وزیراعظم کا دورہ امریکہ،ملکی سیاسی وعسکری قیادت کا امتحان

وزیراعظم کا دورہ امریکہ،ملکی سیاسی وعسکری قیادت کا امتحان

(تجزیہ،مبشرمیر)

وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات جنوب اور وسط ایشیائی خطے میں بحران میں اضافہ یا کمی کرنے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی،وزیراعظم پاکستان نے اگرامریکی صدر کو اپنی حمایت کا یقین دلادیا تو بحران میں سنگین اضافہ ہوجائیگا،اس صورتحال میں امریکہ ایران پر دباؤ بڑھادے گا،جس سے جنگ کے امکانات بڑھ جائینگے،ایران کو اگر مکمل طور پر دیوار سے لگادیا گیا یا دیواروں میں چننے کی کوشش کی گئی تو ردعمل میں ایران بھی امریکی مفادات پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔امریکہ چاہتا ہے اکستان 9/11کے بعد کی صورتحال کی طرح اپنے مفادات کو بھول کر غیر مشروط حمایت کا یقین دلائے۔ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پروفیسر سعید کا ہوا کھڑا کرکے کشمیر ایشو پر خاموش رکھنے کی کوشش کی گئی،اسی طرح ڈاکٹر شکیل آفریدی کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے۔افغانستان کی صورتحال میں طالبان کیساتھ مذاکرات میں پاکستان سے مدد لی گئی اس میں سردست بھارت لاتعلق نظر آتا ہے لیکن امریکہ کی شدید خواہش ہے پاکستان افغانستان کی نئی صورتحال میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے آواز نہ اٹھائے۔امریکہ کی نظر یں ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں کے توانائی کے ذخائر پر بھی ہیں۔وہ خاص طور پر ایران کو اپنی مرضی سے تیل اور گیس کے ذخائر فروخت کرنے نہیں دے گا۔اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں جو بحران پیدا کیا گیا ہے اسے اپنی خواہش کی تکمیل تک ختم ہونے نہیں دے گا۔امریکہ کا مقصد روس،چین،ایران اور ترکی کے بلاک میں پاکستان کی شمولیت کو روکنا بھی ہے۔اسی وجہ سے ایران اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری میں رکاوٹیں موجود ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے عرب دنیا سے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں۔خاص طور پر سعودی عرب پاکستان تعلقات کا کردار اہم ہے۔خطے میں امریکہ کی موجودگی پر شام،لبنان،عراق اور متحدہ عرب امارات بھی اپنے پالیسی بیانات دے چکے ہیں لیکن پاکستان نے ابھی تک اپنی پالیسی واضح نہیں کی،یہی وجہ ہے وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ جس میں پاکستان کی عسکری قیادت بھی ساتھ ہے بہت اہم ہے۔اس پر امریکہ کی خواہش ہے پاکستان اس کی حمایت میں اپنا پالیسی بیان جاری کرے،جس کے بعد امریکہ کیلئے بحران کو جنگ میں تبدیل کرنا آسان ہوجائے گا۔وزیراعظم عمران خان کو بھی دیکھنا ہوگا امریکہ کی حمایت کی وجہ سے خطے کے دیگر ممالک خاص طور پر روس،چین،ایران اور ترکی کی پاکستان کے متعلق رائے تبدیل ہوسکتی ہے۔بھارت،اسرائیل اور عرب ممالک نے اگر امریکہ کا ساتھ دیا تو ایران کی حمایت میں روس،چین اور ترکی نمایاں ممالک ہونگے۔اس طرح خطے میں تیسری عالمی جنگ کا خطرہ منڈلانے لگے گا۔چین کا ون بیلٹ ون روڈ (ایک پٹی ایک شاہراہ)75ممالک تک پھیلا ہوا منصوبہ سبوتاژ ہوسکتا ہے۔پاکستان کیلئے ترقی کا راستہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہوگا۔اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار سب سے اہم ہے۔ماضی میں امریکہ نے افغانستان روس جنگ اور افغانستان میں القاعدہ کیخلاف جسے دہشتگردی کیخلاف جنگ قرار دیا گیا دونوں جنگیں پاکستان کی حمایت سے لڑیں۔اب اگر وہ ایران کیخلاف محاذ جنگ کھولنا چاہتا ہے تو اسے ایک مرتبہ پھر پاکستان یاد آگیا ہے۔پاکستان نے ان دونوں جنگوں میں شامل ہو کر اپنے ملک اور معاشرہ کو برباد کرلیا،منشیات،آتشیں اسلحہ،دہشتگردی،کرپشن،اقرباپروری سے بھرپور سیاست،تباہ حال نظام،قرضہ میں جکڑی ہوئی معیشت جیسی کئی مصیبتیں اپنے سر لیں۔وزیراعظم عمران خان اگر تیسری مرتبہ مونگ پھلیوں کے عوض اپنے دروازے امریکہ کیلئے کھول دیں گے تو پاکستانی قوم کی مستقبل کی گاڑی تیسری بار تاریک راہوں پر چل پڑے گی۔وزیراعظم عمران خان اپنے دورہ امریکہ میں محبت اور امن کا دوٹوک پیغام دینے میں کامیاب ہوگئے تو وہ نئی تاریخ رقم کردیں گے۔پاکستان کی پارلیمان میں خطے کی موجودہ صورتحال اور وزیراعظم پاکستان کے دورہ امریکہ پر مباحثہ نہیں ہوا۔وزیراعظم وفاقی کابینہ میں بھی اسے اس انداز سے زیر بحث نہیں لائے کہ کوئی مشاورت کا تاثر نظر آتا۔اس وقت پاکستان کی برسراقتدار سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کا امتحان ہے وہ اس خطے کے عوام کیلئے خوشخبری لانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

تجزیہ،مبشر میر

مزید : تجزیہ