مغوی صحافی مطیع اللہ جان کی اہلیہ بھی میدان میں آگئیں

مغوی صحافی مطیع اللہ جان کی اہلیہ بھی میدان میں آگئیں
مغوی صحافی مطیع اللہ جان کی اہلیہ بھی میدان میں آگئیں

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )صحافی مطیع اللہ جان کی اہلیہ کنیز صغریٰ نے بتایا کہ ’آج صبح دس بجے مطیع اللہ جان نے مجھے اسلام آباد ماڈل سکول کے باہر اتارا جہاں میں پڑھاتی ہوں۔ انہیں ان کے شوہر نے تقریباً ساڑھے بارہ بجے واپس لینا تھا۔ تاہم وہ نہیں آئے اور وہ سکول میں ان کا انتظار کرتی رہیں۔دریں اثنا سکول کے چوکیدار نے کہا کہ آپ کی گاڑی تو باہر کھڑی ہے لیکن مجھے یقین نہیں آیا کیونکہ اگر وہ باہر ہوتے تو مجھے فون ضرور کرتے۔ان کا کہنا ہے کہ جب بارش تیز ہوگئی اور کافی دیر ہوگئی تو میں نے باہر جاکر دیکھا، گاڑی سکول کے صدر دروازے سے کچھ آگے کھڑی تھی۔

صحافی حسن کاظمی کو انٹر ویو دیتے ہوئے کنیز صغریٰ نے مزید بتایا کہ ’جب میں آئی تو ان کی گاڑی کھڑی ہوئی تھی اور ان کا ایک موبائل فون سیٹ پر پڑا تھا، جبکہ چابی اگنیشن میں لگی ہوئی تھی، لیکن دوسرا موبائل فون غائب تھا۔‘مطیع اللہ جان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ تب سے اب تک ان کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہو سکا ہے۔اس حوالے سے آبپارہ پولیس سٹیشن کے ڈیوٹی آفیسر اے ایس آئی نصر اللہ نے نامہ نگار عبداللہ جان کو بتایا ہے کہ مطیع اللہ کی اہلیہ کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس افسران ان کی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔مطیع اللہ جان کے ٹوئٹر اکاو¿نٹ سے بھی ایک ٹویٹ کی گئی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ’میرے والد مطیع اللہ جان کو اسلام آباد مرکز سے اغوا کر لیا گیا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں فوری طور پر تلاش کیا جائے اور اس کے پیچھے کارفرما ایجنسیوں سے سوال کیا جائے۔

مزید :

قومی -