وزیراعظم کا دورہ امریکہ سفارتی شطح پر تیسرے درجے کا دورہ تصور ہوگا 

وزیراعظم کا دورہ امریکہ سفارتی شطح پر تیسرے درجے کا دورہ تصور ہوگا 

تجزیہ: میاں ہارو ن رشید

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ امریکہ سفارتی سطح پر تیسرے درجے کے دورے میں شمار ہوگا۔ اس درجہ سوم کے دورے کو ’آفیشل ورکنگ وزٹ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ پہلے نمبر پر ’سٹیٹ وزٹ‘ ہوتا ہے جس کی دعوت امریکی صدر کی جانب سے صرف صدور یا بادشاہوں کو دی جاتی ہے۔ اس میں حکومت کا سربراہ یا وزیر اعظم شامل نہیں ہوتا۔اس نوعیت کے دورے کم ہوتے ہیں۔ اس دورے کے دوران غیر ملکی مہمانوں کو وائٹ ہاؤس سے چند میٹر دور واقع بلیئر ہاؤس میں 4 روز اور تین راتوں تک ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس درجہ اول کے دورے کے دوران امریکی صدر کی جانب سے غیر ملکی سربراہان کو عشائیے میں مدعو کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر اعزازی تقریبات کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور معزز مہمان کو 21 توپوں کی سلامی پیش کرنے کیساتھ ساتھ تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ تقریبات میں میڈیا نمائندے بھی شرکت کر سکتے ہیں۔دوسرے درجے کے دورے کو آفیشل وزٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ جو ریاست کے سربراہ کیلئے مخصوص ہے۔ یہ دورہ بھی امریکی صدر کی دعوت پر کیا جاتا ہے۔ یہ بھی پہلے درجے کی طرح کا ہوتا ہے تاہم اس میں سربراہِ مملکت کو 21 کی بجائے 19 توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔ تیسرے درجے کا دورہ آفیشل ورکنگ وزٹ کہلاتا ہے۔ اس دورے کی دعوت امریکی صدر کی جانب سے کسی ریاست کے سربراہ یا سربراہ حکومت کو دعوت دی جاتی ہے۔اس دورے کے دوران غیر ملکی مہمان کو بلیئر ہاؤس میں 3 دِن اور 2 رات کے لیے ٹھہرایا جاتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان بھی آفیشل ورکنگ وزٹ پر امریکا کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔اس درجے میں غیرملکی سربراہ کو عشائیہ دیا جانا لازمی نہیں۔ البتہ امریکی صدر سے ملاقات کے بعد غیر ملکی سربراہ کو ظہرانہ دیا جاتا ہے جس میں امریکا کے سیکرٹری سٹیٹ شرکت کرتے ہیں۔ تاہم سربراہان کی اہلیہ ظہرانے میں شرکت نہیں کرتیں اور نہ ہی تحائف کے تبادلے ہوتے ہیں۔اس درجے میں غیر ملکی سربراہ کی وائٹ ہاو س آمد اور روانگی پر اعزازی تقریبات کا انعقادنہیں کیا جاتا اور نہ ہی توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔ اس درجے میں صحافیوں کو بھی صرف چند تصاویر لینے کی اجازت ہوتی ہے۔ 

تجزیہ: میاں ہارو ن رشید

مزید : تجزیہ