سی پیک منصوبہ سے بلوچستان سمیت ہمسایہ ممالک میں امن ترقی اور خوشحالی آئے گی،فرینڈز آف سلک روڈ کانفرنس میں مقررین کا خطاب

سی پیک منصوبہ سے بلوچستان سمیت ہمسایہ ممالک میں امن ترقی اور خوشحالی آئے ...
سی پیک منصوبہ سے بلوچستان سمیت ہمسایہ ممالک میں امن ترقی اور خوشحالی آئے گی،فرینڈز آف سلک روڈ کانفرنس میں مقررین کا خطاب

  

کوئٹہ(آن لائن)ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری،گورنر بلوچستان ریٹائرڈجسٹس امان اللہ یاسین زئی اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء مشاہدحسین سید نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ سے بلوچستان سمیت ہمسایہ ممالک میں امن ترقی اور خوشحالی آئے گی،سی پیک پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن ہے، سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سی پیک کی کامیابی کے لئے تمام سیاستدان ایک پیج پر ہیں، شاہراہ ریشم کے(دیرینہ دوست) مہم پاکستان اور چین کے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان بہتر تعلقات کو استوار کے علاوہ سی پیک منصوبہ جیسے میگاپروجیکٹ کو موثر انداز میں سمجھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے،اس سے ملک کے عوام کو سی پیک اور اس کے فوائد کے حوالے سے آگاہی حاصل ہوگی اور اس منصوبہ کے لوگوں کو معیار زندگی پر پڑنے والے مثبت اثرات بھی اشکار ہوجائیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں فرینڈز آف سلک روڈ بلوچستان کانفرنس کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر صوبائی وزراء انجینئرزمرک خان اچکزئی، سردارعبدالرحمان کھیتران،عبدالخالق ہزارہ، شیخ جعفرخان مندوخیل اوررحمت صالح بلوچ بھی موجود تھے۔ ڈپٹی چیف آف مشن چایئنز ایمبیسی لی جیان ژاونے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو گیا،سی پیک کے تحت بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پایا گیا ہے ، کسانوں کو ٹریکٹرزسمیت دیگر زرعی مشینری فراہم کی جائے گی، پاکستانی طلبہ کو سالانہ ہزار سکالر شپس دی جائیں گی، چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کی امریکہ اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے والوں طلبہ سے زیادہ ہے ،چین پاکستان کے 30 ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات فراہم کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں ووکیشنل سینیٹر اور ڈی سینیٹیشنز پلانٹ لگائے جائیں گے ،چین میں بھی بجلی کے پیداوار کے لئے کوئلے پر انحصار کیا جاتا ہے، یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان کو کوئلے سے بجلی بنانے کے پرانے پلانٹ فراہم کئے۔

انہوں نے کہا کہ تھر میں مقامی کوئلے سے بجلی بنائی جا رہی ہے، 2014ء میں 1320میگا واٹ کا حامل حبکو پاور پلانٹ اگلے سال مکمل ہوجائے گا ،یہ پاور پلانٹ پاکستان کی مجموعی پیداور کا 10 فیصد بجلی پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین نے بجلی کی کمی کا مسئلہ 10 سال میں حل کیا ،پاکستان نے یہ مسئلہ 3 سے 5 سال میں حل کیا ،پاکستان نے توانائی بحران کے خاتمے کیلئے بہترین کام کیا،سی پیک کے منصوبے شفاف اور کرپشن سے پاک ہیں ،سی پیک کے منصوبے دونوں ممالک کے نچلے سے لے کر اعلی سطح تک مختلف فورمز پر فزیبیلیٹی رپورٹ کی بنیاد پر منظور کیے جاتے ہیں،غلط فہمی کی بنیاد پر کچھ لوگ سی پیک کو چین پنجاب منصوبہ کہتے ہیں، سی پیک کے 40 فیصد منصوبے بلوچستان کے لیے ہیں ،سی پیک کے 19 ارب ڈالر کے منصوبوں میں سے 2 اعشاریہ 6 ارب ڈالر کے منصوبے بلوچستان میں ہیں ہمیں تو اسے چائنہ پنجاب کے بجائے چائنہ بلوچستان اکنامک کوریڈور کہنا چاہیے ۔

تقریب سے مشاہد حسین سید‘گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ یاسین زئی‘ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا محور گوادر بندرگاہ گاہ ہے، جب پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہ رہا تھا، تب چین آگے آیا  اورپاکستان میں سی پیک کے تحت بڑی سرمایہ کاری کی ،سی پیک کے تحت بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی سمیت دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے ،اہم محل وقوع کی بناء پر پاکستان خطے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ،سی پیک کے تحت افغانستان امن عمل آگے بڑھ رہا ہے ،سی پیک پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن ہے، سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر سی پیک کی کامیابی کے لئے تمام سیاستدان ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریب کے انعقاد کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کی عظیم دوستی کے رشتے کو مزید مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کی عوام کے درمیان قربتیں بڑھانے کے لئے منصوبہ سازی کرنی ہے، چین نے 2013ء میں بیلٹ اینڈ روڈ انشٹیوکا آغاز کیا اور اس اقدام سے گوادر بندرگاہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ چینی منصوعات اسی بندرگاہ کے توسط سے عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرتی ہے گوادر بندرگاہ چونکہ بلوچستان میں واقع ہے ،اسی سبب چین نے بلوچستان پر خصوصی توجہ دی ہے اور آج بلوچستان گوادر پورٹ، انفرانسٹکچر، تعلیم، صحت عامہ، پینے کے صاف پانی زراعت اور غربت کے خاتمہ سمیت کئی اہم شعبوں میں چین کی مدد سے ترقی اور خوشحالی کی منازل کو طے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان انتہائی پسماندہ صوبہ ہے، اس کی ترقی اور خوشحالی میں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،جب تک بلوچستان ترقی نہیں کرے گا ،اس وقت تک ہم ترقی نہیں کرسکتے۔

مزید :

قومی -علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -