بیوروکریسی اور پنجاب

بیوروکریسی اور پنجاب
 بیوروکریسی اور پنجاب

  

وقت وقت کی بات ہے، پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے پنجاب حقیقت میں بڑے بھائی کا کردار ادا کرتا تھا، پنجاب پاکستان کا دل اور دماغ کہلاتا تھا، تمام صوبے اس کی مثالیں دیتے تھے اس کو فالو کرتے تھے، پنجاب کی بیوروکریسی کمال کی محنتی اور ویزنری ہونے کے ناطے مرکز اور صوبوں میں جانی مانی جاتی تھی، اس کی محنت اور کاموں کی وجہ سے چھوٹے صوبے پنجاب کی تقلید کیا کرتے تھے۔ وقت وقت کی بات ہے اب تو دوسرے صوبے اس سے کہیں آگے نکل گئے ہیں، پنجاب کی بیوروکریسی میں روزانہ اتھل پتھل سے انتظامی معاملات ڈنگ ٹپاو بنیادوں پر چل رہے ہیں۔ جو چند اچھے افسران یہاں رہ گئے ہیں وہ بھی اب یہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں مگر جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک ایک افسر بار بار ایک ہی پوسٹ پر لگایا جا رہا ہے، سیکرٹری آبپاشی تو تیسری دفعہ اس عہدے ہر لگا دیئے گئے ہیں۔ ایک دن پتہ چلتا ہے کہ پنجاب نے دسیوں افسران سرنڈر کر دیئے، پھر سارے واپس آ جاتے ہیں،کچھ دنوں بعد خبر آتی ہے سیکرٹری سروسز اور کمشنر لاہور لگنے والے افسر چند دنوں بعد ہی نہ صرف تبدیل بلکہ پھر سرنڈر کر دیئے گئے ہیں۔ مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ بزدار کی تعریفیں کر رہے ہیں انہیں تھپکیاں دے رہے ہیں۔ یوسف نسیم کھوکھر اور میجر اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری کے عہدوں سے بے وقت تبدیل کر ا کے وزیر اعلیٰ شائد فاتح بیوروکریسی بنے ہوئے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ موجودہ چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک بھی ان کے دباو کا شکار ہیں۔

بیوروکریسی سے نہ جانے کس بات کا انتقام لیا جا رہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبہ کو ایک چہیتا سٹاف افسر چلا رہا ہے، عوام توکسی کھیت کی مولی نہیں یہاں منتخب ارکان اسمبلی، صوبائی وزراء اور سینئر ترین بیوروکریٹس کی بھی کوئی اہمیت نہیں، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپوزیشن کے سات باغی ارکان اسمبلی پر تکیہ کیا ہوا ہے۔ یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سرکارکے امور سلطنت چلانا سرکاری مشینری کا کام ہوتا ہے، مگر یہ سرکاری مشینری عضو معطل بنا کر رکھ دی گئی ہے، اس رویہ کے باعث سرکاری افسر اور عملہ خوف کا شکار اور اپنی بقاء کیلئے گروپ بندیوں میں مصروف، ہر کوئی اپنے لئے محفوظ ٹھکانہ ڈھونڈ رہا ہے، بیوروکریسی میں گروپ بندی عروج پر ہے، جس کے نتیجے میں بیوروکریسی کی کارکردگی صفر رہ گئی ہے،جس سرکاری مشینری نے صوبہ کا نظم و نسق چلانا ہے اس کے قابل افسروں کو کھڈے لائن ہیں تو عوام کو دکھ مصیبت مشکلات کے سوا کیا حصے آسکتا ہے۔

کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا دیگر صوبے اپنے حکومتی معاملات کو چلانے کیلئے پنجاب کے سرکاری افسر وں کی ڈیمانڈ کیا کرتے تھے،چھوٹے صوبے پنجاب سے تربیت یافتہ افسروں کو اپنے صوبائی افسروں کی تربیت کیلئے وفاق سے مانگتے، وفاق بھی پنجاب سول سروس کے افسروں کا ہمیشہ مرہون منت رہا، مگر عثمان بزدار کی پسند نا پسند کی پالیسی نے بیوروکریسی کی تربیت،کام کرنے اور لینے کے جذبہ کو ماند کر دیا اور اب پنجاب کی بیوروکریسی کی صلاحیتوں کو نہ صرف زنگ لگ رہا ہے بلکہ یہ افسر احساس محرومی اور کمتری کا شکار ہیں،پنجاب کی سرکاری مشینری تیزی سے ترقی معکوس کا شکار ہے،گروپ پر گروپ بن رہے ہیں، یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ اہم پوسٹوں پر تعیناتی کیلئے بھاری رشوت لی جا رہی ہے۔

اس وقت دنیا بھر رائج نظام میں حکومتوں میں منتخب نمائندوں کا کردار صرف قانوں سازی اور امور مملکت چلانے کیلئے بیوروکریسی کو قواعد ضوابط دینا ہے، امور مملکت چلانا ان کا کام نہیں، یہ کام بیوروکریسی کا ہے جسے سرکاری مشینری اسی لئے کہا جاتا ہے، منتخب حکومت صرف 5سال کیلئے اقتدار میں آتی ہے، اس دوران اپنے اقتدار کی مضبوطی کیلئے جو قانون سازی کرتی ہے اپوزیشن میں آکر اس کی مخالفت شروع کر دیتی ہے مگر ہر سرکاری افسر اپنی تعیناتی کے وقت سے لے کر جب تک ملازمت میں ہے ریاست اور مملکت سے وفاداری کا حلف اٹھاتا ہے،سرکاری معاملات کی امانت کا امانت دار ہوتا ہے سرکار کے رازوں کا امین ہوتا ہے،اس کی زندگی میں اہل خانہ اولاد سے زیادہ سرکاری امور کی اہمیت ہوتی ہے، جو عنفوان شباب سے بڑھاپے میں داخل ہونے تک ریاست سے وفاداری نبھاتا ہے، اس بیوروکریسی کیساتھ رویہ دشمن ملک جیسا ہے، شاید بھارتی حکام مقبوضہ کشمیر میں کشمیری بیوروکریٹس سے بھی ایسا سلوک روا نہ رکھتے ہوں۔ بیورو کریٹس قوم و ملک کا اثاثہ ہیں، ان کی تربیت پر ریاست کروڑوں روپے فی کس اخراجات کرتی ہے تاکہ ان سے ملک و قوم کی خدمت لی جائے، انہیں ذاتی ملازم سمجھنے کی اجازت قانون دیتا ہے نہ آئین اور نہ ہی اخلاق، اس لئے حق دار کو حق دینے کی رسم ڈالیں۔ ڈیلیور کرنے کا یہی ایک راستہ ہے ورنہ حکومتی اقدامات کے ثمرات عوام کو کسی صورت اور کبھی بھی نہیں ملیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -