جینڈر بیسڈ وائیلنس قوانین کے حوالے 3 روزہ ورکشاپ کی اختتامی تقریب

جینڈر بیسڈ وائیلنس قوانین کے حوالے 3 روزہ ورکشاپ کی اختتامی تقریب

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے کہا ہے کہ صنفی بنیادوں پر جرائم کے حوالے سے جدید قوانین پر مکمل عبور جوڈیشل افسروں کے لئے بہت ضروری ہے۔وہ گزشتہ روز پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں جینڈر بیسڈ وائیلنس قوانین کے حوالے تین روزہ ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ جسٹس مامون رشید شیخ نے کہا کہ ہم پنجاب جوڈیشل اکیڈمی اور ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک کے ممنون ہیں کہ ہمارے جوڈیشل افسران کے لئے ایسی سیرحاصل ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد صوبہ بھر میں جینڈر بیسڈ وائیلنس کورٹس میں تعینات ججوں کو جدید جینڈر بیسڈ قوانین روشناس کروانا تھا اور آج یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ تمام شرکاء نے اس ورکشاپ سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ جسٹس مامون رشید شیخ کا کہنا تھا کہ لاہور میں جب پاکستان کی پہلی جینڈر بیسڈ وائیلنس کورٹ کا افتتاح کیا گیا تو وہ ایک تاریخی دن تھا، آج ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں اور معاشرے کے ہر فرد کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے حوالے سے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ انہوں نے ورکشاپ میں شریک ججوں میں اسناد بھی تقسیم کیں۔

، قبل ازیں ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی اور دیگر مقررین نے بھی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے اظہار خیال کیا،اختتامی سیشن میں لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس مامون رشید شیخ کے علاوہ ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری اشترعباس، ڈائریکٹرجنرل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی عبدالستار اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساجد علی اعوان سمیت دیگر جوڈیشل افسران، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے انسٹرکٹرز اور ایشیئن دویلپمنٹ بینک کے نمائندوں کے شرکت کی۔ ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد صوبہ بھر میں جینڈر بیسڈ وائیلنس کورٹس میں تعینات ججوں کو جدید جینڈر بیسڈ قوانین روشناس کروانا اور ان کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔

مزید :

علاقائی -