”وچ پسوڑی پاواں گے“

”وچ پسوڑی پاواں گے“
 ”وچ پسوڑی پاواں گے“

  

لوگ تو فخر سے کہتے ہیں ہمیں اتھری گڈی اور اتھری بُڈی پسند ہے لیکن بھائی ہمیں تو اتھرا وزیر اعظم پسند ہے۔ کبھی ویگنوں پر لکھا، پڑھا کرتے تھے ”ضد نہ کر سوہنیا، مَیں تے آپ بڑا ضدی آں“ اب اسے عملی طور پر دیکھ بھی لیں گے۔ جب ہمارے پیارے وزیر اعظم عمران خان ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، کبھی جب بادشاہ، بادشاہ سے ملتے تھے تو وہ ایک دوسرے کے لئے تحائف لے کر جاتے تھے، اب پاکستان کا بادشاہ امریکی بادشاہ سے ملے گا، امریکہ نے تحفے میں بلوچستان لبریشن آرمی کو دہشت گرد قرار دیا، ہم نے حافظ سعید کو جیل میں ڈال دیا اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ”میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو“بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دینے پر ہم جشن منائیں گے تو حافظ سعید صاحب کی گرفتاری پر ماتم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

ٹیچر نے کہا ”جیسے کو تیسا“ جملے میں استعمال کریں، سنتا سنگھ بولے ایک بار ہم خالہ بلونت کے گھر گئے تو وہ گھر نہیں تھیں، اگلی بار وہ گھر آئیں تو ہم پچھلے دروازے سے نکل گئے۔ اسے کہتے ہیں ”جیسے کو تیسا“ ہم سمجھ رہے تھے کہ حافظ سعید کو عدالت نے جیل بھیجا ہے، ہمیں کیا معلوم تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دو سال سے اس کام پر محنت کر رہے تھے۔بچے نے سنتا سنگھ سے پوچھا باپو مرد کسے کہتے ہیں۔ سنتا بولا اس پاور فل انسان کو جو گھر پر حکومت کرے سب اس کا کہنا مانیں۔ سنتا کا بیٹا بولا باپو میں بھی بڑا ہو کر امی جیسا مرد بنوں گا۔

اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے حکمران بڑے ہو کر ٹرمپ جیسے بن جائیں لیکن اتنا ضرور کہتے ہیں کہ بھکاری کے پاس انتخاب کی سہولت نہیں ہوتی۔ ہم نے جب بھی خود مختاری کی کوشش کی ہمیں چاروں طرف سے ایک ہی جواب آیا ”آپ کو مطلوبہ سہولت میسر نہیں۔“

سینٹ کا معاملہ جتنا سادہ نظر آتا ہے اتنا ہی ٹیڑھا بھی ہے۔ ہمارے پیارے چیئرمین سینٹ وزیر اعظم کی تھپکی کے بعد ویسے ہی شیر ہو چکے ہیں اور شیر بھی وہ والے جس پر ابھی برُا وقت نہیں آیا۔ وزیر اعظم نے چیئرمین سینٹ کو کہہ دیا ہے کہ ”ٹیڑھا ہے پر میرا ہے“ ”تسی کام چک کے رکھو۔ مجھے ڈر یہ ہے کہ اپوزیشن پوری کے چکر میں آدھی بھی ناگنوا بیٹھے۔ اس لئے اب بھی انہیں موقع ہے موڑ سے بچ جائیں ورنہ لنڈوری بلی کو تو جانتے ہی ہیں، اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں جب پانچ سینیٹرز کو ”گرے سٹ“ میں رکھا جا رہا تھا تو ان کی صفوں میں بیٹھے درجنوں ”بروٹس“ وچو وچ ککلیاں پا رہے تھے، بھیا یہ پاکستان ہے یہاں جنوں بھنوں وہ ہی لال نکلتا ہے اور سینٹ میں تو چند ایک کو چھوڑ کر سب شرطیہ میٹھے ہیں، جب مالک چاہے گا یہ مٹھے ایک ریڑھی سے اٹھا کر دوسری ریڑھی پر رکھ دے گا۔

اب اپوزیشن ایسے روحانی، مثالی، اخلاقی ماحول میں یہ سمجھ رہی ہے کہ جمہوریت کا بول بالا ہو گا اور دشمنوں کا منہ کالا ہو گا۔ ایک لڑکی دکاندار سے بولی ایسا صابن دے دو جو کم گھسے، سستا ہو اور چہرہ بھی لال کر دے سنتا سنگھ بولا باجی نوں اٹ دا ٹوٹا دے دیو۔میرا اپوزیشن کو مشورہ ہے کہ جمہوریت کی اس دکان سے بنتا سنگھ انہیں صرف اینٹ کا ٹوٹا دے سکتا ہے۔ سو میری جان کے ٹوٹے جتنا مل جائے اس پر قناعت کر لیں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے کیونکہ ”کو کلہ چھپاتی جمعرات آئی اے، جیہڑا آگے پیچھے تکے اودھی شامت آئی اے“ عقلمند کو اشارہ کافی ہوتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری سے سب کو کن ہو جانے چاہئیں یہ عقلمندی نہیں کہ آپ کے کن تھلے وجے تو ہی آپ کو سمجھ آئے گی۔

مریم بی بی اپنے والد کی جنگ اکیلی لڑ رہی ہیں وہ جانتی ہیں کہ ان کی جیب میں جتنے سکے ہیں سب کھوٹے ہیں۔ کام والے سکے نیب چن چکی ہے۔”کھیڈاں گے نا کھڈاواں گے،تے وچ پسوڑی پاواں گے“ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مریم بی بی نے ایسی پسوڑی ڈالی ہے کہ اب اگر وہ ڈوبیں گی تو بچے گا کوئی بھی نہیں۔ بنتا سنگھ نے رات کے تین بجے مالک مکان کو فون کیا اور بتایا اسے نوکری سے نکال دیا گیا ہے اس لئے وہ اس ماہ کا کرایہ نہیں دے سکے گا۔ مالک مکان نے نیند سے بھری آواز میں کہا یار یہ بات تم صبح بھی کہہ سکتے تھے۔ بنتا سنگھ بولا میں نے سوچا میں کلاّکیوں پریشانی میں جاگوں۔

مزید :

رائے -کالم -