عید کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر کیا کرنے جارہی ہیں ؟

عید کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر کیا کرنے جارہی ہیں ؟
عید کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر کیا کرنے جارہی ہیں ؟

  

لاہور(ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی نے عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق کیا ہے۔مسلم لیگ ن کے تین رکنی وفد نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں طے پایا کہ عید کے بعد قیادت کی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس کی جائے گی اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔

مسلم لیگی وفد میں احسن اقبال، ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق شامل تھے۔بلاول ہائوس میں ملاقات کے بعد دونوں پارٹیوں کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا دونوں جماعتوں نے عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ن لیگی احسن اقبال کا کہنا تھا عوام کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس حکومت سے ملک کو داخلی اور خارجی خطرات ہو سکتے ہیں۔ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ اس حکومت کو ہٹانا عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہے۔ ملک کے مزدور، کسان اور نوجوان پریشان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک آئین پاکستان کے علاوہ کسی راستے پر نہیں چلایا جا سکتا۔ حکومت کو گنجائش دینے کا مقصد مسائل کو فروغ دینا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ اگر کورونا کی وبا نہ آتی تو حکومت اپنے بوجھ تلے دبنے کیلئے تیار تھی۔ کورونا وائرس کی وجہ سے موجودہ حکومت کو لائف لائن ملی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ حکومت ہماری قیادت پر دبائو بڑھانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دن بدن نیب نیازی گٹھ جوڑ واضح ہوتا جارہے۔

ن لیگی وفد کی بلاول بھٹو سے ملاقات پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اپوزیشن کبھی ایک اور نیک نہیں ہوسکتی ،اے پی سی کو اپوزیشن نے بدنام کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اور شہبازشریف ایک دوسرے کو دھو کہ دے رہےہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن عوام کی نظروں میں دھول جھونک رہے ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کوآصف زرداری کنٹرول کررہے ہیں وہ شہبازشریف کے ساتھ کبھی بیٹھ نہیں سکتے، اپوزیشن کا اونٹ کھڑا رہے گا اور کسی کروٹ نہیں بیٹھے گا۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاب شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے درمیان گزشتہ روز ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا تھا۔

بلاول بھٹو نے شہبازشریف کی مزاج پرسی کی اور ان کی صحت کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا جبکہ شہبازشریف نے سابق صدر آصف زرداری کی صحت کیلئے خیرسگالی کا پیغام دیا۔گزشتہ ہفتے بھی شہبازشریف اور بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا جس میں دونوں رہنمائوں نے آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی) کے انعقاد پر مشاورت کی تھی۔

یاد رہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کو یکسر طور پر مسترد کرتے ہوئے اے پی سی بلانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ پی پی سمیت ملک کی دیگر اپوزیشن جماعتیں پیش کردہ بجٹ پر جلد آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کریں گی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان ان دنوں تاریخی چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہر پاکستانی کی جان خطرے میں ہے۔

دوسری جانب انتہائی ذمہ دار ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کرنے سے گریزاں ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -