ریڈیولوجی سینٹرز کو ضابطہ اخلاق میں لانے کیلئے اہم اجلاس

  ریڈیولوجی سینٹرز کو ضابطہ اخلاق میں لانے کیلئے اہم اجلاس

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی) اور پاکستان نیو کلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (پی این آر اے) کے ماہرین کی میٹنگ کراچی میں ہوئی،جس میں سندھ بھر میں قائم ریڈیولوجی سینٹرز کو ضابطہ اخلاق میں لانے، معیار میں بہتری اور تشخیص وطبی آلات کی حالت کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایچ سی سی اور پی این آر اے کی میٹنگ ہوئی جس میں ڈائریکٹر پی این آر اے خالد حسین کی سربراہی میں ماہرین نے شرکت کی۔ ایس ایچ سی سی کے ماہرین نے غیر معیاری ایکسری مشینوں و دیگر طبی آلات، تابکاری کے اثرات اور اس کے حوالے سے آگاہی اورلیبارٹریوں میں خلاف ضابطہ پریکٹس ودیگر امور کے حوالے سے شرکاء آگاہ کیا۔ ایس ایچ سی سی کی ٹیم نے کسی بھی لیبارٹری کے لائسنس کے اجراء سے پہلے اس کے معائنہ اور سر ٹیفیکٹس کی تصدیق سے مشرو ط کرنے کی سفارش کی۔ جبکہ ٹیم نے لیبارٹری کے لائسنس کے اجراء سے پہلے معائنہ کیلئے اپنے ماہرین کی خدمات بھی پیش کیں۔ جس پر پی این آر اے کے ماہرین نے مستقبل میں ایس ایچ سی سی کے ماہرین سے مل کر کام کرنے کی تجویز قبول کرلی اور جلد اس حوالے سے پی این آر اے کی ٹیم ٹریننگ ورکشاپ میں شرکت کرے گی۔ آخر میں دونوں اداروں کے ماہرین نے مستقبل میں سندھ میں صحت کی سہولیات میں بہتری لانے کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ آف کمپلینٹس کو اسپتالوں سے متعلق چار مزید شکایات وصول ہوئیں جس میں سے ایک حل کرلیا گیا ہے،جبکہ ٹوٹل 82میں سے 47شکایات کو کامیابی کے ساتھ حل کیا جاچکا ہے اور 30حل کیا جارہا ہے جبکہ پانچ دیگر قانونی طریقے سے حل کی جارہی ہیں۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیم نے ڈائریکٹر اور انسپکٹر سولڈ ویسٹ مینجمنٹ سے ملاقات کی اور اسپتالوں کے طبے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ میٹنگ میں ایس ایچ سی سی کی جانب سے یہ تجویز دی گئی کہ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ ایک افسر کو مخصوص کرے جو ایس ایچ سی سی کی ٹیم کے ساتھ طبے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے طریقے کار کا معائنہ کرے اور عمل نا کرنے والوں پر جرمانہ کیا جاسکے۔ ڈائریکٹوریٹ آف لائسنسگ اینڈ ایکریڈیشن کو 311مزید اسپتالوں نے رجسٹریشن کیلئے درخو استیں جمع کروادیں جبکہ 150صحت کے مراکز کو رجسٹریشن سرٹیفیکٹس کا اجراء کیا گیا جس سے ٹوٹل رجسٹرڈ اسپتالو ں کی تعداد 5443ہوگئی۔ اسی طرح غیر رجسٹرڈ اسپتالو ں کو وارننگ نوٹسز جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہیں اور30 ا جون سے اب تک 1041صحت کو مراکز کو وارنگ جاری کی جاچکی ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 504اسپتالوں وکلینک کو وارننگ نوٹسز جاری کئے گئے۔ جبکہ ایس ایچ سی سی کی ٹیم نے نیشنل میڈیکل سینٹر کا معائنہ بھی کیا۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے تحت اتائیوں کے خلاف کراچی اور سانگھر میں کارروائیاں جاری ہیں او ر120مزید کلینکس کو سیل کردیا گیا او رسندھ بھر میں اب تک 1647صحت کے مراکز کو بند کیا جاچکا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -