قبائلی اضلاع میں ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہے، کامران بنگش

قبائلی اضلاع میں ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہے، کامران بنگش

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے ضم شدہ اضلاع میں الیکشن کا ایک سال مکمل ہونے پر قبائلی عوام اور منتخب نمائندوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ 20 جولائی 2019 کو تاریخ میں پہلی بار ضم شدہ اضلاع میں صوبائی الیکشن کے ذریعے 21 قبائلی ممبران کو خیبر پختون خوا اسمبلی میں نمائندگی دی گئی ہے جن میں 16 ممبران الیکشن کے ذریعے منتخب ہوئے جبکہ چار خواتین اور1 اقلیتی رکن بھی خیبر پختون خوا اسمبلی کا حصہ بنے۔قبائلی اضلاع میں الیکشن کا ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے ضم شدہ اضلاع کے ممبران صوبائی اسمبلی شفیق افریدی، عائشہ بانو اور انیتہ محسود کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلی محمود خان کی قیادت میں قبائلی اضلاع میں ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہے۔ قبائلی اضلاع کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لئے تیز ترقیاتی پروگرام کے تحت مختلف منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے عوام کو ایف سی آر کے کالے قانون سے نجات اور عدالتی نظام کو قبائلی اضلاع تک وسعت دی گئی ہے۔پہلی بار قبائلی عوام کو اپیل، دلیل اور وکیل کا حق دیا گیا ہے۔کامران بنگش نے کہا کہ 29 ہزار خاصہ دار فورس کو خیبر پختون خوا پولیس میں ضم کیا گیا ہے اسکے علاوہ قبائلی اضلاع کی 100 فیصد آبادی کو صحت انصاف کارڈ کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔ جس کے ذریعے ہر خاندان کومفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ضم شدہ اضلاع کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ بلدیاتی نظام کے تحت ویلج اور نیبر ھوڈ کونسلزمیں 1404 اسامیاں تخلیق کی گئی ہے۔ضم شدہ اضلاع میں 25 ٹی ایم ایز کے اعلامیے بھی جاری کئے جاچکے ہیں اسکے علاوہ صفائی اور گندگی اٹھانے کے لئے 50 آرم رول ٹرکس اور 600 کنٹینرز بھی قبائلی اضلاع کو فراہم کئے گئے ہیں۔صحت کے شعبے میں 1297 اسامیاں جبکہ تعلیم کے شعبے میں 4495 اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ ریسکیو 1122کا دائرہ کار قبائلی اضلاع تک بڑھایا گیا ہے جہاں 21 ریسکیو سٹیشن زیر تعمیر ہیں جبکہ 4 سٹیشن مکمل طور پر فعال بنا دئیے گئے ہیں۔ اسکے علاوہ ریسکیو میں 1861 اسامیاں تخلیق کی گئی ہے جن میں 1193 اسامیوں پر ضم شدہ اضلاع کے ڈومیسائل رکھنے والے بھرتی کئے گئے جبکہ باقی اسامیوں پر بھی جلد تعیناتیاں کی جائیگی.انصاف روزگار سکیم کے تحت 4118 افراد کو 94 کروڑ 50 لاکھ روپے بلاسود قرضے فراہم کئے گئے ہیں جبکہ 66 ارب روپے کی لاگت سے خیبر پاس اکنامک کوریڈور منظور کرلیا گیا ہے۔معاون خصوصی کامران بنگش نے مزید بتایا کہ اسکے علاوہ تیز تر ترقیاتی پروگرام کے تحت ضم شدہ اضلاع میں سال2019-20کے دوران 24ارب روپے کے منصوبے مکمل کئے جاچکے ہیں جبکہ مالی سالی 2020-21 کے لئے 49 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے لئے سالانہ بجٹ میں منظور ہونے والے منصوبے الگ سے جاری رہیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -