چولستان میں 3 کم عمر بہنوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

چولستان میں 3 کم عمر بہنوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، قائمہ کمیٹی ...
چولستان میں 3 کم عمر بہنوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چولستان میں گذشتہ ماہ تین کم عمر بہنوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ واقعہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی لگتا ہے، اس کی تہہ میں ضرور جائیں گے۔ کیس کی تحقیقات کیلئے سینیٹر رانا مقبول کی سربراہی میں سب کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

مقامی اخبارات کے مطابق سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا۔ فورٹ عباس میں تین سگی بہنوں کا پوسٹ مارٹم کرنے والی لیڈی ڈاکٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ چولستان کے صحرائی علاقے میں جن تین بچیوں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا اس سے پتہ چلا کہ تینوں بہنوں کو جنسی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جن کی عمریں پانچ سے گیاہ برس کے درمیان تھیں۔

اجلاس میں متعلقہ پولیس حکام چیئرمین قائمہ کمیٹی کے سوالات کے جواب دینے میں ناکام رہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اب تک کے شواہد کے مطابق یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سنگین واقعہ لگتا ہے جسے دبایا نہیں جاسکتا۔ اس کی تہہ میں ضرور جایا جائے گا۔انہوں نے اس حوالے سے مزید تحقیقات کیلئے سینیٹر رانا مقبول کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔رحمان ملک نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر قبر کشائی بھی کی جائے گی۔یادرہے کہ چولستان میں سے لاشیں ملی تھیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ راستہ بھٹک گئی تھیں اور بھوک پیاس کی وجہ سے موت واقع ہوگئی ۔ 

اجلاس میں سوشل میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈا، جعلی خبریں پھیلانے اور اہم شخصیات کو بدنام کرنے سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سینیٹر عتیق شیخ نے نشاندہی کی کہ سوشل میں میڈیا میں ایک جعلی انتخابی امیدوار کی طرف سےانتخابی نشان قبر کی پوسٹ پھیلائی گئی ہے۔ جس پر قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے ایف آئی اے کو واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ فیس بک یا ٹوئیٹر سے تعاون اور ڈیٹا کے حصول کا کوئی معاہدہ نہیں۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ سوشل میڈیا کی جعلی پوسٹس کی وجہ سے کئی گھرانے اجڑ گئے۔پی ٹی اے حکام نے آگاہ کیا کہ ہمارے پاس ٹوئیٹر، فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا کو مانیٹر کرنے کا خودکار نظام ہی موجود نہیں۔ خودکار نظام کی خریداری پر دو کروڑ ڈالرز خرچہ آتا ہے۔جس پر سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ یہ رقم نجی موبائل فون کمپنیوں سے لینی چائیے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سائبر کرائم کے شعبے کو مضبوط کرنے کیلئے ایک ارب 30 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے میں سائبر کرائم کے شعبے میں 460 نئے ملازمین بھرتی کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملک بھر میں 15 نئے سائبر کرائم سینٹرز بھی بنائے جارہے ہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد /انسانی حقوق