’’میں غیر جانبدارہوں‘‘

’’میں غیر جانبدارہوں‘‘
’’میں غیر جانبدارہوں‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

الیکشن اتنے قریب آجائیں گے میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔جب اتنے قریب آہی گئے ہیں تو سوچا معلوم کیا جائے کونسی سیاسی پارٹی عوامی پارٹی ہے۔الیکشن میں کونسی پارٹی جیت رہی ہے۔عوام موجودہ حالات کو کیسے دیکھ رہے ہیں الیکشن کا متوقع نتیجہ کیا ہوسکتا ہے۔سب سے پہلے مجھے اپنے دوست رشید علوی یاد آئے جو ہر دوسرے دن مجھ سے پوچھتے ہیں’’ وڑائچ صاحب الیکشن ہوں گے بھی کہ نہیں‘‘

میں ہر بار چہرے پر سنجیدگی کا تاثر دے کر کہتا ہوں ’’ہاں ہو بھی سکتے ہیں‘‘رشید علوی سے پوچھا گیا ’’ موجودہ حالات کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ‘‘ انہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ جواب دیا۔’’میرے خیال میں ملک میں جو کچھ ہورہا ہے اس سب کی ذمہ داری ن لیگ پر آتی ہے۔ڈالر آسمان سے باتیں کر رہا ہے،پٹرول مہنگا ہوچکا ہے،تھوڑی تھوڑی لوڈشیڈنگ بھی ہورہی ہے۔ہمارے محلے میں بارش کی وجہ سے پانی بھی کھڑاہے۔میرا چھوٹا بیٹا سکول بھی رو دھو کر جارہا ہے۔بیگم صاحبہ کاموڈ بھی آج کل کچھ اچھا نہیں رہتا۔ہمارے گھر کے صوفوں کی حالت بھی خستہ ہوچکی ہے۔گھر کے سامنے والے جامن کے درخت پر اس مرتبہ بہت کم پھل لگا ہے۔گاؤں سے فون آیا تھا ہماری براؤن مج(بھوری بھینس) بہت کم دودھ دینے لگی ہے۔اس مرتبہ فصل بھی کچھ نہیں ہوئی،منڈی میں اچھا ریٹ نہیں ملا۔میری چھوٹی سالی انگلینڈ سے اس ماہ آنے والی تھی مگر اب وہ اگلے مہینے آئے گی۔پرسوں ہماری گلی اور ساتھ والی گلی کا ٹرانسفارمر خراب ہوگیا پورے 15گھنٹے لگے اس کو ٹھیک کروانے میں،واپڈا والے کہہ رہے تھے ٹرانسفارمر ہلکا ہے احتیاط کیجیے گا۔لکی سپر سٹور کا مالک کتنا بدتمیز ہے پرسوں مجھے کہنے لگاآپ کا تین ماہ کا ادھار رہتا ہے وہ دے دیں،سچ پوچھو تو مجھے بہت برا لگا ،بندہ پوچھے اے کمبخت انسان میں نے تمہارے پیسے لے کر بھاگ جانا کہیں۔اب تو مجھے اس کی شکل ہی زہر لگنے لگی ہے لوگ ٹھیک کہتے ہیں شریف آدمی کی کوئی زندگی نہیں۔اس مرتبہ بجلی کا بل بھی 15ہزار آیا ہے۔مجھے سمجھ میں نہیں آتا کیا ہم سونے کی بجلی استعمال کر رہے ہیں۔میں نے گھر میں کوئی فیکٹری کھولی ہے جو مجھے اتنا بل بھیج دیا۔تم تو جانتے ہو ہماری مختصر سی فیملی ہے۔دو پورشن ہیں نیچے والے پورشن میں میرے سسرال والے اور اوپر والے میں ،میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتا ہوں۔آجا کر صرف تین اے سی چلتے ہیں پورے گھر میں ،اسی حساب سے باقی چیزیں بھی استعمال ہوتی ہیں۔خیر چھوڑوتمہیں اتو کا بتانا تھا یار وہی جو چھوٹی موٹی بد معاشیاں کرتا تھا،اس کی ضمانت ہوگئی وہ ڈکیتی کے کیس میں اندر تھا۔اچھی خاصی رقم دے کر جان چھوٹی ہے اس کی۔کل ہم سب مل کر اس کو لینے گئے ہوئے تھے۔بہت کمزور ہو گیا ہے بے چارہ!بال بھی چھوٹے کروالیے ہیں اب تو پانچ وقت کا پکا نمازی ہے۔لگتا ہے اسے ہدایت مل گئی ہے۔کل بھولا بتارہا تھا الیکشن آفس کھولنے پر پی ٹی آئی والوں نے بڑی اچھی آفر دی ہے کہ جو دفتر کھولے گا روز کا چائے پانی کا خرچہ بھی وہ دیں گے اور جو کرسیاں ہم دفتر میں رکھنے کے لیے دیں گے وہ الیکشن کے بعد دفتر کھولنے والے کو دے دیں گے۔شیر والے بھی آئے تھے وہ کہتے ہیں دفتر کا کرایہ اور خرچے کے پیسے ایک بار ہی دیں گے،لیکن بھائی ان کا دفتر کھول کر مرنا ہے آج کل تو ان کے دفتروں پرچھاپے پڑ رہے ہیں۔جماعت اسلامی والے بھی آئے تھے کہہ رہے تھے اب کی بار ہمیں ووٹ دیں۔کارنر میٹنگ کی۔ نہ کوئی بریانی،نہ کوئی قیمے والا نان یار مجھے تو یہ جماعتیے بڑے کنجوس لگتے ہیں پیسے لگاتے نہیں اور آجاتے ہیں الیکشن لڑنے۔یہ بتانا تو بھول ہی گیا۔بلو کا بھائی دبئی سے واپس آگیا ہے ۔الیکشن کے بعد اس کی شادی ہے۔بڑے کھجل ہوئے ائیرپورٹ پر،نواز شریف کی واپسی والے دن فلائیٹ تھی اس کی، دو گھنٹے ہم ائیرپورٹ پر خوار ہوتے رہے۔یار یہ عمران خان کی پارٹی والوں نے ترانے بڑے اچھے بنائے ہیں سن کر مزہ آجاتا ہے۔یار اب اس ملک کے حالات ٹھیک ہونے جارہے ہیں۔صرف نواز شریف کی گرفتاری ہی کافی نہیں ابھی اس کا چھوٹا بھائی شہباز شریف اور اس کے بیٹے بھی باہر ہیں ان کو پکڑنا چاہیے۔اس کے پورے خاندان کو سر عام سزا ملنی چاہیے پھر ہی یہ ملک ٹھیک ہوسکتاہے۔یار یہ نگران حکومت ن لیگ والوں پر پابندی کیوں نہیں لگاتی،اس پارٹی کی سیاست ختم ہوگئی ہے۔آنے والے دنوں میں ان کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہوگا یار انہوں نے کرپشن ہی بہت کی ہے۔ان کا لندن والا گھر تین ہزار کروڑ کا ہے،اگر صرف وہ بیچ دیا جائے تو پاکستان کے سارے قرضے اتارے جاسکتے ہیں۔بہرحال تم نے پوچھا تھااس لیے بتایا تم جانتے ہو میرا کسی سیاسی پارٹی کی طرف جھکاؤ نہیں۔میں ایک نیوٹرل فرد کے طور پر اپنی رائے دے رہا ہوں‘‘۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ