دین میں مختلف تہذیبوں کی آمیزش

دین میں مختلف تہذیبوں کی آمیزش
 دین میں مختلف تہذیبوں کی آمیزش

  



بُت پرستی (Idolatory)، شرک، مظاہر پرستی اور ارواح پرستی اُس وقت سے رائج ہے جب اِنسان تک اِلہامی کتابیں نہیں پہنچی تھیں، لیکن انسان اپنی پرستش کرنے کی جبلّت کی تسکین کے لئے مختلف قسم کے پوجاپاٹ کے طریقوں کی پیروی کرتا تھا۔ دراصل قدیم اِنسان کا ناپختہ شعور ہر چیز مثلاً جنگل کے درندوں سے ڈرتا تھا، دریاؤں اور سمندروں کی طغیانی سے خوف کھاتا تھا۔ زلزلوں، آتش فشاں پہاڑوں، آندھیوں اور آگ کے شعلوں سے انسان ایسے ہی ڈرتا تھا،جس طرح آج بھی چرند، پرند کیڑے مکوڑوں تیز آندھیوں سے یا زلزلوں اور قدرتی آفات کے خوف سے پناہ ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں نے اپنے تجربے سے یہ معلو م کر لیا کہ قدرت کے کون سے مظاھر فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ قدیم انسان مافوق الفطرت (Supernatural) اور جادُو، ٹونے سے بھی متاثر رہتا تھا۔ الہامی ادیان کے آنے سے پہلے، انسانوں نے دیو مالائی (Mythological) دیوی اور دیوتا ایجاد کر لئے تھے۔ اِن دیوی اور دیوتاؤں میں اِنسان کو نفع دینے والے بھی تھے اور نقصان پہنچانے والے بھی۔ اِنسانوں نے اپنے تصّور کی مدد سے دیوی، دیوتاؤں کو شکلیں دے دیں اور اُن شکلوں کومٹی، لکڑی یا دھاتوں کی مدد سے بتوں میں بدل دیا۔ یہ بت اِنسانی شکلوں اور جانوروں کی شکلوں سے بھی مشابہہ تھے۔ اِن بتوں کو راضی رکھنے کے لئے اِنسان نے پوجا پاٹ کے طریقے ایجاد کر لئے اور یوں بت پرستی اِنسانوں کی رُوح کو تسکین دینے کا ذریعہ بن گئی۔

دنیا کے بڑے مذاہب کا منبع، دین ِ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہے۔ آج سے ساڑے تین ہزار سال قبل دین موسوی کے ذریعے معبودِ اعظم نے اُس وقت کے کفار (Pagans)کو توریت کے ذریعے اپنی وحدت کا پیغام دیا، لیکن چند سو سالوں میں ہی دین ِ موسوی شرک کا شکار ہوگیا اور توریت کی ہدایات سے نہ صرف منحرف ہوا،بلکہ سونے کے بچھڑے کو معبودِ اعظم کا شریک بنالیا۔ اُسی معبودِ اعظم نے 1500سال بعد مشرک یہودیوں کی آبادی میں اپنا ایک اور رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے بھیجا اور ساتھ ہی اپنا اِلہامی پیغام انجیل کی صورت میں تمام بنی نوع انسان کے لئے نازل کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں نے بھی نہ صرف شِرک کیا،بلکہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بُت بنا کر اُن کی عبادت بھی شروع کر دی۔

معبودِ اعظم نے 570 سال بعد، بُنو ہاشم، جو عرب کے باشندے تھے اور جن کا ایک فرد پیدائش سے ہی، شرافت، نجابت، دیانت اور شفقت کا مجموعہ تھا، اُس کو اپنا رسول بنایا اور اُس کے ذریعے ہی اِنسانوں کو معلوم ہوا کہ معبودِ اعظم کا نام اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ؐبن عبداللہ کو نہ صرف رسالت دی، بلکہ اللہ نے اپنا آخری پیغام القران کے ذریعے تمام دنیا تک پہچانے کا فرض محمد مصطفےٰ ؐ کو سونپ دیا۔ معبودِ اعظم کو ہم اللہ کے نام سے بُلاتے ہیں اور یہ ہمیں رسول اللہؐ جو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، کے ذریعے معلوم ہوا۔

اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولؐ نے ہمیں ہر قسم کے شِرک سے منع کیا۔ شرک گناہِ عظیم ٹہرایا گیا۔ دین ِ اسلام کے دائرے میں جو غیر عرب قومیں داخل ہوئیں اُن کے ہاں کسی نہ کسی طرح بت پرستی، شخصیت پرستی یا ارواح پرستی کی شکل میں شرِک کا رواج تھا،بلکہ اہل ِ عرب بھی رسولؐ اللہ کی آمد سے پہلے مُشرک بھی تھے اور بت پرست بھی تھے۔ جزیرۃالعرب کا بڑا ہمسایہ ایران تھا جو عربوں کے قبائلی نظام سے مختلف تھا۔ جب اسلام ایران میں آیا تو وہاں حضرت زرتشت کے مذہب کے اثرات تھے۔

حضرت زرتشت کے دین میں وحدت کا بھی تصّور تھا، لیکن جس طرح تمام مذاہب میں وقت کے ساتھ اعتقادت میں چھوٹی بڑی تبدیلیاں آجاتی ہیں اسی طرح حضرت زرتشت کی وحدت پرستی میں جہاں شرِک کی آمیزیش ہوئی وہاں صوفی تصّور بھی شامل ہو گیا تھا۔ حضرت اِمام غزالی11 ویں صدی میں صوفی سلسلہئ چشتیہ کے بڑے داعی رہے۔

برصغیرمیں اِسلام کا تعارف 3 اطراف سے ہوا۔ عرب تاجر وں نے ہندوستان کے جنوبی اور مشرقی ساحلی علاقوں میں اِسلام پھیلایا،بلکہ ہندوستان کے صوبہ کیرالہ میں تو صحابہ کرام کی قبریں ابھی تک موجود ہیں۔ محمد بن قاسم کے ذریعے اسلام صوبہ سندھ میں داخل ہوا، لیکن اسلام کے بڑے بڑے مبلغین،اولیائے کرام کی شکل میں ہندوستان کے شمال سے آئے۔ مسلمان فاتحین بھی شمالی راستوں سے آتے رہے۔

شمالی اور مرکزی ہندوستان میں رہنے والی مقامی ہندو آبادی جب حلقہ ئ اسلام میں داخل ہوئی تو اُن ہندو Converts کی آبائی روایات اور عادات بھی غیر اِرادی طور پر نئے دین پر اثر انداز ہوئیں،چونکہ مسلمان فاتحین اور اولیائے اکرام اپنے ساتھ صوفی اِسلام بھی لائے تھے اِس لئے نو مسلم ہندوؤں کے مشرکانہ روّیوں کو سختی سے تبدیل نہیں کیا گیا۔ اولیائے کرام چونکہ مجسم ِ رواداری اور محبت خلقِ خدا رکھتے تھے اس لئے وہ نومسلم ہندو آبادی کی بہت سی غیر اسلامی معاشرتی عادات کو درگذر کرتے تھے۔

ہندودھرم کے بڑے سکالرز دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بھی وحدت پرست (Monotheist) ہیں۔ ویدک ہندو ازم میں یہ تو ملتا ہے کہ خالقِ کائنات ایک ہے جسے پربھو، اِیشور یا پرماتما کہا جاتا ہے، لیکن ہندو سکالرز یہ کہتے ہیں کہ ایشور کے جو عظیم فرائض ہیں وہ 3 ہیں، یعنی پربھو زندگی دینے والا ہے، وہ زندگی کو Sustain کرنے والا ہے اور وہ زندگی کو فنا کرنے والا بھی ہے۔ اِیشور کے اِن تین فرائض کو ظاہر کرنے کے لئے ہندو مہارشیوں نے تین مورتیاں بنا دیں۔

یہ مورتیاں بُتوں کی شکل میں ظاہر کی گئیں اور اِن مورتیوں کے نام رکھ دیئے گئے۔ برھما، وِشنو اور شِوا۔ اِن 3 مورتیوں کا مخفف نام ترِی مورتی رکھا گیا۔ بعد کی آنے والی دھائیوں میں ہندو بھگتوں نے زندگی کے ہر چھوٹے بڑے رُخ سے جڑے ہوئے کاموں کے لئے مزید بت بنا لئے اور یہاں تک کہ اِس وقت ہندوؤں کے قریباً 33 کروڑ بُت ہیں،یعنی ہر 4 ہندوؤں نے اپنے ذاتی بھگوان بنائے ہیں، جن کی وہ خصوصی طور پر پوجا کرتے ہیں۔

برصغیر کے نو مسلم ہندوؤں کا پس منظر بتانا ضروری تھا تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں خاص طور پر اور دوسرے ممالک کے مسلمان فرقوں میں کس طرح مشرکانہ روایات در آئی ہیں۔ بُت پرستی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مٹی، لکڑی یا دھات کی بنی ہوئی اِنسانی یا جانوروں کی مورتیاں ہی ہوں۔ہم جس چیز کو بھی مقدس اور قابل ِ سجدہ سمجھ لیں، وہ بھی بُت پرستی کے زِمر ے میں آجائے گا۔

کسی پتھر، کسی عمارت یا سٹرکچر کو یا قبر کو ہم مسلمان سجدہ کریں گے تو بُت پرستی کے مرتکب ہوں گے۔ میَں نے اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کو زندہ اِنسان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے دیکھا ہے، مسلمانوں کا یہ فرقہ اُس زندہ اِنسان کو قریباً خدا کا درجہ دیتا ہے۔ اُس فرقے کا اعتقاد ہے کہ اُن کے پیر کو سجدہ کرنے سے اور اُس کے پیروں کو چومنے سے جنت ملتی ہے۔ یہ فرقہ بہت امیر ہے۔ کراچی اور مہاراشٹرا میں آباد ہے۔میں نے اپنی آنکھوں سے بوسنیا،شام اور چیچنیا میں مسلمانوں کے بالکل ہی Perverted فرقے کے مرد و زن کو مستی کے عالم میں زندہ اِنسان کو پوجتے دیکھا ہے۔

میری ناچیز رائے یہ ہے کہ اِنسان فطرتی طور پر اپنے معبود کو دیکھنا چاہتا ہے جبکہ دین ِ اسلام میں ہمارا معبود نادیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس لئے اِنسانی فِطرت کو جانتے ہوئے ہمیں خانہ کعبہ میں لگے ہوئے سیاہ پتھر کو بوسہ دینے کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے 99 صفاتی ناموں کو تصّور میں لانے کے لئے ہدایت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام کو سمجھ لینے سے اور خانہ کعبہ کے سیاہ پتھر کو دیکھنے کے عمل سے ہمیں ہمارے معبود کی مکمل ہستی کا اِدراک ہو جاتا ہے۔ اِسلام کا سب سے عظیم پہلو ہی یہ ہے کہ ہمار معبود Invisible ہے، لیکن وہ ہر وقت ہر ذی روح کے نزدیک ہے۔ دین ِ اسلام کا یہ نکتہ اکثر مسلمانوں کو بڑے گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے ”اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے“کا تصّور ہی ہمیں بُرے کاموں سے روکتا ہے۔

جب اسلام کا پھیلاؤ غیر عرب دنیا میں ہوا تو وہاں کی تہذبیں اور رسم و رواج، جو غیر اِسلامی تھے مکمل طور پر ختم نہ کئے جا سکے اور نہ ہی ہو سکتے ہیں۔ غیر عرب قوموں میں خوشی اور غم کے اِظہار کے لئے جو رسُوم جاری تھیں، اُن میں کسی نہ کسی طور شِرک کا پہلو ضرور نکلتا تھا۔ برصغیر میں محرمّ میں تعزیہ اور ذوالجناح (جو حضرت اِمام حسین علیہ السلام کے گھوڑے کا نام تھا)کا رواج ایرانی تہذیب سے آیا۔ غم کے موقع پر زنجیر زنی کا رواج بھی ایران میں اسلام سے پہلے موجود تھا۔ صفوی خاندان کے دور میں، خاص طور سے صفوی بادشاہ طہاماسپ کے دور میں محرمّ میں زنجیر زنی عام ہوئی۔

شاہ طہاماسپ کے ایک وزیر کی بیٹی حمیدہ بانو جب مغل بادشاہ ہمایوں کی بیگم بن کر ہندوستان کی پہلی مغل ملکہ بنی تو ہندوستان میں محرمّ میں ماتم کے علاوہ زنجیر زنی کا رواج بھی آیا۔ وقت کے ساتھ تلوار زنی جو ممبئی اور لکھنؤ شہروں سے شروع ہوئی اور اَب کراچی میں بھی آگئی۔

دراصل وہ سادہ سا دین اسلام جو ہمیں رسول اللہ ؐ اور اُن کے خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں نظر آتا ہے وہ بعد کے زمانوں کے علمی خلفشاراور مختلف تہذیبوں کے آمیزے کی وجہ سے نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔ مختلف مساک کی تشریحوں نے عام مسلمان کو اُلجھا کر رکھ دیاہے۔ ہر مسلک یقینا،نیک نیتی اور عالمانہ سوچ کی بنیاد پر ہی بنا ہو گا۔اس قسم کی کیفیت ہر مذہب کے ساتھ ہوئی ہے۔ دین ِ موسوی اور عیسوی میں بھی مختلف فرقے بنے، آپس میں جنگیں ہوئیں۔

ہندو ویدک دھرم جب وسطیٰ اشیا سے ہندوستان میں آیا تو ہزاروں سال کے میل جول نے مقامی آبادی (دراوڑ، بھیل اور کَول) کے دیوتاؤں کو ہندوؤں نے بھی اپنا لیا۔یہ ہی ہندو دھرم جب ہندوستان سے باہر الجزائر بالی، ماریشس اور سُوری نام (ڈچ گیانا) گیا تو ہندو دھرم نے اِن سرزمینوں کے دیوی دیوتاؤں کو بھی اپنا لیا۔ یہ ہی حال بُدھ مَت کا ہوا، جس کو برما، تھائی لینڈ، تبت اور مشرقِ بعید کے ممالک نے اپنا لیا۔ ہندوستان میں بُدھ مذہب کو ماننے والے کم ہیں، لیکن جن ممالک میں بُدھ دھرم گیا، اُن ممالک کے اوریجنل مذہبی عقائد کو بھی بدھ دھرم نے اپنے عقیدے میں شامل کر لیا۔ خیال رہے کہ بُدھ مذہب میں خداکا تصّور نہیں ہے۔

ہمارے عُلما کو یہ جاننا چاہیے کہ اسلام آفاقی دین ہونے کے باوجود یہ دین اِنسانی تہذیبوں کی آمیزش سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ہمارے دینی اِکابرین اور عُلما وقتاً فوقتاً،دین کی تطہیر کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن اِنسانی جبلّت کو بدلنا بہت مشکل ہے۔ ہندوستان میں شاہ ولی اللہ، شاہ اسمٰعیل،اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں،مدرسہ دیو بند اور ندو ۃ العلما تطہیری عمل کا حصہ ہی تھے۔شیعہ علماء نے بھی کوشش ِ بسیار کے بعد اہل ِ تشیع کی ناپسندیدہ روایات کے خلاف بند باندھا۔

مجھے مسلمان ممالک کی سیر کرنے کا موقع مِلا اور میَں عادتاً اُن ممالک کے مذہبی تہوار اور رُسوم کو جاننے کی عمداً کوشش کرتا تھا۔ آپ یقین کریں کہ مجھے ہر جگہ عجیب و غریب رسوم والا اِسلام نظر آیا۔ دھمال اور مجنونانہ رقص دیکھ کر خا ص طور پر البانیہ کا وہ رقص جس میں مرد و زن مخلوط رقص بھی کر رہے ہوتے ہیں وہ تو میرے جیسے کم علم کو بھی سرا سر غیر اسلامی نظر آئے اور پیر صاحب سے نوجوان اور بوڑھے مرد و خواتین معانقہ بھی کر رہے ہیں،جبکہ پیر صاحب کی خوبصورت مرید لڑکیاں پیر کے ہاتھوں اور پاؤں کے بوسے لے رہی ہیں۔مَیں سمجھتا تھا کہ دھمالیں اور رقص صرف برصغیر کا حصہ ہیں،لیکن وسطیٰ اشیاء اور مشرقی یورپ کے مسلمان تو حالت ِ رقص میں وحشت کا سماں باندھ دیتے ہیں اور پھر بھی وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔سچ پوچھیں تو تہذیبیں اور رسم و رواج مذہبی اعتقادات پر کسی نہ کسی طور حاوی ہو کر ہر مذہب کی بنیادی شکل میں تبدیلی کا باعث بن جاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم