ماضی کے حکمرانوں نے اداروں کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کی:گورنر سندھ

ماضی کے حکمرانوں نے اداروں کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کی:گورنر سندھ

  

حیدرآباد(بیورو رپورٹ)گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے ماضی کی حکومتوں نے اداروں کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کی، حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں معاہدہ ہو گیا ہے اور اس کے لیے فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں، وفاقی حکومت کا مقصد عوام کی خدمت ہے، میں اور وفاقی حکومت سندھ کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے جو کر سکتے ہیں کریں گے اور اس کے لئے وہ کسی بھی جماعت اور شخصیت کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہیں، وزیر اعظم سندھ با الخصوص اندرون سندھ میں لوگوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ ہیں اور انہوں نے مجھے بھی کہا تھا کہ تم بحیثیت گورنراگر سندھ کے لوگوں کا بھلا کر سکتے ہو توکرو ورنہ واپس آجاؤ، ہماری کوشش ہے کہ ہم سندھ کیلئے وہ ترقیاتی کر جائیں جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قاسم آباد میں قومی عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایاز لطیف پلیجو ایڈوکیٹ سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، ایک سوال پر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ سندھ کے پانی کے مسئلے پر وہ وزیر اعظم پاکستان سے بات کرینگے اور یقین دلایا کہ ارسا سے سندھ کاپانی کا جائز حصہ دلوانے کیلئے سندھ کا مقدمہ پیش کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ بدین،ٹھٹھہ اور دیگر سندھ کے علاقوں میں پانی کی کمی ہے اور لوگوں کو پینے کے پانی کے حصول میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں جس کیلئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سے بات کرینگے کہ کہیں جان بوجھ کر ان علاقوں میں پانی کی فراہمی میں رکاوٹیں تو نہیں ڈالی جا رہی اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے اور سندھ میں گیس کی لوڈ شیڈنگ سے متعلق بھی وہ وزیر اعظم پاکستان سے بات کرینگے، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ میں ترقیاتی کاموں کیلئے وفاق کی جانب سے 42ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ لاڑکانہ اور دیگر جگہوں پر ایچ آئی وی /ایڈزکی روک تھام کیلئے بھی وفاقی حکومت مدد کر رہی ہے اور اس کے لیے اربوں روپے فنڈز بھی دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سندھ کے مختلف اضلاع میں ٹڈی دل سے بچاؤ کیلئے وفاق کی جانب سے صوبائی حکومت کی بھرپور مدد کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں گورنر راج لگانے کی بات نہ پہلے ہمارے ذہن میں تھی نہ اب ہے اور اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہمیں سندھ میں گورنر راج لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق، صوبوں اور سینیٹ میں تبدیلی آئینی اور جمہوری طریقے سے ہی آ سکتی ہے جس کے مطابق جواکثریت ثابت کریگا وہ تبدیلی لے آئیگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ سندھ میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی وزیر اعلیٰ سندھ سے بات کرینگے اور ان واقعات کی روک تھام کیلئے وہ اپنا ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت معاشی بحران سے گذر رہا ہے اور اس بحران سے نکلنے کیلئے لوگوں کو ٹیکس دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم سب سے زیادہ زکواۃ و خیرات دینے والی قوم ہے مگر لوگوں کو پچھلی حکومتوں پر اعتماد نہیں تھا اس لیے وہ ٹیکس نہیں دیتے تھے مگر اب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ان کے ٹیکس کی رقم ان پر ہی خرچ کی جائیگی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے اور ملک کی دو بڑی حکمران جماعتوں نے ماضی میں اپنی حکومتوں میں ایک دوسرے خلاف کیسز بنائے، سندھ میں نیب کی کاروائیوں کی سست روی سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے اورماضی کی حکومتوں نے اداروں کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔ایک سوال کے جواب میں گورنر سندھ نے کہا کہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں معاہدہ ہو گیا ہے اور اس کے لیے فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -