آئی ایم ایف پروگرام پر سیاسی قوتوں کا اتفاق کیسے؟

آئی ایم ایف پروگرام پر سیاسی قوتوں کا اتفاق کیسے؟

  

پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ٹریسا سانچیز نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کی کامیابی کے لئے پاکستان میں سیاسی قوتوں کا اتفاق رائے اور اس مقصد کے لئے قانون سازی ضروری ہے اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو ناکامی کا خدشہ موجود ہے،اسی طرح اگر ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں پاکستان ناکام ہوا تو عالمی منڈیوں سے پرائیویٹ فنانسنگ کے حصول میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ٹریسا سانچیز نے پروگرام کو درپیش خطرات میں سے سب سے بڑا خطرہ ”سیاسی“ قرار دیا۔ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پروگرام کے اندر بعض ایسے اقدامات اٹھانے کے لئے کہا گیا ہے، جس کے لئے نئی قانون سازی یا پھر پہلے سے موجود قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور اس کام کے لئے آپ کو قومی اسمبلی میں جانا ہو گا۔حکومت کے پاس اس وقت قومی اسمبلی میں اکثریت نہیں ہے، ہمیں اتفاق رائے پیدا کرنا ہے، ہمیں ضرورت ہے کہ ہم مخالفین کو دلائل کی قوت سے قائل کریں اور ہمیں ضرورت ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے پروگرام کے لئے کسی قسم کی حمایت حاصل کریں۔ آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ایسی ہی تشویش کا اظہار آئی ایم ایف کی اُن دستاویزات میں کیا گیا ہے،جو گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ریلیز کی گئی ہیں،دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ پارلیمینٹ کے ایوانِ بالا سینیٹ میں حکومت کو اکثریت حاصل نہیں،اِس لئے وہاں سے کوئی ایسا قانون پاس نہیں ہو سکتا، جو آئی ایم ایف کے پروگرام کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔

پاکستان ماضی میں آئی ایم ایف سے اٹھارہ پروگرام لے چکا ہے،جو مختلف حکومتوں کے ادوار میں لئے گئے،اس وقت کی حکومتیں تو آئی ایم ایف پروگرام کے حق میں رہیں،لیکن جو جماعتیں اپوزیشن میں تھیں،انہوں نے کبھی اس پروگرام کی حمایت نہیں کی، لطف کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے یہ تک کہنا ضروری سمجھا کہ خود کشی کر لوں گا، آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا، وہ قرضے کے حصول کو قومی وقار کے منافی بھی خیال کرتے تھے اور بار بار اس کا اظہار کیا کرتے تھے۔ اِس لئے اگر آج کی اپوزیشن آئی ایم ایف کے تازہ ترین پروگرام پر نکتہ چینی کر رہی ہیں تو کوئی ایسی بات نہیں کر رہی جو پہلے کبھی نہ ہوئی ہو۔اپوزیشن کی تقریباً تمام جماعتیں حالیہ بجٹ کو یہ کہہ کر مسترد کر چکی ہیں کہ یہ آئی ایم ایف کا بنایا ہوا ہے اور آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا، تاہم آج کی اپوزیشن جماعتیں خود کشی کے جذباتی نعرے کی جانب پھر بھی نہیں گئیں۔ آئی ایم ایف کی بجٹ دستاویزات میں یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ حکومت نے بجٹ میں ٹیکس تو زیادہ مالیت کے لگائے ہیں،لیکن ظاہر کم کئے ہیں۔ یہ بات اگر آئی ایم ایف کی دستاویز کے ذریعے نہ بتائی جاتی تو شاید کسی کو پتہ ہی نہ چلتا کہ کتنے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔آئی ایم ایف کی حقیقت بیانی اور صاف گوئی سے کم از کم اتنا تو پتہ چلا کہ حکومت زیادہ ٹیکس لگا کر کم ظاہر کر رہی ہے اور یوں دانستہ طور پر پارلیمینٹ اور عوام سے بعض تلخ حقائق پوشیدہ رکھے جا رہے ہیں،حکومت نے بجٹ تو منظور کرا لیا کہ اس کے لئے ایوانِ بالا کی منظوری ضروری نہیں ہوتی،لیکن اب آئی ایم ایف جن نئے قوانین کی بات کر رہا ہے کیا حکومت انہیں منظور کرا سکتی ہے؟

اِس وقت پوزیشن یہ ہے کہ ایک سابق صدر اور دو سابق وزرائے اعظم حوالہ ئ زِنداں ہیں، پنجاب اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف حمزہ شہباز شریف بھی نیب کی حراست میں ہیں سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق اور اُن کے بھائی سابق صوبائی وزیر سلمان رفیق بھی گرفتار ہیں، رانا ثناء اللہ بھی گرفتار ہیں، مزید گرفتاریوں کا بھی خدشہ ہے،جن میں کئی ہائی پروفائل گرفتاریاں بھی شامل ہیں۔البتہ وزیر دفاع کو کچھ نہیں کہا جا رہا،نیب کے چیئرمین نے کہا تھا کہ جو ماضی میں برسر اقتدار رہے اُن کا احتساب ہو گا،کیا پانچ سال تک برسر اقتدار رہنا اور پھر کئی الزامات کا اسی طرح ہدف ہونا،جس طرح کہ گرفتار لوگ ہیں اس بات کا متقاضی نہیں کہ نیب اس طرف بھی دھیان دے،لیکن ایسا نہیں ہو رہا اور اپوزیشن کو یہ کہنے کا موقع میسر ہے کہ احتساب انتقام میں بدل چکا، ایسے میں حکومت کیا توقع کر سکتی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مطلوبہ قانون سازی میں حکومت سے تعاون کریں گی؟

پکڑ دھکڑ کی اس فضا میں جس کا ذکر بڑے فخریہ انداز میں کیا جا رہا ہے، اپوزیشن نے تو پہلے ہی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر رکھی ہے اور ریکوزیشن کے ذریعے جو اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے وہ بھی چیئرمین طلب نہیں کر رہے،بلکہ اُن کی جانب سے یہ توجیح سامنے آئی ہے کہ تحریک عدم اعتماد صرف اس اجلاس میں پیش کی جا سکتی ہے، جو صدر طلب کریں گویا چیئرمین نے تو عدم اعتماد سے پہلے ہی اپنی حیثیت خود ہی کم تر کر دی ہے، حالانکہ چیئرمین کی طرف سے اجلاس بلانے میں کوئی امر مانع نہیں اور آئین کی متعلقہ شق اس بارے میں واضح ہے، صاف نظر آ رہا ہے کہ چیئرمین اور حکومت اس سلسلے میں تاخیری حربے اختیار کرنا چاہتے ہیں،حالانکہ اُنہیں وقار کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا چاہئے،کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو سینیٹ میں کوئی بھی قانون سازی نہیں ہو سکے گی، جو آئی ایم ایف کے مطابق بڑی ضروری ہے اور ریذیڈنٹ نمائندہ نے تو واضح کر دیا ہے کہ اگر ایسا نہ ہو سکا تو یہ پروگرام ناکام ہو سکتا ہے،اِس لئے حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اگر آئی ایم ایف کے اس پروگرام کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتی ہے اور39ماہ میں اس کی خوش اسلوبی سے تکمیل چاہتی ہے تو اپوزیشن کی جانب خود دست ِ تعاون بڑھائے،لیکن اگر بلا ناغہ چوروں، ڈاکوؤں کے احتساب کی بات ہو گی، جن کے خلاف ابھی کوئی کیس بھی ثابت نہیں ہوا،بلکہ نااہلیت کی بعض مضحکہ خیز کہانیاں بھی سامنے آ رہی ہیں تو قانون سازی کیسے ہو گی،شاید اس کام کے لئے بھی آئی ایم ایف کو حکومت پر دباؤ ڈالنا پڑے۔

مزید :

رائے -اداریہ -