حجاب کی اہمیت!

حجاب کی اہمیت!

  

کسی بھی مذہب کی تعلیمات اس مذہب کی قوم کے سیرت و کردار کی تشکیل کے لئے مرتب کی جاتی ہیں اور ہر مذہب کے مذہبی اصول وقوانین اس کی مذہبی تعلیم و تربیت کی روشنی میں تہذیب وتمدن کے زیور کے ساتھ مختلف حالتوں میں موجود ہیں تمام مذاہب عالم کی تعلیمات ایک طرف اور دین حق اسلام کی تعلیمات ایک طرف ہیں اسلام ایک مکمل ضابطہ اخلاق اور دین فطرت ہے، جس کا ہر ہر قانون نہ صرف کردارکی تشکیل کرتا ہے، بلکہ فرد زندگی کو تحفظ اور روح و قلب کو سکون فراہم بھی کرتا ہے اسلام کے یہ تمام قوانین مرد وزن دونوں پر مساوی نافذ ہوتے ہیں فرق ان میں صرف صنفی شخصیت کے مطابق ہو تا ہے۔

اسلام نے عورت کے جو احکام و قوانین متعین فرمائے ہیں ان میں سے حجاب، یعنی پردے کا حکم نہایت اہم حیثیت کا حامل ہے قدرت کے تمام احکامات کے پیچھے حکمت کار فرما ہے اور اسی میں دراصل انسان کی بھلائی پوشیدہ ہے اگر انسان خود سمجھنا چاہے تو احکامات پردہ بھی بہت سی حکمتوں سے بھرپور ہیں،یہ عورت کو تحفظ فراہم کرتا ہے، اس میں کوئی برائی نہیں، بلکہ یہ خود بے شمار برائیوں سے بچاتا ہے اہل مغرب کی تقلید کرنے والے اور نئے مذہبی روشن خیال اس کو معیوب سمجھتے ہیں اور اس کو عورت کے لئے ایک قید تصور کرتے ہیں یہ مغربی ممالک اسلام کی دشمنی میں حجاب و نقاب کو روکنے کے لئے نت نئی پابندیاں نافذ کر کے آئے دن کوئی نہ کوئی نیا بل پاس کرانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں،وہ ایسا صرف اور صرف اسلام دشمنی میں کرتے ہیں۔ اگر ہم دیگر مذاہب کا بھی مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہندومذہب میں بھی پردہ کا تصور موجود ہے اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندؤوں کی کتاب رامائن میں بھی اس کا تصور موجود ہے کہ جب راون سیتا کو اُٹھا کر لے جاتا ہے اور رام اس کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے تو ایسے میں وہ اپنے بھائی لکشمن کو مدد کے لئے بلاتا ہے، اسے اپنی پریشانی کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ سیتا کو اس کے ساتھ ملکر تلاش کرے، مگر لکشمن اس کے جواب میں انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ سیتا کو کیسے پہچانے گا اس نے تو اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھا کیونکہ سیتا اپنا چہرہ چھپاتی تھی اور جب انہوں نے سیتا کو تلاش کیا تو لکشمن نے سیتا کو اس کے پاؤں میں پہنی ہوئی پازیب سے پہچانا اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندو مذہب میں بھی پردے کا تصور تھا اور ان کی مذہبی کتاب میں اس کا ذکر ملتا ہے۔

عورت گھر کی زینت ہے اور عربی زبان میں لفظ عورت کا مطلب ہی چھپا کر رکھنے والی چیز کے ہیں اور انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی قیمتی اشیاء کو چھپا کر رکھتا ہے ان کی نمائش نہیں کرتا۔ اسلام عورت کو بننے سنورنے یا فیشن کرنے کی قدغن نہیں لگاتا، بلکہ یہ سب کچھ کرنے کا پردے میں حکم دیتا ہے زیب و زینت کی جائے، مگر حجاب کا خیال رکھا جائے نامحرموں کے سامنے اس کی نمائش سے پرہیز کیا جائے تاکہ معاشرہ گناہوں اور گمراہی سے بچا رہے اور شرم وحیاء ہی تو دراصل عورت کا حقیقی زیور ہے افسوس کہ ہم اسلام کی تعلیمات کو بھلا چکے ہیں اِسی وجہ سے تو ذلت و رسو ا ئی ہمارا مقدر بنتی جا رہی ہے،دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اسوہ رسول کریمﷺ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق سعید عطا فرمادے۔ آمین

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -