ مانگنے والے تین جعلساز پولیس کے حوالے

21 جولائی 2018 (11:58)

اوکاڑہ، رینالہ خورد( احمد نواز کامیانہ) مبینہ طور پر حساس ادارے کے افسر بن کر پی ٹی آئی کیلئے ووٹ مانگنےاور ن لیگ کوووٹ دینے کی صورت میں دھمکیاں دینے  والے تین جعلسازوں کو گاؤں والوں نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر پولیس کے حوالے کر دیا ، ایک فرار ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق چار افراد حافظ جابر حسین ، محمد سعید کمبوہ ،ملک عامر اور ایک نامعلوم نواحی گاؤں 4جی ڈی آئے اور عثمان غنی آرے والے کیساتھ ملے اور کہا کہ   وہ آئی ایس آئی کے افسر ہیں ، آپ نے پی ٹی آئی کو ووٹ دینا ہے اور ان کے جلسے بھی کرانے ہیں۔ لوگوں کو دھمکیاں دیئے جانے پر لوگوں کو شک پڑا تو  ان کو پکڑ لیا اور مارنا پیٹنا شروع کردیا، کوئی آدھ گھنٹے بعد پاکستان تحریک انصاف کے مقامی سپورٹرز موقع پر پہنچے اور مشتعل ہجوم سے کہاکہ ان لوگوں کو ان کے حوالے کردیا جائے ، وہ خود باقی دیکھ لیں جس کے بعد ہجوم نے ان کی بھی پٹائی کردی ۔ 

دوسری طرف روزنامہ جنگ نے لکھا کہ  پی ٹی آئی کے صوبائی امیدوار مہر جاوید اقبال نے ایک نیٹ ورک قائم کیا ہوا ہے جو مسلم لیگیوں کو فون کر کے خود کو آئی ایس آئی کے افسر بتا کر دھمکیاں دیکر پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کیلئے کہتے ہیں۔ یہ صمصام علی شاہ ، مہر جاوید اقبال ، شاہین بشیر اور عامر ممتاز کامیانہ کا منصوبہ ہے۔ لیکن پکڑے گئے مبینہ جعلی افسران  کا آئی ایس آئی سے کوئی تعلق نہیں۔ 

اطلاع ملنے پر پورے ضلع کی پولیس اور انتظامیہ تھانہ سنگھرہ پہنچ گئی ۔ ن لیگ کے امیدوار قومی اسمبلی ندیم عباس ربیرہ اور پی ٹی آئی کے صمصام علی شاہ بخاری بھی پہنچے، دونوں گروپس نے ایک دوسرے کیخلاف درخواستیں جمع کروا دیں۔ اس دوران دونوں پارٹیوں کے سیکڑوں افراد تھانے کے باہر جمع ہر کر ایک دوسرے کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے۔

مزیدخبریں