نوجوان لڑکیوں کو جنسی غلام بنا کر رکھنے والے 77 سالہ آدمی کی کہانی سامنے آگئی

نوجوان لڑکیوں کو جنسی غلام بنا کر رکھنے والے 77 سالہ آدمی کی کہانی سامنے آگئی
نوجوان لڑکیوں کو جنسی غلام بنا کر رکھنے والے 77 سالہ آدمی کی کہانی سامنے آگئی

  

روم(مانیٹرنگ ڈیسک) اٹلی میں پولیس نے ایک ایسی گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے جو گزشتہ 30سال سے نوجوان لڑکیوں کو جنسی غلام بنا کر رکھنے سمیت دیگر جرائم کا مرتکب ہو رہا تھا۔ میل آن لائن کے مطابق 77سالہ ملزم صرف ’دی ڈاکٹر‘ کے نام سے معروف ہے۔ اس نے لگ بھگ تین دہائیاں قبل یہ فرقہ بنایا تھا اور اس کے پیروکاروں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ گروہ میں شامل ہونے والی خواتین کو برین واش کرکے جنسی غلام بنا لیا جاتا اور ان سے جنسی زیادتی کے ساتھ ساتھ ساتھ ہر طرح کا ظلم روا رکھا جاتا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم ڈانس سکولز، ہربلسٹس، کرافٹ شاپس اور پبلشنگ ہاﺅسز سمیت کئی طرح کے کاروباروں کا استعمال کرکے خواتین کو ورغلاتا اور اپنے گروہ میں شامل کرتا تھا۔ وہ زیادہ تر امیر خواتین کو اپنا شکار بناتا تھا۔ وہ ان خواتین کو ایسے عقائد سکھاتا کہ جس میں خواتین پر ہر طرح کا تشدد جائز قرار دیا گیا تھا اور خواتین بھی برین واشنگ کے بعد اس تشدد کو قبول کر لیتی تھیں۔ ملزم کے وفاداروں میں ماہرین نفسیات بھی شامل تھے جو خواتین کی برین واشنگ کرتے تھے۔ جو خاتون گروہ میں شامل ہوتی، اسے سب سے پہلے اپنے خاندان سے ہر طرح کا رابطہ ختم کرنے پر قائل کیا جاتا اور پھر بتدریج اس پر مظالم کا آغاز کیا جاتا۔ان خواتین کو رہائش اور کھانا وغیرہ دیا جاتا تھا تاکہ ان کا مکمل انحصار اس گروہ پر ہو جائے اور وہ اپنی مرضی کرنے کی پوزیشن میں نہ رہیں۔ جب خواتین خاندان سے تعلق منقطع کر لیتیں تو انہیں جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کے لیے تیار کیا جاتا۔ انہیں بتایا جاتا کہ اس طرح ان کے گناہ دھل جائیں گے اور انہیں خفیہ جادوئی دنیا تک رسائی مل جائے گی۔ان مراحل کو عقیدے کے ٹیسٹ قرار دیا جاتا اور خواتین یہ ظلم برداشت کرکے ٹیسٹ میں پاس ہونے کی کوشش کرتیں۔پولیس کے مطابق ملزم 30سال سے خواتین کے ساتھ یہ ظلم کر رہا تھا جسے گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -