شرح سود میں اضافے سے کاروباری بڑھے گی،محمد فاروق شیخانی 

شرح سود میں اضافے سے کاروباری بڑھے گی،محمد فاروق شیخانی 

  

حیدرآباد(این این آئی)حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد فاروق شیخانی نے کہا ہے کہ مارک اَپ میں ایک فیصد اضافے سے کاروباری لاگت میں کئی گُنا اضافہ ہوجائے گا اور بینکوں کے قرضے مزید بڑھیں گے، جیسا کہ عندیہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ریگولرٹی ڈیوٹی میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے اِس سے تعمیرات میں استعمال ہونے والی مصنوعات جن میں اسٹیل اور دیگر اشیاء شامل ہیں بہت مہنگی ہوجائیں گی اور رئیل اسٹیٹ اور انڈسٹری کی صنعتیں جو پہلے ہی روبہ زوال ہیں مزید تباہی کی طرف جائیں گی جس سے نہ کاروباری طبقہ اور نہ ہی حکومت کو کچھ حاصل ہوگا، ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ ہر سطح پر مہنگائی کا طوفان کروٹیں لے رہا ہے، روپے کی قیمت انتہائی سطح تک گرچکی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے جس سے پہلے ہی کاروباری لاگت آسمان سے باتیں کررہی ہے اَب مزید مارک اَپ میں اضافہ تباہی ثابت ہوگا اور بزنس کمیونٹی کا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا۔

 اُنہوں نے کہا کہ نگراں حکومت سے موجودہ حکومت تک روپے کی قیمت میں متعدد بار کمی نے پہلے ہی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور ملکی مصنوعات جن کو برآمد کرنے سے زرمبادلہ کمایا جاسکتا تھا اُس میں بے پناہ اضافے سے بزنس کمیونٹی مانگ کے مطابق مال تیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی کیونکہ بہت سا خام مال باہر سے امپورٹ کیا جاتا تھا لیکن ڈالر کی قیمتوں میں روز افزوں اضافے سے صنعتکاروں کی قوت خرید جواب دے گئی ہے جس کا اَثر لازمی طور پر معیشت کے زوال پر پڑتا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ ملکی صنعت و تجارت کو بحران سے فوری نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ کاروباری طبقہ اپنی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھ سکے اور معیشت پر بُرے اثرات مرتب نہ ہوں۔

 اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کو اِس سلسلے میں فوری ایسے اقدام کی ضرورت ہے کہ صنعت کا پہیہ رُکنے نہ پائے ورنہ نقصان کے علاوہ کوئی فائدہ مند صورتحال نہیں ہوگی۔

مزید :

کامرس -