میں جب دلائل دیتا ہوں آپ کو کیوں تکلیف ہونا شروع ہو جاتی ہے؟،نیب پراسیکیوٹر فاروق ایچ نائیک مداخلت پر سیخ پا

میں جب دلائل دیتا ہوں آپ کو کیوں تکلیف ہونا شروع ہو جاتی ہے؟،نیب پراسیکیوٹر ...
میں جب دلائل دیتا ہوں آپ کو کیوں تکلیف ہونا شروع ہو جاتی ہے؟،نیب پراسیکیوٹر فاروق ایچ نائیک مداخلت پر سیخ پا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پارک لین ریفرنس میں آصف زرداری ٹرائل کےخلاف نئی درخواست پر سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی نے فاروق ایچ نائیک کو مداخلت کرنے سے روکتے ہوئے کہاکہ اس کیس میں سب سے پہلے ہمیں حقائق دیکھنے ہیں ،آپ مداخلت مت کریں میں کیس کااوورویو دے رہا ہوں ،میں جب دلائل دیتا ہوں آپ کو کیوں تکلیف ہونا شروع ہو جاتی ہے؟۔

میڈیارپورٹس کے مطابق احتساب عدالت میں آصف زرداری کے پارک لین ریفرنس میں ٹرائل کےخلاف نئی درخواست دائرکردی گئی، درخواست میں کہاگیا ہے کہ پہلے اس قانونی نکتے پر فیصلہ کیا جائے کہ یہ ریفرنس عدالتی دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں، نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے نئی درخواست پر اعتراض اٹھادیا،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہاکہ اسی نوعیت کی ایک درخواست تو پہلے سے دائر ہے، نئی درخواست تاخیری حربہ ہے،پہلی درخواست میں جو باتیں کی گئیں، دوسری درخواست میں بھی وہی بیان کی گئیں، ان کو رات کو خواب آ جاتا ہے کہ صبح نئی درخواست دائر کرنی ہے، سردار مظفر عباسی نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہاکہ درخواست بھاری جرمانے کے ساتھ مسترد کی جائے۔

نیب پراسیکیوٹر ے کہاکہ فردجرم عائد کرنے کے فیصلے کے بعد ریفرنس خارج کرنے کی درخواست دائر نہیں ہو سکتی،کراچی میں فرد جرم عائد کرنے کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے،ریفرنس خارج کرنے کا اختیار ہائیکورٹ کے پاس ہے، احتساب عدالت کے پاس نہیں، آصف زرداری کی نئی نئی درخواستوں کا مقصد تاخیری حربے اپنانا ہے۔

دوران سماعت آصف زرداری کے وکلا اور نیب پراسیکیوٹرز کے درمیان شدید گرما گرمی ہوگئی،احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے اظہار برہمی اور وکلا کو تنبیہ کی، جج احتساب عدالت محمد اعظم نے کہاکہ عدالت کو سیاسی اکھاڑا مت بنائیں، آپ کیوں شور کر رہے ہیں یہاں کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا،چیخ کیوں رہے ہیں؟ میں کسی کو اپنی عدالت میں چیخنے کی اجازت نہیں دے سکتا،جج احتساب عدالت نے کہاکہ فاروق نائیک صاحب آپ نے آج دلائل مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا ،آپ اپنی پہلی درخواست پر دلائل دیں میں عدالتی دائرہ اختیار پر اس کیساتھ ہی فیصلہ کرونگا۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ سردار مظفر عباسی کو خواب والے ریمارکس پر معافی مانگنی پڑے گی،سردار مظفر عباسی ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہاکہ میں معافی نہیں مانگوں گا۔

سجاد اکبرعباسی نے کہاکہ سینئرکونسل کے ساتھ ایسے بات نہیں کر سکتے، سردارمظفرعباسی نے سجاد اکبر عباسی کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ آپ بات نہ کریں اس ریفرنس میں آپ کونسل ہی نہیں،آپ کو حق نہیں کہ آپ بات کریں۔

فاروق ایچ نائیک نے عدالتی دائرہ کار کا تعین کرنے سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ نے کیس کے میرٹ میں جانے سے پہلے دائرہ کارکا تعین کرنے کا کہا ہے، عدالت کو دیکھنا ہے کہ کیس میں نیب قانون لاگو ہوگا یا فنانشل ریکوری ایکٹ، نیب قانون لاگو ہوتو عدالت کا دائرہ کاربنتا ہے،ریکوری ایکٹ ہوتو دائرہ کار نہیں بنتا، عدالت سمجھتی ہے کہ نیب آرڈیننس لگتا ہے توکارروائی کو جاری رکھا جاسکتا ہے۔

سابق صدر آصف زرداری کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ تمام قوانین کے مطابق پارک لین کیس بینکنگ کورٹ کا دائرہ اختیار ہے،انتہائی ادب سے درخواست ہے جج صاحب یہ آپ کا دائرہ اختیار نہیں، فنانشل اداروں کے 2001 والے آرڈیننس میں اس جرم کی سزا 3 سال بتائی گئی،نیب آرڈیننس میں 14 سال سزا ہے ، اس لیے یہ ٹرائل یہاں نہیں ہوسکتا، 3 سال سزا والے جرم پر14 سال سزا والے قانون کے تحت ٹرائل چلانا درست نہیں۔

عدالت نے آصف زرداری کے خلاف پارک لین کیس کی سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ کردیا،سردار مظفرعباسی اور فاروق نائیک نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملاکرتلخ کلامی پر معذرت کرلی۔

وقفے کے بعد نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ اس کیس میں سب سے پہلے ہمیں حقائق دیکھنے ہیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ آپ کیس پر آئیں،عدالت کے دائرہ اختیار کے حوالے سے بات کریں،نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ آپ مداخلت مت کریں میں کیس کااوورویو دے رہا ہوں ،فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ آپ قانون پر بات کریں ،عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق بات کریں ۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا یہ کہتے ہیں جرم تو ہوا ہے جرم سے انکار ی نہیں ہیں،کرپٹ پریکٹس کے ایکسکلویسوجوریسڈکشن نیب کورٹ کے پاس ہے ۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی نے دوران سماعت فالودے والے کا تذکرہ کردیا جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ آپ میڈیا میں ہیڈلائن بنانے کیلئے بات کررہے ہیں،فالودے والا کہاں سے آگیا؟احتساب عدالت نے کہاہمیں سٹیپ بائی سٹیپ دلائل دیں کسی اورریفرنس کاذکر نہ کریں ۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ میں جب دلائل دیتا ہوں آپ کو کیوں تکلیف ہونا شروع ہو جاتی ہے؟آصف زرداری کی لیگل ٹیم نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ آپ بات ہی فالودے سموسے پکوڑے کی کرتے ہیں ،ہم نے سپریم کورٹ کے کل کے فیصلے کا ذکر کرناشروع کردینا ہے ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -