خواجہ برادران کیخلاف نیب کیس انسانی تذلیل کی بدترین مثال: سپریم کورٹ

      خواجہ برادران کیخلاف نیب کیس انسانی تذلیل کی بدترین مثال: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ نے مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی پیراگون ہاؤسنگ سکیم کیس میں منظور کی گئی ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔سپریم کورٹ نے امسال 17 مارچ کو اس مقدمے میں خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی ضمانت 30،30 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی تھی۔سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی 17 مارچ کو دی گئی ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ 87 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جسٹس مقبول باقر نے تحریر کیا ہے۔قانون اور آئین کا جائزہ لینے کے باوجود یہ راز میں ہے کہ یہ مقدمہ کیسے بنایا گیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ ضمانت کا مقصد ملزم کی ٹرائل میں حاضری کو یقینی بنانا ہے، مقصد سزا دینا، جیل بھیجنا یا آزادی سے محروم کرنا نہیں بلکہ تمام مہذب معاشروں میں مجرم قرار دینے کے بعد ہی سزا شروع ہوتی ہے، جب تک ٹرائل کے بعد سزا نہ سنادی جائے ملزم بیگناہ تصور ہوتا ہے، ٹرائل سے پہلے یا ٹرائل کے دوران سزا اذیت کا باعث ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے ملک میں آئین کے برعکس پاکستان کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق کے منافی عمل ہورہا ہے، جب بھی قانون کی حکمرانی آئین کی بالادستی کی کوشش کی گئی تو اسے پوری قوت سے دبانے کی کوشش کی گئی، مسلسل غیرآئینی مداخلت کی گئی، غیرجمہوری قو تو ں کی طرف سے طاقت کی ہوس، قبضے کا لالچ آئینی اورجمہوری اصولوں کی نفی بنتا گیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پیرا گون مقدمہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، غیر قانونی طور پر آزادی سلب کرنے کی بڑی مثال ہے، نیب نے اس مقدمے میں قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کی، قانون اور آئین کا جائزہ لینے کے باوجود یہ راز میں ہے کہ یہ مقدمہ کیسے بنایا گیا۔نیب قوانین پر سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ نیب قانون ملک میں بہتری کے بجائے مخالفین کا بازو مروڑنے کیلئے استعمال کیا گیا، نیب قانون وفاداری تبد یل کرانے، سیاسی مخالفین کو سبق سکھانے، سیاسی جماعتوں کو توڑنے کیلئے استعمال کیا گیا، چھوٹے لوگوں کو منتخب اور ان کی نشوونما کرکے اہم عہدوں پر بٹھایا گیا، جن کے بدنما ماضی اور مجرمانہ ریکارڈ تھے، انہیں قوم پر مسلط کیا گیا، اس دوران ملک میں کرپشن میں اضافہ ہوتا گیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں جمہوری قدروں، آئین کی حکمرانی اور برداشت کو ہوا میں اڑایا گیا، ایسے لوگ جنہوں نے ملک میں تباہی اورموت کا کھیل رچایا، انہیں تحفظ فراہم کیا جاتا رہا، ملک کا کوئی بھی ادارہ کرپشن سے پاک نہیں ہے۔جسٹس مقبول باقر نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ نیب آرڈیننس کا قانون جنرل پرویز مشرف دور کا نیب قانون اپنے اجراء سے ہی انتہائی متنازع ہے، عام تاثر یہ ہے کہ یہ قانون سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعما ل ہوتا ہے، نیب کے امتیازی رویے کے باعث اس کا اپنا امیج متاثر ہوتا ہے اور اس کی غیرجانبداری سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔نیب کے کردار پر سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ نیب سیاسی لائن کے دوسری طرف کھڑے ایسے افراد جن پربڑے مالی کرپشن کے الزامات ہیں کیخلاف تو کوئی قدم نہیں اٹھاتا جبکہ دوسری طرف کے افراد کو گرفتار کرکے مہینوں اور سا لوں تک بغیر وجہ اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔نیب کردار سے متعلق فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب قانون کہتا ہے کہ تفتیش جلد مکمل کی جائے اور 30 دن میں ریفرنس کا فیصلہ ہو مگر نیب مقدمات میں مہینوں اور سالوں تک تفتیش مکمل نہیں کر پاتا، سالوں گزرنے کے باوجود فیصلے نہیں ہوتے، وجہ نیب میں پیشہ وارانہ مہارت کا فقدان ہے، یہی وجہ ہے کہ نیب مقد ما ت میں سزا کی شرح انتہائی حد تک کم ہے، اس سے قومی مقصد پورا ہونے کے بجائے ملک و قوم اورمعاشرے کو ہمہ جہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ نیب خواجہ برادران کا پیراگون سٹی پر کنٹرول ثا بت کرنے میں ناکام رہا، ریفرنس اور تفتیشی رپورٹ میں تضادات ہیں۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستا ن بنے 72 سال اور آئین پاکستان کو بنے ہوئے 47 سال ہو چکے لیکن آج بھی پاکستانی عوام کو آئین میں دیئے گئے حقوق نہیں مل رہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جمہوری اقدار، احترام، برداشت، شفافیت اور مساوات کے اصولوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ عدم برداشت، اقربا پروری، جھوٹ، دھونس اور خود نمائی ترجیحات بن چکی ہیں۔ عدا لت عالیہ نے کہا کرپشن پاکستانی معاشر ے میں مکمل طور پر رچ بس چکی کی ہے۔ انا پرستی اور خود کو ٹھیک کہنا معاشرے میں جڑ پکڑ چکا ہے۔عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عوام کو آ ئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے ہمیشہ محروم رکھا گیا۔ آئین کی حکمرانی کی ہر کوشش کو بھرپور انداز میں دبایا گیا۔ ماضی میں بدقسمتی سے بار بار غیر آئینی مداخلت کی گئی۔ اقتدار کی ہو س اور ہر چیز پر قبضے کی خواہش نے اداروں کی حدود کی توہین کی۔ عوام کی فلاح اور غربت کا خاتمہ ترجیحات میں کہیں شامل نہیں، خواجہ برادر ا ن کیخلاف کیس انسا نیت کی تذلیل کی بدترین مثال ہے۔جسٹس مقبول باقر نے فیصلے کے آ خر میں حبیب جالب کے اس شعر کا بھی حوالہ دیا کہ۔۔۔ ظلم رہے اور امن بھی ہو۔۔۔ کیا ممکن ہے تم ہی کہو۔ خیال رہے 11 دسمبر 2018ء کو قومی احتساب بیورو(نیب) نے خواجہ برادران کو پیراگون ہاؤسنگ کیس میں مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -