غریب عوام، امیر حکمران اور پیارا پاکستان

غریب عوام، امیر حکمران اور پیارا پاکستان
غریب عوام، امیر حکمران اور پیارا پاکستان

  

شاید اس مملکتِ خدا داد میں یہ طے ہو چکا ہے کہ یہاں عوام ہمیشہ غریب رہیں گے، خواص کے حصے میں امارت آئے گی جس خاص بندے کے اثاثے دیکھ کر عقل حیران ہی نہیں بلکہ چودہ طبق روشن کروا کے سر پیٹنے لگتی ہے۔ اربوں کھربوں پتی یہ لوگ کیسے بن گئے؟ کوئی پوچھے تو مجرم قرار پائے میں سوچ رہا ہوں صرف جسٹس قاضی فائز عیسی کو نشانہ کیوں بنایا گیا، یہاں تو ہر اینٹ کے نیچے ایک کھرب پتی چھپا بیٹھا ہے، جس سے منی ٹریل پوچھو تو وہ یوں آنکھیں نکالتا ہے، جیسے کھا جائے گا اب جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کے اثاثوں کی بڑی دھوم مچی ہوئی ہے۔ اتنی کم عمری میں انہوں نے اتنے زیادہ اثاثے بنا لئے تو اسی پر انہیں داد ملنی چاہئے اُلٹا مین میخ نکالی جا رہی ہے۔ پوچھا جا رہا ہے۔ جس بھاؤ ایک گز زمین نہیں ملتی، اس بھاؤ ایک کنال کیسے حاصل کی گئی۔

جو گاڑی کروڑوں روپے کی ہے، وہ تیس لاکھ روپے میں کیسے حاصل کر لی، اربوں روپے کے اثاثے کروڑوں میں کیسے ظاہر کر دیئے؟ میں سوچ رہا ہوں، جنرل صاحب نے وزیر اعظم کا مشیر بن کر غلطی کی، نہ وہ یہ سیاسی عہدہ لیتے اور نہ انہیں اپنے اثاثے ظاہر کرنے پڑتے۔ جب سے قاضی عیسی فائز کے خلاف کیس بنا ہے، اب سب محتاط ہو گئے ہیں کہ اثاثے ظاہر ضرور کرو چاہے قیمت ایک ہزار گنا کم بتاؤ۔ ریٹائرڈ تو اور بھی بہت سے جرنیل ہوتے ہیں مگر ان کی بابت کسی کو کچھ خبر ہے اور نہ اعتراض، لیکن جنرل یہ عاصم سلیم باجوہ کی سب کو اس لئے خبر ہو گئی کہ وہ سول عہدہ لے بیٹھے ہیں، پس ثابت ہوا کہ سیاسی عہدہ اپنے ساتھ بہت سے مسائل لے کر آتا ہے۔ لیکن صرف باجوہ صاحب پر ہی کیا موقوف، ان کی تو یہ سادگی ہے کہ انہوں نے اپنے ایک ایک پلاٹ، ایک ایک جائیداد کو ظاہر کر دیا ہے، باقی مشیروں نے تو صرف اپنے اثاثوں کی مالیت ظاہر کی ہے اور ماشاء اللہ سب کے سب کروڑ پتی سے اوپر ہیں کئی ایک کو تو ملک کی خدمت کا غم پاکستان لے ٓیا ہے اور اپنی اچھی بھلی زندگی چھوڑ کر وزیر اعظم کی معمولی مشاورت لے کر اپنا شوق پورا کر رہے ہیں۔

اپنی تو عمر گزر گئی اس خواہش میں کو ئی ہم جیسا غریب بھی کبھی اقتدار میں آئے، غریبوں کا نعرہ تو 72 برسوں میں سب نے لگایا مگر کسی غریب کو حاکم نہیں بنایا۔ حتیٰ کہ ہمارے وزرائے اعظم نے اپنے مشیروں میں بھی کسی غریب کو نہیں رکھا، مبادہ کابینہ کو نظر نہ لگ جائے۔ عمران خان تو اس سے بھی دو ہاتھ آگے چلے گئے ہیں، انہوں نے چن چن کے کروڑ پتی مشیر ہی نہیں رکھے بلکہ یہ خیال بھی رکھا ہے کہ ان کے پاس دہری شہریت ہو، حالانکہ وہ انتخابی مہم کے دنوں میں کہا کرتے تھے کہ کسی دہری شہریت والے کو کابینہ میں نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کی وفاداریاں دوسرے ملک کے ساتھ ہوتی ہیں۔ یک نہ شد سات شد کے مصداق وزیر اعظم کے کئی مشیر غیر ملکی شہریت رکھتے ہیں۔ یہ معاملہ سامنے آیا ہے تو ڈھٹائی کے ساتھ اس کا اقرار بھی کیا جا رہا ہے اور یہ پخ بھی لگائی جا رہی ہے کہ قانون میں ایسی کوئی پابندی نہیں کہ دہری شہریت والا مشیر نہ بن سکے۔ کمال ہے یہ بات عمران خان کی موجودگی میں کہی جا رہی ہے جو اس کلیئے کو اپنی انتخابی مہمات میں رد کر چکے ہیں۔ زلفی بخاری نے تو عجیب منطق ڈھونڈی ہے، کہ پہلے اپوزیشن اپنے اقاموں کا جواب دے ہماری فکر چھوڑے۔ اسے کہئے جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔ کسی ملک کی شہریت اور اقامے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ شہریت لے کر آپ اس ملک سے اپنی غیر مشروط وفاداری کا اقرار کرتے ہیں، اقامے کے لئے ایسے کسی عہد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر کیا یہ طے ہے کہ جن خرابیوں کو بنیاد بنا کر عمران خان نے اپوزیشن پر کھلی تنقید کی تھی، انہی کو اپنا لیا جائے۔ کیا اس طرح کی لیڈر شپ عوام کے مسائل حل کر سکتی ہے، جو برائیوں کو اپنے لئے خوبیاں بنا لے اور اپوزیشن کے لئے برائیاں رہنے دے۔

یہ سوال بھی میرے جیسے کند ذہن کے دماغ کو ش ششدر بنا دیتا ہے کہ وزیر اعظم نے جن نابغہ روز گار شخصیات کو اپنا مشیر مقرر کیا ہے، ان میں ایسی کیا خوبی ہے کہ باوجود دہری شہریت کے انہیں کابینہ میں رکھنا مجبوری بن گیا ہے۔ یہ زلفی بخاری کس قابلیت کے حامل ہیں، کوئی بتائے تو جانیں، سوائے عمران خان کی دوستی کے اور ان کا حسب نسب کیا ہے کتنی حکومتیں انہوں نے چلائی ہیں اور کہاں کہاں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ہیں، ان کی تو باڈی لینگوئج بھی کھلنڈرے نوجوانوں جیسی ہے، مشیر کا عہدہ تو وزیر کے برابر ہوتا ہے کیا وہ اپنی وصع قطع پر بھی کبھی غور کرتے ہیں کہ اس میں سنجیدگی اور بردباری کا دور دور تک کوئی گمان نظر نہیں آتا۔ شہباز گل بھی وزیر اعظم عمران خان کی دریافت ہیں ان کا رویہ بھی ہمیشہ تحکمانہ رہتا ہے، حتیٰ کہ وہ ٹی وی ٹاک شوز میں بھی ایسی زبان استعمال کر جاتے ہیں، جو غیر معیاری کہی جا سکتی ہے، پھر ان میں مخالف کی بات سننے کا حوصلہ نہیں، کئی بار پروگراموں میں یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوتا کہ آپ نے انہیں پروگرام میں بلانا ہے تو میں کبھی نہ آتا۔ کیا اس بات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ موصوف اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اس ملک کے بادشاہ ہیں اور وہ ان کے وزیر، اس لئے وہ جو کچھ کہیں اسے درست مانا جائے۔

اب معلوم ہوا کہ انہیں کس بات کی ہلا شیری ہے، وہ جانتے ہیں کہ چند برسوں کے لئے وہ اقتدار کے مزے لوٹنے وائسرائے کی طرح پاکستان آئے ہیں، یہاں الٹی سیدھی باتیں کر کے عوام کو بے وقوف بنانا ان کا کام ہے، جسے وہ خوش اسلوبی سے انجام دینے کے بعد عمران خان کی حکومت ختم ہوتے ہی واپس لوٹ جائیں گے۔ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں مشیروں کے لئے بہت اعلیٰ معیار بنا دیا ہے، وہ ایک طرف ارب پتی ہوں اور دوسری طرف ان کے پاس دہری شہریت بھی ہونی چاہئے۔ یہ دونوں چیزیں جس میں اکٹھی ہوں گی وہ پیا من بھا جائے گا۔ باقی اور کسی مہارت یا تجربے کی ضرورت نہیں۔ اب تو لگتا ہے فواد چودھری جیسے منتخب وزیر بھی تھک ہار کر بیٹھ گئے ہیں کل وہ بھی کہہ رہے تھے کہ مشیر بنانا وزیر اعظم کا اختیار ہے، باقی دہری شہریت ایسا کوئی اہم مسئلہ نہیں، حالانکہ یہی فواد چودھری پہلے یہ دہائی دیتے تھے کہ حکومت کو غیر منتخب لوگوں نے ہائی جیک کر لیا ہے اور ان کی وجہ سے ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے، کیونکہ انہیں عوام کے پاس نہ ووٹ لینے جانا ہے اور نہ اب وہ اپنے عوام کو جوابدہ ہیں۔

کمزور مؤقف والی اپوزیشن ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتی ہے جونہی وزیر اعظم کے حکم سے مشیروں کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ لنگر لنگوٹ کس کے میدان میں آ گئی ہے۔ ان مشیروں کے استعفوں کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کیا انہیں پہلے پتہ نہیں تھا کہ کون دہری شہریت رکھتا ہے، کیا اپوزیشن کو پکی پکائی مل جائے تو وہ شوق سے کھاتی ہے۔ جس طرح حکومت اپوزیشن کے رہنماؤں کی تفصیلات اکٹھی کرتی رہتی ہے اور پریس کانفرنسوں میں سامنے لاتی ہے، کیا اسی طرح اپوزیشن کو حکومت کے وزیروں، مشیروں کی کرپشن اور اثاثوں کی خبر نہیں رکھنی چاہئے آج جو استعفوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، کیا پہلے کبھی ان مشیروں کے بارے میں اسمبلی میں سوال اٹھایا، کبھی یہ مطالبہ کیا کہ ان کی دہری شہریت ہے انہیں برطرف کیا جائے، اس سے اپوزیشن کی نا اہلی اور غیر سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ قصہ یہ ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ایک کی قمیض اٹھاؤ تو دوسرے کا پیٹ ننگا ہوتا ہے۔ یہ سب صرف عوام کے خلاف اکٹھے ہیں ان سب کا مقصد عوام کو بے وقوف بنانا ہے۔ یہ سب کروڑ پتی بلکہ ارب پتی ہیں، مگر ان کی تان ہمیشہ غریبوں کی بری حالت پر ٹوٹتی ہے یہ سب غریبوں کے غم میں بظاہر ہلکان نظر آتے ہیں حقیقتاً یہی غریبوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں اقتدار کے کلب میں کسی غریب کا کوئی عمل دخل نہیں، اس کا صرف کندھا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ چند فیصد اشرافیہ کبھی عوام کو امیر نہیں ہونے دے گی۔ یہ ان کے نام پر اربوں روپے لوٹے گی، کبھی ایک دوسرے کا احتساب نہیں کرے گی البتہ احتساب کے نام پر غریبوں کو بے وقوف ضرور بنائے گی اور بھولے بادشاہ عوام بے وقوف بنتے رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -