پنجاب کا نیا بلدیاتی قانون الیکشن ایکٹ سے متصادم

پنجاب کا نیا بلدیاتی قانون الیکشن ایکٹ سے متصادم

  

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے حکومت ِ پنجاب کو آگاہ کیا گیاہے کہ جو لوکل باڈیز ایکٹ منظور کیا گیا اس کی کئی شقیں پاکستان الیکشن ایکٹ سے متصادم ہیں، ان کو درست اور متوازن بنائے بغیر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، موجودہ حکومت نے سابقہ لوکل باڈیز قوانین ختم کر کے نیا قانون منظور کرایا،اس میں سابقہ نظام میں کئی تبدیلیاں کی گئیں اور دیہی کونسلوں کا طریق بھی متعارف کرایا، جبکہ اسی قانون کے ذریعے سابقہ منتخب بلدیاتی ادارے ختم کر دیئے گئے۔منتخب اراکین چار سال کے لئے چُنے گئے تھے وہ ایک سال بھی پورا نہ کر سکے، نئے قانون میں بہرحال یہ طے کر دیا گیا کہ قانون کی منظوری کے بعد ایک سال کے اندر انتخابات کرا دیئے جائیں گے۔ یہ منظور شدہ مسودہ قانون جب الیکشن کمیشن کو موصول ہوا تو کمیشن نے دیہی کونسلوں اور پنچائت کے طریق کار کو مرکزی انتخابی قواعد(الیکشن ایکٹ) سے باہر اور ماورا قرا دیا جبکہ حلقہ بندی، فہرست رائے دہندگان کے طریق کار پر بھی اعتراض کئے،الیکشن کمیشن کی طرف سے بتایا گیا کہ جب تک یہ تضادات دور نہ ہوں گے، الیکشن نہیں کرائے جا سکتے۔اس سلسلے میں الیکشن کمیشن پورے قانون کا جائزہ لے کر الیکشن ایکٹ سے متصادم شقوں کی نشاندہی کرے گا تاکہ حکومت قانون کو الیکشن ایکٹ کے مطابق بنا سکے۔اس صورتِ حال کی وجہ سے معلوم ہو گیا کہ پنجاب حکومت نے اکثریت کے بل بوتے پر جلدی میں جو قانون منظور کرایا اس پر پہلے سے موجود قوانین اور آئین کی روشنی میں پوری توجہ نہیں دی گئی اور یہ صورتِ حال پیدا ہوئی۔بہرحال یہ تو حکومت ہی کے فائدے کی بات ہے کہ سابقہ انتخابات کالعدم قرار دیئے جا چکے، بلدیاتی ادارے ایڈمنسٹریٹر چلارہے ہیں اور اگر مزید تاخیر ہو جاتی ہے تو ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد نہیں ہو گی کہ اب ان بلدیاتی اداروں کا نظام منتخب اراکین نہیں نامزد ایڈمنسٹریٹر چلا رہے ہیں، حکومت کو اس نشاندہی کا سہارا لے کر انتخابات میں تاخیر نہیں کرنا چاہئے اور الیکشن کمیشن سے سفارشات جلد حاصل کر کے قانون میں نشان زد ترامیم کر لینا چاہئیں تاکہ انتخابات میں زیادہ تاخیر نہ ہو اور بلدیاتی ادارے باقاعدہ طور پر کام کر سکیں کہ عوامی مسائل حل نہیں ہو رہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -