لیسکو کا گلبرگ میں کریک ڈاؤن، 15بجلی چور رنگے ہاتھوں پکڑ لئے

    لیسکو کا گلبرگ میں کریک ڈاؤن، 15بجلی چور رنگے ہاتھوں پکڑ لئے

  

لاہور(خبرنگا ر)ایس ای ساؤتھ سرکل لیسکو چوہدری منظورحسین کی ہدایت پرایس ڈی او لبرٹی مارکیٹ سہیل افتخارنے بجلی چوروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرکے 15بجلی چوروں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا ہے۔ ایس ای لیسکو ساؤتھ سرکل چوہدری منظورحسین کے مطابق چیف ایگزیکٹولیسکو مجاہد پرویز چٹھہ کی ہدایت پر ساؤتھ سرکل میں ایکسیئن حضرات کی نگرانی میں بجلی چوری کی روک تھام اوربجلی چوروں کے خلاف آپریشن کیلئے سپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اسی سلسلہ میں ایکسیئن گلبرگ عباس علی کی نگرانی میں ایس ڈی او لبرٹی مارکیٹ سب ڈویڑن سہیل افتخار نے اپنی سپیشل ٹیم کے ہمراہ بجلی چوروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران 200سے زائد کمرشل اورگھریلو کنکشن چیک کیے گئے ہیں جس میں 15بجلی چوروں کے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایس ڈی او لیسکو لبرٹی مارکیٹ سب ڈویڑن سہیل افتخار کا کہنا ہے کہ چیف ایگزیکٹولیسکو مجاہد پرویز چٹھہ کی ہدایت پر بجلی چوروں کے خلاف سپیشل ٹیم کے ہمراہ روزانہ کی بنیا د پر کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے جس میں رواں ماہ کے دوران 200سے زائدکمرشل اورگھریلو کنکشنزچیک کیے گئے ہیں اوراس میں 15بجلی چورو ں کو رنگے ہاتھوں گرفتا رکیا گیا ہے جس میں زیادہ تر ماڈل کالونی گلبرگ،مکہ کالونی گلبرگ اورگورومانگٹ کی آباد ی میں بجلی چوری پکڑی گئی ہے۔ بجلی چوری کے دوران ڈائریکٹ سپلائی جبکہ دوسرے نمبر پر میٹروں کو ٹیمپر کرکے بجلی چوری پکڑی گئی ہے۔ ایس ڈی او سہیل افتخار کا کہنا ہے کہ بجلی چوری میں ملوث افراد کو 60ہزار سے زائد یونٹ چارج کیے گئے ہیں بجلی چوروں کو لاکھوں روپے کے ڈٹیکشن بل (جرمانے)ڈالے گئے ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ 11بجلی چوروں کے خلاف تھانہ گلبرگ سمیت متعلقہ تھانوں میں مقدمات درج کروادیے گئے ہیں اسی طرح گنجان آبادیوں میں بجلی کی سپلائی میں تعطل کی شکایات کو دورکردیاگیا ہے جس میں ماڈل کالونی،گورومانگٹ آبادی اورمکہ کالونی میں 10نئے ٹرانسفارمرنصب کیے گئے ہیں اوران آبادیوں میں گذشتہ کئی سال پرانی اوربوسیدہ بجلی کی سپلائی لائنوں کو ختم کرکے ان کی جگہ فور کور کیبلز بچھادی گئی ہے جس سے بجلی کی سپلائی میں 100فیصد بہتری ا?ئی ہے اوراس سے بجلی چوری کی روک تھام کے ساتھ ساتھ بجلی کے لائن لاسز پر بھی قابو پانے میں کامیابی ملی ہے۔

لیسکو چھاپے

مزید :

صفحہ آخر -