پاکستان، پولیو اور کورونا وائرس اپنی خواتین سے چند باتیں!

پاکستان، پولیو اور کورونا وائرس اپنی خواتین سے چند باتیں!

  

ربِ رحیم کا شکر ہے کہ ہمارے وطن میں کورونا وائرس کی یلغار میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔ آنے والے دِنوں میں اس وبائی مرض سے متعلق خدشات کو ہم غلط ثابت کر سکتے ہیں۔اگر ہم سنجیدگی اور سختی کے ساتھ حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا ہوں اور لوگوں کو اس بارے میں محتاط رہنے کی بھرپور تلقین کریں۔انسانی جان بہت قیمتی ہے۔اس حقیقت کے پیش ِ نظر بھی کہ ایک انسان کی جان بچانا، نوعِ انسانی کو بچانا ہے۔ کورونا وائرس کی وبا نے کتنی ہی ترجیحات تلپٹ کر دی ہیں اور کتنے ہی سماجی نظریات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ سوچ و فکر کی ایک نئی دُنیا وجود میں آ رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس مہلک وبا کے خاتمے کے بعد گلوبل ولیج اَن گنت تبدیلیوں کا سامنا کرے گا۔

بہرحال ربِ کریم سے دُعا ہے کہ وہ دُنیا پر رحم فرمائے اور ہمارے مُلک کو اس موذی وبا سے نجات دے کر اسے کامیابی اور کامرانی سے سرفراز کرے۔قدرتی آفات کے ضمن میں میرا پیارا وطن پاکستان ابھی پولیو کے مرض سے نبرد آزما تھا کہ کورونا وائرس نازل ہو گیا۔ اس کی وبائی شدت ایسی اور حملہ اس قدر پُرزور تھا کہ پولیو کی مہم اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ابھی کورونا وائرس میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے تو پولیو نے ایک بار پھر سر اُٹھا لیا ہے۔ حال ہی میں اس مرض کے سبب چار اموات واقع ہو چکی ہیں۔

دیکھا جائے تو اب حکومت وقت اور شعبہئ طب سے متعلق افراد پر گہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اب دو محاذوں پر ہمارے ڈاکٹر بھائی، بہن اور طبی عملہ پوری تندہی اور جانفشانی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔

پولیو ایک مرض ہے جس سے جان بچ بھی جائے تو انسان پوری عمر کے لئے اپاہج ہو جاتا ہے۔ شکر ہے کہ پولیو کی ویکسین موجود ہے۔بچوں کو وقت پر اس کی ویکسین دی جائے تو مرض کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔دُنیا کا ترقی یافتہ مُلک امریکہ اس مرض کے سخت ترین حملوں سے گذر چکا ہے۔اس مُلک کے دوا سازوں نے سعی مسلسل سے پولیو کا تریاق ڈھونڈ نکالا اور یوں اپنے بچوں کو مرض کے بڑھتے ہوئے شکنجے سے چُھڑا لیا۔پوری دُنیا کے ممالک نے پولیو ویکسین سے فوری استفادہ کیا اور اپنے عوام کو پولیو کے خاتمے کی نوید سنائی۔

ہمارے مُلک پاکستان میں پولیو کا گراف، لوگوں میں اس مرض سے ناآگاہی کے باعث اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے۔اگرچہ عالمی ادارے اور حکومت پولیو کے تدارک کے لئے انتہائی تگ و دو کر رہی ہے،لیکن اس کا خاتمہ جب ہی ممکن ہے کہ لوگ اس مرض کو سنجیدگی سے لیں اور اس کے خاتمے ے لئے فعال اور سرگرم تنظیموں کا پورا پورا ساتھ دیں۔خوشی کی بات ہے کہ عالمی اور مقامی تنظیموں کے کارکن پولیو کے خاتمے کے لئے دور دراز علاقوں میں گھر گھر پہنچ رہے ہیں اور ایک غیر متزلزل جذبے کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی میں جُتے ہوئے ہیں۔

پاکستان کی خواتین جو ملکی آبادی کا تقریباً نصف ہیں اتنی ہمت والی ہیں کہ پولیو اور کورونا وائرس کی وبا ہی نہیں،ہر اُس آفت کا مقابلہ کر سکتی ہیں، جس سے میرے وطن کے عوام کو بحیثیت مجموعی خطرہ لاحق ہو۔پاکستانی خواتین بہترین صلاحیتوں کی حامل ہیں۔ابھی چند دن ہوئے فوج کے شعبہئ طب میں پہلی بار ایک خاتون نگار جوہر نے سب سے اعلیٰ عہدہ سنبھالا ہے اور اپنی ہم وطن خواتین کو ایک ہمت افزاء پیغام دیا ہے۔بے شک ہماری خواتین ہر اُس ذمہ داری کو سنبھالنے کا وصف اور سلیقہ رکھتی ہیں، جو ان کے سپرد کی جائے۔

بہرحال پولیو کے تدارک کے لئے خواتین کارکن پیش پیش ہیں۔ لوگوں میں تعلیم کی کمی کے باعث اگرچہ ان خاتون کارکنوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات تو ان کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے،لیکن مجال ہے کہ ان کی استقامت میں لغزش پیدا ہو۔وہ مرض کی سنگینی سے آگاہ ہیں اور جانتی ہیں کہ یہ مرض بچوں کو کس طرح ساری عمر کے لئے معذور بنا سکتا ہے،اِس لئے اپنا فرض وہ مذہبی جذبے کے ساتھ ادا کرتی ہیں۔خواتین کارکن کسی بھی قسم کے وسوسوں کو خاطر میں نہیں لاتیں۔مَیں سلام پیش کرتی ہوں ان خواتین کارکنوں کی ہمت اور استقلال کو کہ جن کی جہد ِ مسلسل سے پولیو کی مہم رواں دواں ہے۔

ہمارا ملک پاکستان سیاست، معیشت اور معاشرت کے پُرآشوب دور میں سے گذر رہا ہے۔ اس جنت نظیر مُلک کو داخلی اور خارجی مسائل اور مصائب نے گھیرا ہوا ہے۔ان مسائل و مصائب میں کچھ ہمارے خود پیدا کردہ ہیں اور کچھ بیرونی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں نے ہم پر مسلط کر رکھے ہیں۔تاہم اس حقیقت سے سب آگاہ ہیں کہ مملکت ِ خدادادِ پاکستان کا وجود ایک آسمانی حکمت کے تحت ظہور میں آیا ہے۔ یہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے اور قائم رہے گا۔ مسائل و مشکلات اور امراض اور وبائیں جلد ہی اس مُلک سے دور ہو جائیں گی اور بہت جلد گلگت سے گوادر تک اور چمن سے چولستان تک یہ خطہ ئ ارضی اس خواب کی روشن اور احسن تعبیر ظاہر کرے گا جو خواب اس کے قائدین نے اس کی تعمیر کے وقت دیکھا تھا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -