نواز شریف کا خاکہ

 نواز شریف کا خاکہ
 نواز شریف کا خاکہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 نواز شریف خدا کے نوازے ہوئے اور اپنے ماں باپ کی دعاؤں کا ثمرکھانے والی شخصیت ہیں۔وہ مقدر کے سکندر ہیں۔انہیں گھر میں بھی پی ایم پکارااور ماناجاتا ہے، ان کا معاملہ گھر کی مرغی دال برابر والانہیں ہے۔جس طرح شہباز شریف نے انہیں اپنا قائد مانا ہے اس طرح تو شائد پارٹی کارکنوں نے بھی نہیں مانا ہوگا۔وہ باؤ جی صرف مرحومہ کلثوم نواز صاحبہ کے تھے، باقی دنیا کے لئے لاڑا ہیں لاڑا!  اللہ نے نواز شریف کو کردار کی خوبیوں سے نوازا ہے۔ وہ اعز و اقربا کے ہمدرد، غریب پرور، انسان دوست، دیندار، اللہ پر توکل کرنے والے، اپنی زبان کا پاس کرنے والے، لوگوں کی دلجوئی کرنے والے، تعلقات نبھانے والے، ان کا پاس رکھنے والے، حسن اخلاق کو ہتھیار بنا کر، ہنستے مسکراتے، ہلکی پھلکی باتوں سے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دینے والے شخص ہیں۔
نوازشریف نے بھٹو کی طرح کسی کی تھانے میں دھنائی کروائی نہ عمران خان کی طرح کسی کو جیل میں ڈلوایا، ہاں البتہ وہ لوگوں کی اچھائی برائی کوضرور یاد رکھتے ہیں اگرچہ انہوں نے شاہد خاقان عباسی کو اپنی جگہ وزیر اعظم بنا یا تھا مگر ان پر یہ تنقیدپھر بھی ہوتی ہے کہ وہ اقتدار کو اپنے ہی گھر میں رکھنے کا چارہ کرتے ہیں کیونکہ سیاست میں انسان اپنے سائے پر بھی اعتبار نہیں کرتا  اور اقتدار کا کھیل تو اس قدرسنگین ہوتا ہے کہ ذرا سی کوتاہی انسان کوپھانسی گھاٹ تک لے جاتی ہے چنانچہ جس طرح کاروبار میں لوگ اپنی اولاد کے سوا کسی کو کاروباری گر نہیں دیتے اسی طرح سیاست میں بھی ہر کسی پر اعتبار نہیں کیا جاتا۔ 


نوازشریف نے جلاوطنیاں کاٹیں،وطن سے دوری کی سزائیں سہیں،انہیں جیلیں ہوئیں، انہوں نے نااہلیاں بلکہ تاحیات نااہلیاں بھگتیں مگر وہ گھوم پھر کر پھر سے اقتدار میں آجاتے ہیں۔وہ یونیورسٹیوں میں لیکچر دیتے ہیں نہ ان کا کردار عالمی مصالحت کار کا ہے مگر پاکستان، خاص طور پر پنجاب میں ان کا طوطی بولتا ہے جس کا سبب ان کا دیالو پن ہے۔ ان کا حال ڈوبنے اور سمندر کے اچھال دینے والا ہے، ضرور انہیں ماں باپ کی دعائیں لگی ہیں۔
نواز شریف تنہائی پسند نہیں بلکہ محفلی آدمی ہیں، لطیفوں کے ذریعے باریک نقطے پیدا کرناکوئی ان سے سیکھے۔وہ خوش ہونا جانتے ہیں، خوش کرنا جانتے ہیں، انہیں کوئی زعم نہیں، کسی بات کا غرور اور گھمنڈ نہیں، ان کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں، وہ خود اتنی بونگیاں نہ مارتے ہوں گے جتنی لوگ ان کے بارے میں مارتے پائے جاتے ہیں۔
 وہ شکوے شکائت نہیں کرتے،ناراض ہونے والوں کو ناراضگی نہیں دکھاتے، راضی ہونے والوں پر سواری نہیں کرتے،کبھی سینے پر ہاتھ مار کر بات نہیں کی، منہ پر ہاتھ پھیر کر دھمکی نہیں دی، انہوں نے انسانیت کی قدر کی، انہیں گلے لگایا، ان کے دکھ درد سنے، انہوں نے باکمال لوگوں کواپنے قریب کیا، بے کمال لوگوں کو برداشت کیا، کسی کو دھتکارا نہیں، کسی کا ہاتھ نہیں جھٹکا،انہوں نے سازشیوں کو منہ پھاڑ پھاڑ کر سازشی قرار نہیں دیا، حاسدوں سے نفرت نہیں کی،بلکہ صبر کیا، استقامت کا مظاہرہ کیا، انتظار کیا، پیچھے ہٹ گئے اور کبھی دیوانہ وار آگ میں چھلانگ نہیں لگائی۔


نواز شریف کے بارے میں بچھ بچھ جانے کا تاثر نہیں، اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کا تاثر نہیں، اقتدار کے لئے گدھے کو باپ بنانے کا رویہ نہیں، وہ اپنے وعدوں سے پھرتے نہیں ہیں،مفاہمت کا راگ نہیں الاپتے، میثاق معیشت کا چورن نہیں بیچتے، جھوٹی تسبیحاں نہیں گھماتے اور تقریروں میں اسلامی ٹچ نہیں دیتے۔
جب ان کے اقتدار کا سورج طلوع ہوا تو کوئی جنرل ضیاء الحق دنیا میں نہ تھا، اس کے باوجود ان کے بارے میں شروع دن سے پراپیگنڈہ ہوا ہے، انہیں غبی کہا گیا، ان کے کھانوں کے لطیفے بنائے گئے، ان کی ذہنی استطاعت کو مذاق کا نشانہ بنایا گیا مگر وہ اپنی ڈگر پرچلتے رہے اور آج ان کا اتنا انتظار اپنوں کونہیں جتنا پرائے کر رہے ہیں، ان کے بغیر انتخاب کا ڈول نہیں ڈالا جا سکے گا، ان کے علاوہ کوئی اور اس وقت لیڈر کے مقام پر فائز نہیں ہے کیونکہ اب عمران خان کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کا امکان صرف مریخ پر ہی ہو سکتا ہے۔
لوگوں نے دعائیں کیں کہ یااللہ ہمیں نوازدے۔ لاہور پیپلز پارٹی کا گڑھ تھا، بھٹو کا دیوانہ اور شیدائی تھا، پھر لاہور نے اپنا رخ نواز شریف کی طرف کر لیا، انہیں اپنا لیڈر مان لیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا نے مان لیا۔نواز شریف نے صرف سیاست کی، کوئی اور کام نہ کیا، کچھ اور نہ سیکھا کیونکہ وہ کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والوں میں سے نہیں۔ انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام تو نہیں دیا لیکن کسی کی انکم بند کی نہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بند کیا۔ 


نوازشریف سیاستدان نہیں، لیڈر ہیں کیونکہ انہوں نے سب کچھ سیکھا لیکن ہوشیاری نہیں سیکھی! بھٹو کے حامی انہیں بھٹو کا دشمن مانتے رہے حالانکہ انہوں نے بھٹو کو پھانسی دینے والا قلم نہیں خریداتھا، المرتضیٰ ہاؤس لاڑکانہ کے گرد لگے جنگلے نہیں گروائے تھے، بے نظیر بھٹو نے ان کا نام اپنے قتل کی ایف آئی آر میں نہیں لکھوایاتھابلکہ ان کا نام توعمران خان نے بھی اپنی ایف آئی آر میں نہیں لکھوایاہے۔ لیکن وہ پراپیگنڈے کا جواب دینے کے قائل نہیں ہیں بلکہ وہ توجلدی کسی کو انٹرویو نہیں دیتے،کسی کو اپنی تعریف پر مامور نہیں کرتے۔ جو کوئی ان کے قریب ہونا چاہتاہے، اسے گلے سے لگاتے ہیں اورجودوری پر مائل ہو، اسے وقت دیتے ہیں۔انہیں عدلیہ نے بحال کیا، عدلیہ نے ہی تاحیات نااہل کردیا، عدلیہ پر تب بھی تنقید ہوئی، عدلیہ پر اب بھی تنقید ہوئی ہے، ان کی جرنیلوں سے نہیں بنی حالانکہ انہوں نے کئی ایک جرنیلوں کو اپنے ہاتھوں سے آرمی چیف بنایا۔
نواز شریف وہ سیاسی حقیقت ہیں جنھیں بار بار جھٹلایا گیا کیونکہ ان کے باپ کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا اورنہ ہی ان کا خانوادہ دولتانہ، ٹوانہ یا کہیں کا گدی نشین تھا۔
نواز شریف نے سب سے پہلے آٹھویں ترمیم کو چیلنج کرتے ہوئے ڈکٹیشن نہ لینے کو نعرہ لگا کر پہلے پاکستانیوں کے دل جیتے اور پھر ان کا مینڈیٹ جیت لیا۔ترقی و خوشحالی اور نوازشریف ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں، لوڈشیڈنگ کاخاتمہ،موٹرویز کا جال اور ترقیاتی کاموں کا انبارلگاناکوئی نوازشریف سے سیکھے۔ دنیا نواز شریف سے دوستی رکھنا پاکستان سے دوستی رکھنے کے برابر تصور کرتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -