حکومت سے نجات، ن لیگ پی پی کا عید کے بعد اے پی سی بلانے پر اتفاق، اپوزیشن کی آل پارٹی کانفرنس محض ”حلوہ پارٹی“ شہباز، بلاول کا غم ایک، فواد چوہدری، فیاض چوہان

حکومت سے نجات، ن لیگ پی پی کا عید کے بعد اے پی سی بلانے پر اتفاق، اپوزیشن کی ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے حکومت سے چھٹکارا پانے کیلئے سیاسی روابط تیز کرنے اور عید کے بعد اے پی سی بلانے پر اتفاق کر لیا۔مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی ملاقات بلاول ہاؤس لاہور میں ہوئی۔ملاقات کے بعد مسلم لیگ کے رہنما ؤں احسن اقبال،خواجہ سعد رفیق اور سردار ایاز صادق کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا اپوزیشن کے رابطے کافی دیر سے جاری تھے، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی جائیگی، ملک کی تمام جماعتیں متفق ہیں یہ حکومت خود ایک بڑا مسئلہ ہے۔ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کے مابین ملاقات میں جوائنٹ اپوزیشن کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا ہے، کمیٹی میں مسلم لیگ ن سے ایاز صادق، خواجہ آصف اور مریم اورنگ زیب شامل ہیں۔اسمبلی کے اندر بھی بڑی سیریس قانون سازی ہونے جارہی ہے، اپوزیشن جماعتیں بہترکوآرڈینشن سے عوام کی فلاح کیلئے قانون سازی کی حمایت کریں گی۔توقع ہے عید سے قبل ہوم ورک مکمل کرلیں گے، عید کے بعد لیڈرشپ کی سطح پر اے پی سی ہو گی۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا تھا موجودہ حکومت نے مہنگائی بیروزگاری کا زہر گھول دیا ہے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھی ان کے حال پر چھوڑ دیاہے۔ملک میں آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی، پاکستان کو 72 سال کے بعد تجربہ گاہ نہیں بنایا جا سکتا، ماضی میں ایسے تجربات نے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ معیشت تباہ ہوگئی، عوام کو بہتر معیار زندگی دینا دور کی بات ہو گئی ہے، گاڑیوں والے موٹر سائیکل پر آگئے ہیں جبکہ مزدور، کسان اور ڈگری ہولڈر نوجوان پریشان ہیں۔پی ٹی آئی حکومت کی وجہ سے پاکستا ن کو داخلی اور خارجی خطرات کا سامنا ہے، یہ حکومت ملکی شیرازہ بکھیر رہی ہے، اس سے نجات حاصل کرنا عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہے۔احسن اقبال نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ تمام جماعتوں سے مشاورت سے عید کے بعد اے پی سی ہو گی۔ پاکستان پر کالے قانون مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، امید ہے قوم کی امنگوں پر پورا اترسکیں گے، نااہل حکومت سے نجات عوامی امنگوں کی ترجمانی ہے۔قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا ہر آنیوالے دن نیب نیازی گٹھ جوڑ مزید واضح ہوتا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی کے خورشیدشاہ 10 ماہ سے جیل میں ہیں، ان پر الزامات ماضی میں سندھ ہائی کورٹ سے ختم ہوچکے ہیں، حمزہ شہباز بھی جیل میں ہیں، موجودہ حکومت کا تیسرا ہتھکنڈہ میڈیا کا گلا دبانا ہے۔ میر شکیل الرحمان بھی 4 ماہ سے جیل میں ہیں، ان کو فوری رہا کیا جائے۔ ہم نے مارشل لاؤں کا سامنا کیا، نیب جتنا چاہے تشدد کرلے ہم نے آمروں کا سامنا کیا جو کسی قانون کو نہیں مانتے تھے۔قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا ہمیں عوامی توقعات پر پورا اترنا ہے، ہماری کوشش ہے ان کو جلد سے جلد فارغ کیا جائے۔احسن اقبال نے کہا ایسا قانون بنایا جا رہا ہے جو نیب کا باپ نہیں دادا ہے، لیکن ہم نے حکومت کے کلہاڑوں کا مقابلہ کیا ہے، ہماری قیادت سے نچلی سطح تک سب نے جیلیں بھگتی ہیں، دو سال میں یہ حکومت اپکسپوز ہوگئی ہے۔ کورونا نے عمران خان کو بچایا ہے، کورونا نے اس حکومت کو لائف لائن اور آکسیجن دی ہے، ہم کورونا کی موجودگی میں عوامی زندگیوں سے نہیں کھیل سکتے۔سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا پیپلز پارٹی کیساتھ کوئی ڈیڈ لاک نہیں، اے پی سی کے ایجنڈے اور ٹائمنگ پر بات چیت ہو گی جبکہ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا حکومت نے خود اپنے خلاف تحریک شروع کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے کہا ہے موجودہ حکومت کے قائم رہنے سے پاکستان کوداخلی اور خارجی خطرات کا سامنا رہے گا،کورونا وائرس کی وباء حکومت کیلئے لائف لائن اورآکسیجن ثابت ہوئی ہے وگرنہ یہ حکومت اپریل، مئی تک اپنے بوجھ سے گرنے کیلئے تیار تھی۔ اکیسیویں صدی میں کوئی ریاست اس تباہ حال معیشت کیساتھ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔خطے کی صورتحال کے باعث ہمیں اندرونی اتحاد، داخلی یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن حکومت کا صرف انتقامی ایجنڈا ہے، فیٹف کے جو کمپلائنس ہیں ہم ان سے متفق ہیں لیکن حکومت فیٹف کی آڑ میں ایسا قانون بنانے جارہی ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو بغیر ریمانڈ کے 90دن تحویل میں رکھا جا سکے گا جبکہ مزید 90کا فیصلہ وفاقی یا صوبائی سیکرٹری داخلہ کی صوابدید ہوگا،کسی بھی تاجر یا صحافی پر 100ڈالر پر ہنڈی حوالہ کے نام پر اقتصادی دہشت گردی کا پرچہ دے کر اسے جیل کی کال کوٹھری میں ڈالا جا سکے گا، اس طرح کا قانون تو افغا نستان میں بھی نافذ نہیں،یہ فیٹف اور اقوام متحدہ دونوں کو بدنام کر رہے ہیں،انٹرنیشنل کمیونٹی کا نام لے کر کالا قانون مسلط کئے جا رہے ہیں،شخصی آزادیاں، آزادی رائے اور سیاسی حقوق سلب کئے جا رہے ہیں۔ احسن اقبال نے مریم نوز کی خاموشی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا وہ خاموش نہیں بلکہ ان کا ملک میں موبلائزیشن کیلئے جو کردار ہوگا وہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا،جب وقت آئے گا مریم نواز ضرور کردار ادا کریں گی۔ مسلم لیگ (ن) کا سینیٹ اور قومی اسمبلی کی پارلیمانی پارٹیوں کا مشترکہ اجلاس آج منگل کو ہو گا، اجلاس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے جاری اجلاسوں کے متعلق حکمت عملی طے کی جائے گی اور پارٹی امور زیر بحث آئیں گے، اجلاس میں ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ کو تیز کرنے سے متعلق بھی تبادلہ خیال اور مشاورت کی جائیگی جبکہ حکومتی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائیگا، اس تناظر میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں گلگت بلتستان میں ہونیو الے عام انتخابات کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا، اس کے علاوہ مرکزی صوبائی تنظیموں اور مجلس عاملہ کی تنظیم نو کے بارے میں اجلاس کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی ہدایت پر سردار ایاز صادق،احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق پر مشتمل تین رکنی وفد نے بلاول ہاؤس لاہور میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پیپلز پارٹی کی جانب سے راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور اور سید حسن مرتضیٰ شریک ہوئے۔ ملاقات میں مسلم لیگ (ن) نے بلاول بھٹو کو شہباز شریف کی طرف سے ان کے والد کی صحتیابی کیلئے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا جبکہ بلاول بھٹو نے بھی شہباز شریف کی صحت بارے آگاہی حاصل کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال،انتقامی کاروائیوں اور نیب قوانین میں ممکنہ ترامیم کے امور سمیت خصوصی طور پر آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ن لیگ، پی پی

اسلام آباد، لاہور(سٹاف رپورٹرز،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت کو مشکل صرف حکومت کی طرف سے ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا کوئی قد نہ کچھ اور جبکہ ن لیگ کو تو یہ بھی نہیں پتہ اْن کو لیڈ کس نے کرنا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کو‘’حلوہ پارٹی”کانفرنس قرا ر دیتے ہوئے کہا بہت سی جماعتوں کی عوام میں کوئی ساکھ نہیں۔ بینظیر کی قیادت میں پیپلز پارٹی بڑی پارٹی تھی۔ آصف زرداری نے بڑی محنت سے پی پی پی کو صرف سندھ کی پارٹی بنایا تو اب بلاول اس کو صرف اندرون سندھ کی پارٹی بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں فواد چوہدری کامزید کہنا تھا کہ الیکٹرک وہیکل پالیسی منظور کرانے میں ایک سال لگ گیا، الیکٹرانکس کے اسٹینڈرڈز کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔ایک ماہ میں 64 لاکھ ماسک بنائے گئے اور 250 وینٹی لیٹرز بنا رہے ہیں، پاکستان 2 ارب ڈالر کے الیکٹرو میڈیکل آلات ہر سال درآمد کرتا ہے اور ایک ارب ڈالر کے اخراجات ان آلات کی مرمت پر لگتے ہیں۔دہری شہریت کے معاملے پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پارلیمانی نظام میں غیرمنتخب لوگ فیصلہ سازی میں شامل نہیں ہوسکتے، فیصلہ سازی میں صرف منتخب لوگ حصہ لے سکتے ہیں۔ آئین کے تحت دہری شہریت والوں پر اسمبلی میں آنے پر پابندی ہے تو دہری شہریت والے کیسے کابینہ کا حصہ ہوسکتے ہیں؟ آرٹیکل 62 کے تحت آپ رکن قومی اسمبلی تو بن نہیں سکتے، آپ کابینہ میں جاکر کیسے بیٹھ گئے۔ان کا کہنا تھا پی ٹی وی کے پاس بزنس پلان کوئی نہیں لیکن فیس بڑھا دی، اس کے علاوہ پی ٹی وی فیس بڑھانے کی منظوری کابینہ نہیں دے سکتی اور کابینہ کو تحفظات سے آگاہ کردیا ہے۔دوسری طرف وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ سیاسی یتیمی کے دور سے گزرتے ہوئے شہباز شریف اور بلاول زرداری کو ایک دوسرے کا غم ہے، دونوں کی کہانی کرپشن کی ہے اور انہیں احتساب کا غم ہے۔شہباز شریف اور بلاول زرداری کے درمیان ٹیلیفونک رابطوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’تیرا غم میرا غم اک جیسا صنم، ہم دونوں کی ایک کہانی‘ کے مصداق دونوں کے درمیان رابطے ہو رہے ہیں، دونوں ایک دوسرے کیساتھ چالاکی اور موقع پرستی کی سیاست کرنے کے چکر میں ہیں۔ بڑے بھائی اور بھتیجی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے شہباز شریف پر بلاول اعتبار کرنے سے ہچکچا رہے ہیں، منظور پاپڑ فروش جیسے کردار سامنے آنے پر اپوز یشن کے آپس میں رابطے بڑھ جاتے ہیں۔ اے پی سی کو جتنا غیر متحدہ اپوزیشن نے بدنام کیا ہے، شاید ہی کسی نے کیا ہو، شہباز شریف کی سیاست صرف خط اور بیان بازی جبکہ بلاول کی سیاست تقریروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ میری شہباز شریف اور بلاول زرداری سے گزارش ہے کہ کورونا کیخلاف اور معاشی استحکام کی جدوجہد میں حکومت کا ساتھ دیں۔ وزیراعظم عمران خان کی پالیسیوں کے نتیجے میں کورونا کیسزکی تعداد کم ہو رہی ہے۔

فواد،فیاض چوہان

مزید :

صفحہ اول -