صدر ٹرمپ سخت امیگریشن پالیسی پر مبنی ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کیلئے تیار

    صدر ٹرمپ سخت امیگریشن پالیسی پر مبنی ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کیلئے تیار

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) معلوم ہوا ہے کہ صدرڈونلڈ ٹرمپ بہت جلد ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنیوالے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنی سخت امیگریشن پالیسی کو نافذ کرنے کی کوشش کریں گے۔ وائٹ ہاؤس ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس اس آرڈر کو آسانی سے رد کردیگی۔ ویسے بھی اسے پوری ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کے علاوہ صرف صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر اور ایک اور مشیر سٹیفن ملر اس منصوبے کے حق میں ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کانگریس کی منظوری کے بغیر اس سے بالا بالا کوئی آرڈر جاری ہوگا تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ اس کا جوا ب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کہتے ہیں مجھے سپریم کورٹ نے اتھارٹی فراہم کر رکھی ہے۔ واشنگٹن کے ٹی وی چینل ”ایکسیوز“ نے صدر ٹرمپ کے ان عزا ئم پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایک وکیل جان یو سے متاثر نظر آتے ہیں جنہوں نے نائن الیون کے بعد سابق صدر بش کے دور میں سی آئی اے کی واٹر بورڈنگ کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کیلئے قانونی دلائل فراہم کرنے میں مدد کی تھی۔ اس وکیل نے ”نیشنل ریویو“ میں ایک مضمون لکھا تھا جسے وائٹ ہاؤس نے اپنی سائٹ پر نمایاں چھاپا تھا جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ امیگریشن کے حوا لے سے اپنا جو فیصلہ دیا تھا اس پر عمل کرتے ہوئے صدر ٹرمپ قانون کی خلاف ورزی کرسکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قوت حاصل کی ہے کہ سپر یم کورٹ نے انہیں اتھارٹی دیدی ہے۔ ”ایکسپوز“ ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوبامہ کے دور میں والدین کیساتھ غیرقانونی طور پر امریکہ آنیوالے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے DACA نامی جو قانون منظور کیا تھا اس کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ عدالت گئی تھی جب سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ دیکر مسترد کردیا تھا۔ صدر ٹرمپ اب اس فیصلے کے بعد اس سلسلے میں پالیسی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ تیار

مزید :

صفحہ اول -