’ دفتر خارجہ پلاننگ نہیں کرتا بلکہ رد عمل دیتا ہے جو ۔۔۔ ‘لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب نے خارجہ پالیسی کی بڑی ناکامی کی نشاندہی کردی

’ دفتر خارجہ پلاننگ نہیں کرتا بلکہ رد عمل دیتا ہے جو ۔۔۔ ‘لیفٹیننٹ جنرل ...
’ دفتر خارجہ پلاننگ نہیں کرتا بلکہ رد عمل دیتا ہے جو ۔۔۔ ‘لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب نے خارجہ پالیسی کی بڑی ناکامی کی نشاندہی کردی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)دفاعی تجزیہ کارلیفٹیننٹ جنرل(ر) امجد شعیب نے کہاہے کہ ہم پلاننگ نہیں کرتے ، دفتر خارجہ میں بھی کوئی پلاننگ نہیں ہے ، ہم ری ایکشن کرتے ہیں ، ہم امریکہ اور بھارت کے بارے میں رد عمل دیتے ہیں لیکن کوئی منصوبہ بندی نہیں کرتے ، ہم لمحہ بہ لمحہ زندہ ہیں اور انڈیا نے دنیامیں ہماری ساکھ خراب کرکے رکھ دی ہے ۔

نجی نیوزچینل 92کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل(ر) امجد شعیب نے کہاہے کہ امریکہ کی اپنی بھی ایک سوچ ہے ،  امریکہ نے پاکستان کواہمیت دی کہ پاکستان کا ہمارا نان نیٹو اتحادی ہے لیکن جب امریکہ کی پالیسی تبدیل ہوئی تو  انہوں نے بھارت کو اہمیت دینا شروع کردی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ہم پر جو الزام لگایا جاتاہے ، وہ امریکہ نے بھی اپنا لیا ہے ، اسی وجہ سے کہا جارہاہے کہ پاکستان کی جانب سے کالعدم تنظیموں اوردہشت گردی کے خلاف جو اقدامات کئے جائیں وہ مستقل  ہوں،یہ ایک چھڑی ہے جو امریکہ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے جب مرضی یہ کہہ دیں گے کہ آپ کی جانب سے ان تنظیموں اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے ہم مطمئن نہیں ہیں ۔

امجد شعیب نے کہا کہ پاکستان کی امریکہ میں سفارت کاری کی ناکامی یہ ہے کہ جو ہمارے لوگ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں مارے گئے ، وہ قتل کئے گئے اور یہ قتل بھارتی ایما پر کئے گئے ہیں، اس کے علاوہ کلبھوشن جو بلوچستان سے پکڑا گیا ہے اور اب عالمی عدالت انصاف سے بھی اس کو جاسوس قرار دیدیا گیا ہے لیکن ہم دنیا کے سامنے اپنا یہ بیانیہ اچھے طریقے سے پیش نہیں کرسکے ۔

مزید :

قومی -