ناحق ہم مجبوروں پر……

ناحق ہم مجبوروں پر……
ناحق ہم مجبوروں پر……

  

کورونا وائرس کی وبا کو خدا نے اگرچہ یک بیک آسمان سے نازل کرنے کا حکم نہیں دیا لیکن ہمارے بہت سے علمائے دین اس وبا کو ہمارے گناہوں کی سزا قرار دے رہے ہیں۔ خدائے رحیم و شفیق نے اگر اس دنیا ہی میں انسان کو اس کی بداعمالیوں کی سزا دینا تھی تو پھر حشر کا روز محاسبے کے لئے کیوں مقرر کیا تھا؟

قرآنِ حکیم میں قیامت کے آثار و احوال پر یوں تو جگہ جگہ تبصرے فرمائے گئے ہیں لیکن آخری دو پاروں (نمبر29اور 30) کی بیشتر سورتیں بالخصوص قربِ قیامت کی نشانیوں پر نازل فرمائی گئیں۔ اگر کسی نے قیامت کی مجسم تفصیل، مجمل ترین صورت میں جاننی ہو تو قرآن حکیم کے آخری دو پاروں کی تلاوت کریں، ترجمہ بھی پڑھیں اور تفسیر بھی۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ خدا نے قیامت کے احوال و آثار کو کس”صراحت“ سے ان سورتوں میں سمو دیا ہے۔ یہ سورتیں حضور اکرمؐ پر مکی دور کے اولین برسوں میں نازل ہوئیں۔ میں نے کئی بار انہیں تلاوت کیا،ان کا ترجمہ پڑھا اور انگریزی اور اردو زبانوں کے مختلف مفسرین کی تفسیروں سے کسبِ فیض کیا۔ بار بار تلاوت کرنے سے اگرچہ دل کانپ کانپ گیا لیکن عربی زبان کی جامعیت کا ایک ایسا نقش دل پر بیٹھا کہ تادیر اور بار بار ان سورتوں کی آیات میں ردیف و قافیہ کی بندشوں کو پڑھ پڑھ کر اقبال کا یہ مصرعہ زبان پر آیا۔

کہہ گئے ہیں شاعری جزویست از پیغمبری

قرآن کی جن آیات میں شاعروں کی تکذیب کی گئی ہے اس کا سیاق و سباق اور ہے۔

”الطارق“ قرآن پاک کی 86ویں سورہ ہے جس کی 17آیات ہیں اور ان کا اردو ترجمہ جو مودودی صاحب کی تفہیم میں درج ہے وہ یہ ہے: ”قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی۔ اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟چمکتا ہوا تارا۔ کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگران نہ ہو۔ پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یقینا وہ (خالق) اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہو گی اس وقت انسان کے پاس نہ خود کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا۔قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی اور پھٹ جانے والی زمین کی۔ یہ ایک جچی تلی بات ہے، ہنسی مذاق نہیں ہے۔ یہ لوگ کچھ چالیں چل رہے ہیں اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں۔ پس اے نبی! چھوڑ دو ان کافروں کو۔ اک ذرا سی ذرا ان کے حال پر چھوڑ دو“۔ اس مختصر سورہ میں اللہ کریم کی طرف سے فرمائی گئی چار چیزوں پر غور کیجئے…… پہلی چیز رات کو نمودار ہونے والا تارا…… دوسری انسان ایک اچھلتے ہوئے نطفے سے پیدا کیا گیا ہے…… تیسری زمین کے پھٹ جانے کی بات…… اور چوتھی اللہ کے چالباز ہونے کی بشارت! ان مختصر آیات کی تفسیر قارئین نے بھی پڑھی ہو گی۔ میں نے بھی اپنے انتہائی محدود علم کے مطابق بہت سرمارا ہے لیکن دو چیزوں کی سمجھ نہیں آئی۔ ایک رات کے تارے کی اور دوسرے زمین کے پھٹ جانے کی! مولانا مودودی صاحب نے نجم الثاقب (رات کو نمودار ہونے والا تارا) کی جو تشریح کی ہے وہ میرے دل کو نہیں لگی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک تارا نہیں بلکہ اس سے مراد تاروں کی جنس ہے۔ خدا ان بے حد و حساب تاروں کی قسم اس لئے کھا رہا ہے کہ ان کی روشنی، ان کا وجود اور ان کی کثرتِ تعداد کے باوجود ان کا آپس میں نہ ٹکرانا خدائے بزرگ و برتر کی نشانیوں میں سے ہے۔ میرے خیال میں یہ وضاحت اور تفسیر کسی گہرے فکر کی غماز نہیں …… اسی طرح زمین کے پھٹ جانے کی بھی کوئی تفصیل انہوں نے نہیں دی۔

زمین کے پھٹ جانے کا واقعہ کئی دوسری سورتوں میں بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ سورہ ”الزلزال“ میں خدا فرماتا ہے: ”جب زمین پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی اور انسان کہے گا کہ یہ اس کو (زمین کو) کیا ہو رہا ہے۔ اس روز وہ اپنے حالات بیان کرے گی“…… یہ ترجمہ اسی سورہ کی 8آیات میں سے پہلی 4آیات کا ہے…… اس طرح سورۂ القارعہ کی آیت نمبر5کا ترجمہ ہے کہ ”پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح ہوں گے“۔ زمین کے پھٹنے کے علاوہ آسمان کے پھٹنے کا صاف صاف ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ انشقاق کی پہلی آیت میں کر دیا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ نے: ”جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا“۔

6ملین ڈالر کا سوال یہ بھی ہے کہ آیا زمین اور آسمان خود پھٹ جائیں گے یا اللہ حکم فرمائے گا کہ پھٹ جاؤ۔ (اور وہ پھٹ جائیں گے) سورۂ انشقاق کی اس پہلی آیت سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ زمین و آسمان اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کریں گے۔ لیکن رب کے فرمان کی وجہ کیا ہو گی؟ کیا اس کائنات کو اللہ کریم نے پھٹ جانے کے لئے پیدا کیا تھا؟ کیا وہ ایک انوکھا تجربہ کرنا چاہتا تھا؟ اور زمینوں اور آسمانوں کے خالق کو اس تجربے کی ضرورت ہی بھلا کیا تھی؟…… اسی طرح کے شکوک اقبال کے دل میں بھی پیدا ہوئے ہوں گے تو انہوں نے وہ غزل کہی ہو گی جس کا مطلع ہے:

اگر کج رو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا

مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا؟

اس کائنات میں اَن گنت نظام ہائے شمسی ہیں لیکن انسان نے آج تک جو تلاش و جستجو ان نظاموں کی ۔ اس کے مطابق صرف ہمارا ایک نظامِ شمسی ایسا ہے جس کے صرف ایک سیارے میں پانی ہے۔ اور یہی پانی زندگی ہے۔ یہ پانی کسی بھی دوسرے سیارے میں نہیں۔ تو کیا پروردگارِ عالم ایسے نادر نظام کو خود تباہ کرنے کا حکم دے گا یا اللہ کریم کا ارضی خلیفہ خود اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اس نظام کہ ایسے مقام پر لے جائے گا کہ خالقِ کائنات کو اپنا یہ عزیز ترین سیارہ خود تباہ کرنا پڑے گا؟ اس کی تباہی میں تو ہرگز کوئی دورائے نہیں لیکن کیا اس تباہی کا سبب خود انسان ہو گا یا انسان اور خدا کے درمیان کوئی تیسری مخلوق بھی ہے جس پر ظہورِ قیامت کی ذمہ داری ڈالی جا سکتی ہے؟ میری ناقص عقل کے مطابق انسان خود اپنی بربادی کا ذمہ دارہو گا…… اور یہ کورونا وائرس جو پھیلا ہوا ہے اور ساری دنیا میں روزانہ اس کی وجہ سے ہزاروں اموات ہو رہی ہیں تو اس میں خدا کی مرضی شامل نہیں ہو سکتی۔ اس نے تو بہت سوچ سمجھ کر انسان کو تخلیق کیا، اس کے سامنے دوسری ساری مخلوقات کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور ایک وقت مقرر کر دیا کہ انسان جب تک رضائے الٰہی کے تابع رہے، اس کرۂ ارض کو باقی اور قائم رکھا جائے اور اس کی مخلوقات میں سے اشرف ترین مخلوق کو ضائع نہ کیا جائے۔ چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ قیامت برپا نہیں کرنا چاہتا بلکہ خود انسان ایسا کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔یہ وبا خواہ چین کے شہر ووہان میں پیدا ہوئی خواہ یہ کسی امریکی بیالوجیکل لیبارٹری سے لیک ہو گئی، یہ خود انسانی کرتوت تھا۔

دوسرے لفظوں میں انسان خود قیامت کی طرف بڑھا چلا جا رہا ہے۔ ظہورِ قیامت تو اللہ کا فرمان ہے اور ہونی شدنی ہے۔ لیکن لمحہ ء ظہورِ قیامت کا فیصلہ خود انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے…… مثنوی مولانا روم کا ایک شعر ہے: ”اگر قیامت دیکھنا چاہتے ہو تو خود قیامت بن جاؤ کیونکہ ہر چیز کے ظہور کے لئے یہی شرط ہے“۔

پس قیامت شو، قیامت رابہ بیں

دیدنِ ہر چیز را شرط است ایں

کورونا وائرس سے پہلے بھی انسان نے بہت سے وائرس خود تخلیق کئے۔ اسپینی وائرس (انفلوئنزا) تو ابھی کل کی بات ہے۔ پہلی عالمی جنگ اپنے اختتام کوپہنچ رہی تھی کہ انسان کی ایک غلطی سے یہ وائرس (1918ء میں) پھیلا جس کی زد میں آکر 5کروڑ انسان لقمہ ء اجل بن گئے۔ دنیا کی آبادی بھی 1918ء میں آج کے مقابلے میں آدھی (ساڑھے تین ارب) تھی۔ اس پہلی عالمی جنگ میں اموات کی تعداد، انفلوئنزا سے مر جانے والی تعداد سے آدھی بھی نہ تھی۔

اگر خدا نے ہی یہ وائرس بھیج کر انسان کو خبردار کرنا ہوتا (یا کروڑوں لوگ مارنے ہوتے) تو کورونا چھوڑنے کی کیا تُک تھی؟ ہوا کو حکم دیا جاتا کہ صرف ایک منٹ کے لئے جہاں ہو وہیں رک جاؤ۔…… اگلے لمحے ساری مخلوقِ خدا اوندھی پڑی ہوتی! یہ گمان کرنا کہ خدا کورونا کے پردے میں مخلوقِ انسانی کا امتحان لے رہا ہے تو یہ بھی ایک طرح کی ”ملّائی جہالت“ ہے۔ مسجد کی ابلہی اسی کا نام ہے اور اس جہالت میں مسجد کے ملّا ہی شامل نہین، بڑے بڑے فلاسفر، شار حینِ کتبِ سماوی، دانشور، ادیب اور شعراء سب شریک ہیں۔ میر تقی میر تو یہاں تک چلے گئے تھے:

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا

مزید :

رائے -کالم -