حکمران گرفتاریوں سے ہماری آواز کو نہیں دبا سکتے،مشاہد اللہ

  حکمران گرفتاریوں سے ہماری آواز کو نہیں دبا سکتے،مشاہد اللہ

  

لاہور(این این آئی) مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما وسینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاہے کہ حکمران گرفتاریوں سے ہماری آواز کو نہیں دبا سکتے، رانا ثناء ا للہ پر جھوٹا اور بے بنیاد کیس بنایاگیا، رانا ثناء اللہ کے کیس کو کوئی شخص بھی ماننے کو تیار نہیں، ایسے ہتھکنڈوں سے (ن) لیگ ڈرنے والی نہیں (بقیہ نمبر7صفحہ12پر)

،رانا ثناء اللہ اپنے خلاف کیس پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ سینیٹرمشاہد اللہ خان نے رانا ثنا اللہ کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ جدوجہد کی مثال ہیں رانا ثنا اللہ،مشرف دور میں بھی تکالیف اٹھائیں،جو کیس ان پر بنایا گیا یہ ایسا کیس ہے کہ دنیا کا ایک بھی آدمی اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہاکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جن اداروں نے یہ کیس بنایا انہوں نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ ہمارے خلاف انتقامی کاروائیاں ہو رہی ہیں ہمیں معلوم ہے۔رانا ثنا اللہ کی آواز کو ایسے نہیں دبایا جا سکتا۔رانا ثنا باللہ کے اہل خانہ نے جرات سے حالات کا مقابلہ کیا۔ملک کے عوام کیساتھ عجیب کھیل کھیلا جا رہا ہے،ملکی معیشت کو تباہی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف ان لوگوں میں سے جس نے سی پیک شروع کیا اور گیارہ ملین ڈالر لیکر آئیے اس حکومت نے سی پیک جو پس پشت ڈال دیا،چور ڈاکو ہوتے تو پانامہ پانامہ کرتے اقامہ نہ نکالتے۔عملی طور پر پاکستان کی معاشی طاقت کو نقصان پہنچایا۔ایک ڈیزائن کے تحت ساری باتیں ہو رہی ہیں۔ان قوتوں کی بہت بڑی کامیابی ہے سی پیک کو رکوانا جو کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے۔ا نہوں نے کہاکہ ملک کو سنوارنے کی سزا مسلم لیگ (ن) کو دی جا رہی ہے۔شاہد خاقان عباسی نے گیس بحران پر قابو پایا اور سستا ترین معاہدہ کیا۔نواز نے ملک کو ترقی دی اس کی سزا دی جا رہی ہے۔نیب کا چیئرمین کہتا ہے کہ اگر میں نے اس حکومت کیخلاف کوئی ایکشن لیا تو یہ گر جائے گی۔کے پی کے میں جو کیا اس حکومت نے اس کا حساب بھی انہوں نے دینا ہے۔عمران خان پنجاب اور کے پی کے کو بنی گالا سے چکا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ رانا ثنا اللہ کو بند کر دیا وہ برداشت کر لے گا مگر یہ لوگ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ہم تو عادی ہیں مگر ان سے تپش برداشت نہیں ہو گی۔عمران خان سمیت کوئی آدمی ایسا نہیں جو کرپشن میں ملوث نہ ہو۔اے این ایف نے اپنی ساکھ کو ختم کر لیا۔این ایف کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے رانا ثنا اللہ کے کیس کا ریفرنڈم کروا لیں کہ کیا یہ مقدمہ ٹھیک ہے۔

مشاہد اللہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -