قبائلی اضلاع میں الیکشن پر اعتماد نہیں ،ملک میں درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے ،مولانا فضل الرحمن

    قبائلی اضلاع میں الیکشن پر اعتماد نہیں ،ملک میں درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کی ...

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے اسوقت ملک میں کوئی حکومت نہیں اور حقیقت میں صرف اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے ۔ جامعہ اشرفیہ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انکاکہنا تھا موجودہ حکومت کے پہلے بجٹ کے بعد ہی عوام اور تاجروں نے جو ردعمل دیا ہے یہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر قومی سطح کا عدم عتماد ہے، ہم سیاسی لوگ پہلے سے ہی یہ بات کر رہے ہیں انہیں حق حکمرانی ہی حاصل نہیں ، یہ دھاندلی کی بنیادی پر حکومت میں آئے ہیں اور سیاسی جماعتیں انہیں قبول نہیں کر رہی ہیں ، 25جولائی کو اس حوالے سے پورے ملک میں یوم سیاہ منایا جائے گا اور تمام بڑے شہروں میں اپوزیشن جماعتیں مشترکہ جلسے کریں گی اور پوری دنیا کو بتایا جائے گا 25 جولائی پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جس روز عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا اور ناجائز حکومت ملک پر مسلط کردی گئی تھی، 2باتیں بڑی اہم ہیں ، ایک اس حکومت کا حق حکمرانی اور دھاندلی کے نتیجے میں اس کا برسر اقتدار میں آنا جو آج تک قبول نہیں ہو سکا جبکہ دوسرا ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں ملک کی معیشت کی تباہی، سیاسی و معاشی پالیسیوں کے مثبت یا منفی اثرات عوام تک 3 سالوں میں پہنچتے ہیں لیکن یہاں تو رات کو جو فیصلہ ہوتا ہے اس پر صبح آدمی تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے، جو لوگ ملک کی معیشت کی تباہی کہ ذمہ دار ہیں آج وہ دھڑا دھڑ سیاسی پارٹیوں کے اراکین کو گرفتار کر رہے ہیں اور روزانہ ایک بڑی خبر بنا کر لوگوں کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹانے کی کوشش ہوتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوگا، عام آدمی انتہائی مشکل میں ہے اور مہنگائی نے اس کی کمر توڑ دی ہے تاہم ہم عوام کے شانہ بشانہ ان حالات کا مقابلہ کرتے رہیں گے ۔ مجھے یقین ہے اس وقت ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے، حقیقت میں حکومت صرف اسٹیبلشمنٹ کی ہے اور وہی انہیں ایک ظاہری مہرہ بنا کر پیش کر رہے ہیں ۔ سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کےخلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے انکا کہنا تھا تحریک کو کامیاب بنانے کےلئے اپوزیشن کے پاس مطلوبہ تعداد سے زیادہ اراکین ہیں ، اسلئے اس میں ناکامی کا کوئی احتمال نہیں اور اپوزیشن کو چیئرمین سینیٹ تبدیل کرنے کا پورا حق حاصل ہے ۔ قبائلی اضلاع میں انتخابات سے متعلق ان کا کہنا تھا ہم الیکشن پر اعتماد نہیں کر رہے، اس عمل میں حصہ صرف عوام سے رابطے کےلئے لے رہے ہیں لیکن نتاءج کے بعد حتمی موقف سامنے لائیں گے ۔ کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی گرفتاری امریکہ کے دباوَ پر کی گئی اور دباوَ ڈالنے کی بات خود امریکی صدر نے تسلیم کی، حافظ سعید کوایسے وقت میں گرفتارکیا گیا جب عمران خان امریکہ جارہے تھے ۔ مدارس پہلے ہی قومی دھارے میں ہیں ، ملک کے کونے کونے میں دینی مکاتب اور مدرسے موجود ہیں تو قومی دھارا پھر کس کو کہتے ہیں ، اگر وہ کہتے ہیں مدارس قومی دھارے میں آئیں تو ہمارا بھی مطالبہ ہے پہلے یہ لوگ اسلامی دھارے میں آئیں ۔

فضل الرحمن

مزید :

صفحہ اول -