میرے عظیم شاعر

میرے عظیم شاعر
میرے عظیم شاعر

  

عظیم برطانوی شاعر الگزینڈر پوپ بچپن ہی سے شاعر تھا۔ وہ گھر میں جس سے بھی بات کرتا، شعروں کی زبان میں کرتا۔ اس کا باپ اس کی اس عادت سے بہت تنگ تھا۔ایک دن اس کے باپ نے اس کی خوب مرمت کی۔ مار کھاتے ہوئے اس نے باپ سے کہا،”فادر، فادر مرسی ٹیک، ورسز آئی شیل نیور میک“یعنی ابا جان مجھ پر رحم کریں، میں آئندہ شعر نہیں کہوں گا۔اس کے باپ نے دیکھا کہ مار کھانے کے باوجود وہ رحم کی درخواست بھی شاعری ہی کی زبان میں کر رہا ہے۔ تو اسے سمجھ آ گئی کہ اس کی شاعری بڑی خداداد چیز ہے۔ رب نے اسے جو وصف دیا ہے وہ چاہنے کے باوجود اس سے نجات نہیں پا سکتا۔ یہ اس کی ایک ذہنی حالت ہے جو سختی سے نہیں بدل سکتے۔ چنانچہ اس کے باپ نے اس کے بعد اسکی کبھی دل شکنی نہ کی اور آج اس کا شمار دنیا کے عظیم ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔

چودہ پندرہ سال سے شروع ہونے والی عمرا نگریزی زبان میں (Odelescence) کہلاتی ہے۔جس کااردو مطلب ہے۔ نوجوانی، نوعمری یا اٹھتی جوانی۔ اس عمر میں لوگ ایک عجیب خوشگوار کیفیت سے دو چار ہوتے ہیں۔ وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں چاہے شاعری ہی ہو۔ اس عمر کے لوگ بہت سے ذہنی حادثوں سے بھی خوامخواہ دو چار ہوتے ہیں۔ چنانچہ خوامخواہ قسم کی شاعری بھی وہ کرنے لگتے ہیں۔ کبھی میں بھی نوجوان تھا اور ایف ایس سی کا طالب علم۔ ارد گرد بہت سے دوست شاعری کر رہے تھے۔ انہیں شاعری کرتے دیکھ کر میں بھی جذباتی ہو گیا اور دو تین غزلیں لکھ ماریں۔ میری وہ کاپی وہ بیاض میری میز پر پڑی تھی۔ میری غیر موجودگی میں والد صاحب کسی کام کے لئے میرے کمرے میں آئے۔ میرے والد شاعر تو نہیں تھے مگر شاعری کو بہت سمجھتے تھے اور انہیں اردو اور فارسی کے ہزاروں شعر زبانی یاد تھے۔ میں گھر آیا تو میری اس بیاض پر والد صاحب نے موٹا موٹا لکھا تھا،”شاعری سب گدھے چارہ سمجھ کر چرنے لگے“۔میں نے وہ کاپی پھاڑی اور ان کی میز پر رکھ آیا۔ اس کے بعد میں نے مدت تک شعر کہنے کا کبھی نہیں سوچا۔

میں پیدائشی لاہوری ہوں۔ ساٹھ کی دہائی میں شہر کے کسی محلے میں مشاعرہ ہوتا توفقط دو تین ایسے لوگ ضرور ہوتے جو واقعی شاعر ہوتے مگر باقی سارے تک بندی مارکہ ہوتے۔ تک بندی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ وہ بے اصول تک بندی ہوتی۔محلے کا نائی، دھوبی، کمہار، موچی، جولاہا سب کے سب مشاعرے میں اپنی غزلیں لئے موجود ہوتے۔ جب وہ کہتے کہ اگلا شعر عرض کیا ہے تو آوازیں آتیں،”سٹو، سٹو، شعر سٹو“ یعنی پھینکو، پھینکو، شعر پھینکو۔ جواباً اتنا فضول شعر پھینکا جاتا کہ لوگ اس احمق شاعر کی حماقت پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ اچھا یا برا شعر تو دور کی بات انہیں شعروں کا شعور ہی نہیں تھا مگر شوق تو شوق ہے۔شعر مجھے بھی ہزاروں یاد ہیں مگر شاعری نہیں کرتا۔ پچھلے دو تین سال سے کچھ دوستوں کے سبب میں شاعروں کے نرغے میں ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی میں ان کے شعروں سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ ان میں کچھ شعر بہت اچھے ہوتے ہیں کچھ بس گزارہ کرتے ہیں اور کچھ لوگ شعر پھینک رہے ہوتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جو جتنا برا شاعر ہوتا ہے وہ اتنی ہی ڈھٹائی سے شعر پہ شعر پھینکتا ہے۔ ابھی چند دن قبل شغل میں، میں نے کچھ الٹے سیدھے شعر نمامصرعے لکھ کرپھینکے اور دل کھول کر پھینکے اور یوں دوستوں کی طبع کے لئے ظرافت کا اہتمام کیا۔ میری بیگم نے پہلے کہاپھر چھوٹے بھائی جیسے ایک دوست نے بھی اعتراض کیا کہ یہ شعر تمہاری شخصیت سے میل نہیں کھاتے، یہ پتھرپھینکنا بند کرو۔حکم حاکم مرگ مفاجات، میں اس دن سے اس طربیہ تک بندی سے تائب ہو گیا ہوں اور ایک اچھی رائے دینے پر ان لوگوں کا ممنون ہوں۔گو ایک دوست نے کہا کہ وبا کے دور میں وبا زدہ تمہاری شاعری ٹھیک ہے، مگر نہیں میں وبا سے ہر طرح بچا رہوں تو بہتر ہے۔

80 کی دہائی میں،جب میں ایک کالج میں پڑھاتا تھا۔ وہاں میرے کچھ ساتھی اساتذہ کو شاعری کا شوق چرایا۔ شاعری سے ان میں ایک خاص تبدیلی یہ آئی کہ پہلے کہنے کے باوجود وہ کسی کو چائے تک پلانے کو تیار نہیں ہوتے تھے مگر اب اگر کوئی شعر سننے کو تیار ہو تو وہ کھانا بھی کھلاتے تھے۔یہ لوگ روز ایک نیا شعر لکھ کر لاتے، باقاعدہ عنوان کے ساتھ۔ عنوان ہوتا، کسی کو اداس دیکھ کر۔ کھاتے ہوئے کسی کا منہ کھلا دیکھ کر،شام پانج بجے چائے نہ ملنے پر، بیوی کو ناراض پا کر۔فلاں کام میں ناکامی کے بعد، کلاس میں بچے موجود نہ پاکر۔ان کے شعر بھی عنوان کی طرح بڑے بے مزہ ہوتے۔ ان عظیم شاعروں میں سے کوئی اگر کسی دن پا بہ شعر سٹاف روم میں نہ آتا تو وہاں بیٹھے احباب میں کوئی نہ کوئی فوراً اس کے نام سے ایک شعر تیار کر دیتا اور اس شعر کی کاپیاں پورے کالج میں تقسیم ہو جاتیں۔ ایسے شعروں کے عنوان تھوڑے سے بیہودہ بھی ہوتے۔ بہت سے ایسے شعروں پر نامزد شاعر بھڑک اٹھتے اورکئی دفعہ جھگڑا بھی ہوا مگر نہ شاعر کو عقل آئی اور نہ ہی ہجو نما طنزیہ شعر کہنے والے باز آئے۔ ان میں بہت سے شعر اپنے عنوانوں کے ساتھ مجھے آج بھی یاد آتے ہیں تو ہنسی آتی ہے۔

میرے ایک دوست اپنے گھر میں مشاعرہ کراتے ہیں۔ انہیں بہت سے لوگ، دھوبی، نائی، نان بائی اور دیگر دعوت دیتے کہ کبھی وقت ملے تو آکر میری غزل سن کر اصلاح کر جائیں۔ انہوں نے کہنا کہ کسی دن دعوت رکھو، سن لیں گے۔ ایک بلڈنگ مٹیریل والے کی دعوت میں، میں نے بھی شرکت کی اور زندگی میں پہلی اورآخری بار دو سو(200)سے زیادہ شعروں کی غزل سنی۔ موصوف پڑھتے جا رہے تھے اور ہم سکون سے کھانا کھاتے ہر لقمے کے بعد واہ واہ کر دیتے۔ وہ بھی خوش اور ہم بھی۔غزل کبھی بھی دس بارہ شعروں سے زیادہ نہیں ہوتی مگر وہ احمق پوری مہا بھارت لکھ لایا اور خوش تھا کہ کسب کمال کر گیا ہے۔

شاعری در حقیقت لفظوں کو موسیقی میں ڈبو دینے کا نام ہے۔ عام لفظوں کو تھوڑی سی محنت سے ایک خاص ترتیب سے کہنا یا لکھنا جس میں جذبات کی فراوانی، احساس کی روانی اور لہروں جیسا بانکپن ہوشاعری کہلاتا ہے۔شاعری غالباً ادب کی قدیم ترین قسم ہے اس لئے کہ دنیا کی تمام تر قدیم ترین دستاویزات شاعری ہی کی زبان میں ہیں۔ ہندستان میں ہندوؤں کی قدیم ترین مقدس کتاب مہا بھارت رزمیہ شاعری ہے۔ یونان کے عظیم شاعر ہومر کی رزمیہ نظمیں (Epics) بھی اسی بات کی گواہی دیتی ہیں۔ مصر کی تہذیب ہو یا گندھارا کی، وہاں سے ملنے والی زیادہ تر تحریریں شاعری کی زبان ہی میں ہیں۔ آج شاعری ہر شخص کی کمزوری ہے۔ آپ خوش ہوں، آپ اداس ہوں، آپ جذباتی ہوں یا آپ پر کوئی بھی کیفیت طاری ہو۔ شاعری آپ کی دوست ہے۔آ پ کی ہر کیفیت چاہے خوشی کی ہو یا غمی کی اچھا شعر اسے بانٹ لیتا ہے۔ موسیقی کی طرح جاذبیت رکھتی کوئی نظم آپ کے جذبات اور احساسات کی عکاس اور آپ کی ضرورت ہوتی ہے۔دانشور لوگ کہتے ہیں کہ شعروں اور شاعری سے پیار کریں اسلئے کہ شاعری آپ کی پڑھنے کی عادات بہتر کرتی ہے، آپ کی کارکردگی بہتربنا تی ہے۔ آپ کے وژن کو جلا بخشتی ہے۔ شاعری شاعر اور قاری دونوں کے لئے، اچھا شعر ذہنی تھراپی ہے۔شاعری،اپنا شغف رکھنے والوں کے لئے دنیا کو اور خود کو جاننے اور سمجھنے کا بہترین وسیلہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -