جنونی ہندوؤں نے تاج محل میں پوجا کرنے کی دھمکی دیدی

  جنونی ہندوؤں نے تاج محل میں پوجا کرنے کی دھمکی دیدی

  

نئی دہلی(آن لائن) انتہا پسند ہندوؤں کی جماعت شیوسینا کی جانب سے ملنے والی دھمکی کے بعد بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ نے ضلعی انتظامیہ سے باقاعدہ مدد مانگ لی ہے۔ شیوسینا نے دھمکی دی ہے کہ تاریخی عمارت تاج محل چونکہ تیجو مہالیہ ہے جو ہندوؤں کے عقیدے کی علامت ہے اس لیے وہ موجودہ ساون (مون سون) کے چاروں سوموار (پیر) کو عمارت کے اندر جا کر آرتی اتاریں گے۔شیو سینا کی جانب سے دھمکی اس کے صوبائی صدر وینو لوانیا نے دی ہے جس پر بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق محکمہ ا?ثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے افسران کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں۔سپرنٹنڈنٹ آرکیالوجسٹ (ماہر آثار قدیمہ) بسنت سورنکار نے آگرہ کے ضلعی مجسٹریٹ این جی روی کمار کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ماضی میں بھی کبھی تاج محل میں کوئی پوجا، ارچنا یا مہا ا?رتی نہیں ہوئی ہے اس لیے نئی روایت کو قائم ہونے سے روکا جائے۔محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے 18 جولائی 2019 کو ضلعی مجسٹریٹ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’انسینٹ مونومنٹ اینڈ آرکیالوجیکل سائٹس ریمینز ایکٹ 1958 کی شق 5 (6) اور اصول 19598 (ایف) کے تحت محفوظ یادگار میں کسی بھی طرح کی مذہبی رسومات کو ادا کرنا اور کسی نئی روایت کو قائم کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) کے پی سنگھ نے کہا ہے کہ شہر میں نظم و نسق کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اے ایس آئی (آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا) کی درخواست پر تاج محل میں معقول حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے۔

پوجا

مزید :

صفحہ آخر -