سزا و جزاء کے موثر نظام کے بغیر ٹیکس اصلاحات لا حاصل رہے گی،مرتضیٰ مغل

  سزا و جزاء کے موثر نظام کے بغیر ٹیکس اصلاحات لا حاصل رہے گی،مرتضیٰ مغل

  

 راولپنڈی(صباح نیوز) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ٹیکس نظام کے ملکی معیشت اور عوام پر اثرات کاجائزہ لینے کے لئے کمیشن بنایا جائے۔ ٹیکس کے بنیادی مقاصد میں ملک کو چلانے کے لئے وسائل مہیا کرنے کے علاوہ معاشی و سماجی ترقی اوروسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے امیر و غریب کے مابین فرق کو ختم کرنا ہوتا ہے مگر پاکستان میں اس سے کوئی ایک مقصد بھی پورا نہیں ہو رہا ہے کیونکہ سارا روز غیر حقیقت پسندانہ اہداف کے حصول پر لگایا جا رہا ہے۔انہوں  نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ناقابل حصول اہداف کی دوڑ نے عوام اور معیشت کی کمر توڑ دی ہے،معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی سے ریونیو میں اضافہ خام خیالی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے نظام کو جب تک عام فہم،منصفانہ اور شفاف نہیں بنایا جاتا اس وقت تک اسے قبولیت نہیں ملے گی، ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنے کے لئے غیر ملکی اداروں نے متعدد بار بھاری امداد اور قرضے فراہم کئے ہیں جس سے صورتحال بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہو گئی،اس وقت بھی نئے ٹیکس گزار تلاش کرنے کے بجائے موجودہ ٹیکس گزاروں پر بوجھ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے جبکہ بعض اہم شعبوں سے جان بوجھ کر ٹیکس وصول نہیں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا سارا نظام ایک محکمے کے حوالے کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ٹیکس کے تنازعات کے فوری حل کے لئے اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔

 کیونکہ اس وقت بھی ڈیڑھ کھرب تک کا ریونیو مقدمات کی وجہ سے پھنسا ہوا ہے جس میں اب تیزی سے اضافے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی اور گیس کے لاکھوں کمرشل اور انڈسٹریل کنکشن ہیں جبکہ ایس ای سی پی میں نوے ہزار کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں مگر ان میں سے نصف بھی ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرواتی ہیں۔ ایف بی آر کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے، انکے سٹاف کی استعداد بڑھانے، ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹیکس چوروں کا پتہ چلانے اور سزا و جزاء کے موثر نظام کے بغیر ٹیکس اصلاحات لا حاصل رہیں گی۔

مزید :

کامرس -