پشاور(خصوصی رپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقہ جات می

پشاور(خصوصی رپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ قبائلی ...

  

قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات تاریخی کارنامہ ہے:محمود خانں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ایک تاریخی کارنامہ ہے، جو نہ صرف قبائلی اضلاع بلکہ پورے پاکستان کیلئے خوشی اور مبارکباد کا دن ہے۔ قبائلی علاقہ جات کو ترقی کے قومی دہارے میں شامل کرنا پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کا ویژن تھا، قبائلی اضلاع میں انتخابات کا پر امن انعقاد بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے،جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائیگا۔ مختلف ٹی وی چینلزپر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں قبائلی اضلاع کی نمائندگی پہلے سے موجود تھی تاہم اب صوبائی اسمبلی میں بھی ان کے نمائندے ہوں گے جو قبائلی عوام کے مسائل کو بہتر اندازمیں پیش کر سکیں گے اور انکی نمائندگی کریں گے، یہ تحریک انصاف حکومت کی نمایاں کامیابی ہے جو قبائلی عوام کی ترقی کے لئے سنگ میل ثابت ہو گی۔ قبائل کی پسماندگی ماضی کا حصہ بن جائے گی۔قبائلی عوام نے انتخابات میں بھر پور جوش و خروش سے حصہ لیا ہے جو خوش آئند ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت نے انتخابی عمل میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی کیونکہ ہم قبائلی عوام کی توقعات اور خواہشات کیمطابق ان کی ترقی کے خواہاں ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ قبائلی عوام کے نمائندے شفاف طریقے سے اسمبلی میں آئیں اور جو بھی نمائندے آئیں وہ اپنا کردار اچھے طریقے سے ادا کریں۔ ضم شدہ اضلاع کیلئے ترقیاتی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 162ارب روپے مختص کئے ہیں، اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان اور پاک فوج کے کردارکا شکریہ ادا کرتے ہے۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا پہلا صوبہ ہے جس نے اپنے این ایف سی ایوارڈ میں سے 11ارب روپے قبائلی علاقہ جات کو دئیے ہے۔ باقی صوبوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔ محمود خان نے واضح کیا کہ قبائلی اضلاع قومی دہارے میں شام ہو چکے ہیں، اب ان کو ترقی ملے گی۔ ہم نے قبائلی اضلاع کے لئے دس سالوں پر مشتمل ترقیاتی حکمت عملی وضع کی ہے۔ ترقیاتی حکمت عملی کی تشکیل میں تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے اور اس کو مدنظر رکھ کر پلان وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی پلان میں تعلیم اور صحت کے اہم منصوبے شامل ہے، پانی کی سکمیں ہیں، ایریگیشن، روڈز، بجلی اور دیگر تمام شعبوں کیلئے قابل عمل منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ آزاد مانیٹرنگ یونٹس بھی قبائلی اضلاع میں کام کر ر ہے ہیں، سکولوں اور ہسپتالوں کا ڈیٹاتقریباً ہمارے پاس آچکا ہے آئندہ جتنے بھی ترقیاتی و فلاحی اقدامات ہو ں گے ان میں شفافیت ہوگی، آنے والا وقت قبائل عوام کے لئے خوش آئند ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تما م اداروں کو نئے اضلاع تک توسیع دی جا چکی ہے جو چیک اینڈ بیلنس کا نظام دیگر اضلاع میں موجود ہے وہی نئے اضلاع میں بھی ہو گا۔ امید ہے کہ بتدریج بہتری کیطرف جائیں گے اور یہ علاقے ترقی کریں گے۔محمود خان نے کہاکہ قومی دہارے میں شامل ہونے کے ثمرات قبائلی اضلاع کو ملنا شروع ہو چکے ہیں۔ تمام قبائلی خاندان صحت سہولت پروگرام سے مستفید ہوں گے، صحت انصاف روزگار سکیم کا اجراء کیا گیا ہے جس سے قبائلی نوجوانوں کو قرضے فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔

محمود خان

مزید :

صفحہ اول -