اپوزیشن جماعتیں مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا پر یکجان ہو گئیں،قومی اسمبلی میں ایسا کام کر دیا کہ حکومتی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی

اپوزیشن جماعتیں مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا پر یکجان ہو گئیں،قومی اسمبلی ...
 اپوزیشن جماعتیں مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا پر یکجان ہو گئیں،قومی اسمبلی میں ایسا کام کر دیا کہ حکومتی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج اور ایوان سے واک آؤٹ ،اپوزیشن ارکان خواجہ سید نوید قمر، خواجہ آصف، عبد القادر پٹیل، میاں جاوید لطیف و دیگر نے کہا ہے کہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو پولیس نے ریاستی دہشتگردی کرتے اٹھا یا، یہ انفرادی شخص پر وار نہیں پورے پاکستان کے میڈیا کی زبان بندی کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے، ملک میں پہلے ہی اظہار رائے پریشر میں ہے،یہ شرمندگی کی بات ہے،اسکی ہم مذمت کرتے ہیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں شروع ہوا، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے لاپتہ ہونے کامعاملہ ایوان میں اٹھایا، نوید قمر نے کہاکہ پریس گیلری خالی ہے، سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو پولیس نے ریاستی دہشتگردی کرتے اٹھا لیا، یہ انفرادی شخص پر وار نہیں پورے پاکستان کے میڈیا کی زبان بندی کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے، ملک میں پہلے ہی اظہار رائے پریشر میں ہے، یہ شرمندگی کی بات ہے، اسکی ہم مذمت کرتے ہیں، انہوں نے صحافی کی گمشدگی پر واک آؤٹ کا اعلان کر دیا۔مسلم لیگ ن کےخواجہ آصف نے کہا کہ اسطرح لوگوں کو اٹھانے سے سچ دبایا نہیں جا سکتا، سچ کو اسطرح شکست نہیں دی جاسکتی، اپوزیشن نے معاملے پر ایوان سے علامتی واک آئوٹ کیا جبکہ پریس گیلری میں موجود تمام صحافی بھی مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا پر ایوان سے واک آؤٹ کر گئے تاہم ڈپٹی سپیکر نے علی محمد خان کو ہدایت کی کہ اپوزیشن کو واپس ہاؤس میں لیکر آئیں۔ڈپٹی سپیکر کی جانب سے وزیر مواصلات مراد سعید کو فلور دینے پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا اور پیپلزپارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے کورم کی نشاندہی کر دی،گنتی کرانے پر کورم پورا نہ نکلا جس پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس کی کاروائی جمعرات صبح 11 بجے تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -