مطیع اللہ جان کے پر اسرار اغوا کی رپورٹ درج،بھائی نے بھی تہلکہ خیز انکشاف کردیا 

مطیع اللہ جان کے پر اسرار اغوا کی رپورٹ درج،بھائی نے بھی تہلکہ خیز انکشاف ...
مطیع اللہ جان کے پر اسرار اغوا کی رپورٹ درج،بھائی نے بھی تہلکہ خیز انکشاف کردیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف صحافی اور تجزیہ کار مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا کی رپورٹ تھانہ آب پارہ میں درج کر لی گئی ہے تاہم ابھی تک مقدمے کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی دوسری طرف مطیع اللہ جان کے لاپتا ہونے کے واقعہ سے اسلام آباد پولیس نے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق معروف صحافی مطیع اللہ جان کے پر اسرار اور مبینہ  اغوا کے واقعہ کی رپورٹ آب پارہ تھانے میں درج کر لی گئی ہے تاہم ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ دوسری طرف ترجمان اسلام آباد پولیس کاکہناہے کہ مطیع اللہ جان کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ میں پولیس ملوث نہیں تاہم مطیع اللہ جان کوپولیس طرز کی گاڑی استعمال کرکے اغوا کیاگیاجبکہ مطیع اللہ جان کے بھائی شاہد عباسی نے بتایا ہے کہ مجھے مطیع اللہ جان کی اہلیہ کا فون آیا، انہوں نے بتایاکہ مطیع اللہ جان کی گاڑی جوہے اس کی گاڑی کے شیشے کھلے ہوئے تھے، موبائل گاڑی میں پڑاتھا، اس نے فون دروازے سے اندرپھینکا، جب ہم نے موبائل اٹھایا تو ساتھ ہی پولیس والے نے کہاکہ موبائل دیں،موبائل دیں، ہم گھبراگئے موبائل اٹھایااورپولیس والے کوپکڑادیا،مطیع اللہ کو اغوا کرنے والوں کے ساتھ پولیس والے بھی تھے جبکہ ساتھ ایمبولنس بھی تھی'۔ادھر وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاداکبر نے کہاہے کہ مطیع اللہ جان کو 24 گھنٹوں میں بازیاب کرایا جائے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ا ورانسانی حقوق کے بعض دیگراداروں نے بھی شدیدتشویش کااظہارکرتے ہوئے مطیع اللہ جان کی فوری بازیابی کامطالبہ کیاہے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے سربراہ سینیٹر مصطفی نواز نے بھی واقعہ کانوٹس لیتے ہوئے بدھ کو کمیٹی اجلاس میں آئی جی اسلام آباد پولیس کو طلب کرلیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطیع اللہ جان کے اغوا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام جلد ازجلد مطیع اللہ جان کا پتا لگائیں، مطیع اللہ جان کوصحافت کے باعث ماضی میں حملوں اور ہراساں کیے جانے کا سامنا رہا ہے۔اس کے علاوہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی مطیع اللہ جان کی فوری بازیابی کامطالبہ کیا ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -