سی پیک کا کام کسی جگہ نہیں رکا، پراجیکٹ ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے: عاصم باجوہ

سی پیک کا کام کسی جگہ نہیں رکا، پراجیکٹ ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے: عاصم ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ سی پیک سے ملک میں تعمیر وترقی کا انقلا ب برپا ہوگا۔ ایم ایل ون منصوبہ جلد پایہ تکمیل کو پہنچے گا اور شاہراہوں کا جال بچھے گا۔ریلوے کا ٹرانسپورٹ شیئر 4 سے بڑھ کر 20 فیصد ہو جائیگا۔ حویلیاں کے مقام پر بڑی ڈرائی پور ٹ قائم کی جائے گی،جہاں چین سے آنیوالاسامان پہنچے گا اور اقتصادی زونز بنیں گے۔بھرپور بریفنگ اور ہر سوال کا مدلل جواب دینے پر شیری رحمان اور سراج الحق سمیت بلو چستا ن کے سینیٹرز بھی عاصم سلیم باجوہ کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔تفصیلات کے مطابق سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت سینیٹ کی سی پیک کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے بتایا ایم ایل ون منصوبے کے تحت ریلوے کا ٹرانسمیشن سسٹم تبدیل کر دیا جائیگا۔ ایکنک نے 7.2 ارب ڈالرز کی لاگت کے ایم ایل ون منصوبے کی منظو ری دیدی ہے۔ ریلوے انجینئرز کو روس، جرمنی اور برطانیہ سے مل کر تربیت دی جائیگی۔ اورنج لائن ٹرین منصوبہ بھی جلد عوام کیلئے کھول دیا جائے گا۔ زراعت کو بھی سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ میں شامل کیا گیا ہے۔ ایران کیساتھ بارڈر فینسنگ کی جا رہی ہے، 100 کلومیٹر باڑ جلد لگا دی جائیگی۔ رشکئی خصوصی اقتصادی زون کا افتتاح جلد کیا جا رہا ہے۔ فیصل آباد اور دھابیجی بھی خصوصی اقتصادی زون بنیں گے۔ مانسہرہ تھاکوٹ موٹر وے کو بھی جلد کھول دیا جائے گا۔کمیٹی چیئرپرسن شیری رحمان اور دیگر سینیٹرز نے چیئرمین سی پیک اتھارٹی کی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا سی پیک منصوبہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے بھی عاصم سلیم باجوہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ کورونا وائرس کے باوجود چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کسی سوال کے جواب پر کوئی تشنگی نہیں چھوڑی۔ بلوچستان کے سینیٹرز بھی عاصم سلیم باجوہ کی بلوچستان کی تعمیر وترقی میں دلچسپی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ عاصم باجوہ نے کہا سی پیک کا کسی بھی جگہ کام رکا نہیں، ہمیں احکامات تھے کہ سی پیک ہمارے لیے بہت اہم ہے اس کا کوئی پراجیکٹ رکنا نہیں چاہیے۔ حکومت آزاد کشمیر کیساتھ 100سے زائد پراجیکٹس سائن کیے، ہمارا پلان یہ تھا قرضے سے بہتر ہے سرمایہ کار لے کر آئیں، سستی بجلی کیلئے ہائیڈل پاورپراجیکٹ لگانا ہمارا پلان ہے۔ کوہالہ پاور پراجیکٹ پچھلے ہفتے سائن ہوا یہ گواردر کا 400 میگاواٹ کا پراجیکٹ ہے جو لیز کے مسئلے کی وجہ سے پھنسا ہوا تھا جبکہ بلوچستان کے علاقوں میں مسائل کے حل کیلئے پراجیکٹس لگا رہے ہیں، وزیراعظم نے 17 بلین روپے سدرن گرڈ کیلئے منظور کیے، گواردر پورٹ پر بجلی ایران سے آرہی ہے جس کے بہت سے مسائل ہیں۔ ہم درآمدی کوئلے کے بجائے اپنے ذاتی کوئلے سے فیول کی پیداوار پر جائیں گے، ہم کوئلے سے کیمیکلز نکالنے کے حوالے سے مشاورت کر رہے ہیں، کوئلے کی کان لگانے کیلئے 105 کلومیٹر کی ریلوے لائن درکار ہے۔ تمام پراجیکٹس وزارتوں کے اشتراک سے ہو رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں بجلی کا بڑا مسئلہ ہے، چینی کمپنیوں سے کمراٹ گاؤں میں سڑکیں اور بجلی کے حوالے مشاورت چل رہی ہے۔ ایسٹ وے ایکسپریس وے، ڈی آئی خان ژوب، اسلام آباد ڈی آئی خان تک سڑکیں بن رہی ہے۔ گودار ائیرپورٹ کی تعمیر کا کام شروع ہوگیا، 2400 ایکڑپر اکنامک زون بن رہا ہے، کورونا وائرس کے باجوہ مانسہرہ تھاکوٹ موٹرے وے پر کام کیا جارہا ہے،مانسہرہ تھاکوٹ موٹر وے کو جلد کھول دیا جائے گا ہوشاب آواران موٹروے پر کام جلد جاری ہوجائیگا،جبکہ سڑکوں کی تعمیر سے ان علاقوں میں انقلاب آئے گا۔ سی پیک منصوبہ درست سمت میں بڑھ رہا ہے۔فیصل آباد خصوصی اقتصادی زون میں سرمایہ کاری کیلئے درخواستیں موصول ہورہی ہے، دھابیجی خصوصی اقتصادی زون میں چینی سرمایہ کاری دلچسپی لے رہے ہیں۔ حب انڈ سٹر یل زون کیلئے اضافی زمین حاصل کی جارہی ہے،اجلاس کے دور ان چیئرمین سی پیک اتھارٹی سے بلوچستان کے سینٹرز نے خاص طور پر سوالات کئے اور عاصم سلیم باجوہ کی بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں دلچسپی دیکھ کر حیران رہ گئے،اورکہا کوئی تو ہے جسے پورے پاکستان کے تعمیر و ترقی کے منصوبوں، جفرافیے، مسائل، وسائل کا پتہ ہے۔شیری رحمن نے کہاکہ سی پیک پورے ملک کیلئے اہمیت کے حامل ہے، سی پیک پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رہا ہے، سی پیک کو آگے بڑھنا چاہئے۔ سی پیک کے حوالے سے جو تبدیلیاں لائی گئی ہے اس میں سب کی شراکت داری ہے کہ نہیں؟،سی پیک اتھارٹی میں صوبوں کی شراکت داری انتہائی اہم ہے۔ گوادر کے بغیر سی پیک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

عاصم سلیم باجوہ

مزید :

صفحہ اول -