مطیع اللہ جان سے کبھی دوستی نہیں رہی، وہ مجھے شدت کی حد تک ناپسند کرتے ہیں لیکن وہ۔۔۔۔سلیم صافی نے ناقابل یقین بات کہہ دی

مطیع اللہ جان سے کبھی دوستی نہیں رہی، وہ مجھے شدت کی حد تک ناپسند کرتے ہیں ...
مطیع اللہ جان سے کبھی دوستی نہیں رہی، وہ مجھے شدت کی حد تک ناپسند کرتے ہیں لیکن وہ۔۔۔۔سلیم صافی نے ناقابل یقین بات کہہ دی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف صحافی اور متنازعہ تجزیہ کار مطیع اللہ جان کی "پراسرار گمشدگی "اور مبینہ اغوا نے پورے ملک کے حکومت مخالف صحافتی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے جبکہ سیاسی اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ حکومتی وزرا بھی مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں ،ایسے میں معروف صحافی اورحکومت کے مخالف سمجھے جانے والے اینکر پرسن سلیم صافی نے ایسی بات کہہ ہے کہ ہر کوئی پریشان ہو جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹس کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ مطیع اللہ جان سے کبھی دوستی نہیں رہی،وہ مجھے شدت کی حد تک ناپسند کرتے ہیں، میرے خلاف کالم بھی لکھے اور بولتے بھی ہیں، مجھے بھی کئی حوالوں سے ان کے طرز صحافت سے اختلاف ہے لیکن وہ بہادر صحافی ہیں۔سلیم صافی کا کہنا تھا کہ آج اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ظلم ہے جس کے خلاف آواز اٹھانا سب کا فرض ہے،مطیع اللہ جان کا معاملہ وزیراطلاعات شبلی فراز اورمعاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کے لئے ٹیسٹ کیس ہے، دیکھتے ہیں وہ انہیں بازیاب کراکر اپنی عزت بڑھاتے ہیں یا پھر "اگر مگر" سے کام لے کر فردوس عاشق اعوان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔

سلیم صافی نے کہا کہ مطیع اللہ جان کے دن دہاڑے اغوا سے دنیا کو پیغام گیا کہ پاکستان دہشتستان ہے،یہ سپریم کورٹ کو بدنام کرنے کی بھی سازش ہے کیونکہ انہیں وہاں سےنوٹس ملا تھا،سپریم کورٹ سےالتجاہے کہ وہ حکومت کو مطیع کو فوری بازیاب کرواکر اپنے سامنے پیش کرنے کے احکامات جاری کرے۔

سلیم صافی نے مطیع اللہ جان کے صاحبزادے کا ٹویٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹویٹ مطیع اللہ جان کے بیٹے کی ہے، ذرا سوچئے ان کے اور مطیع کے دیگر اہل خانہ پر اس وقت کیا قیامت گزر رہی ہوگی؟ جن لوگوں نے ان کو اٹھایا ہے وہ مکافات عمل کے قانون کو یاد رکھیں،میرا ایمان ہے کہ جس نے دوسروں کے بچوں کو رُلایا، اُن کے بچے کبھی نہ کبھی رونے پر ضرور مجبور ہوئے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -