سرکاری ملازمین کے ساتھ معاہدہ ریلیف یا لالی پاپ

سرکاری ملازمین کے ساتھ معاہدہ ریلیف یا لالی پاپ
سرکاری ملازمین کے ساتھ معاہدہ ریلیف یا لالی پاپ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان میں احتسالی نظام کی کیا بات کی جائے؟یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے پتہ نہیں کس نے قوانین بنائے، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ادارے کہاں تھے ایک افسر کی تنخواہ پانچ لاکھ روپے ہے اس کو دو ہزار روپے کا پٹرول مفت دیا جاتا ہے، گھر، کچن، سٹاف، سکیورٹی سٹاف مفت ملتا ہے۔دوسری طرف ایک ملازم ہے وہ پہلے گریڈ کا ہو یا 16ویں سکیل کا اس کو تنخواہ 50ہزار ملتی ہے تو اِس میں اُس نے اپنی گاڑی کے پٹرول کا اہتمام خود کرنا ہے، پانچ ہزار روپے اب10ہزار روپے کرایہ داری میں ملے گا۔ کچن، سکیورٹی، ہوائی ٹکٹ، پٹرول سب اس کے لئے نہیں ہے یہی حال بڑے اداروں کے ملازمین کا ہے، افسر کی تنخواہ10لاکھ بجلی کے 5000یونٹ فری، دیگر مراعات اس کے علاوہ۔1000،1000لیٹر پٹرول، دو گاڑیاں اس کے استعمال میں رہیں گی اندھیر نگری ہے، عدلیہ، بڑے ادارے، سیاسی قوتیں، ر یاستی ادارے اور مقتدر قوتیں سب ناانصافی پر خاموش ہیں جس کا داؤ لگ رہا ہے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے نہ کوئی سو موٹو آ رہا ہے اور نہ ریاست کے کسی ادارے کو گوارہ ہے کہ وہ ایکشن لے؟ معاشرے کا عدم توازن ہر آنے والے دن میں بگڑ رہا ہے، غریب غریب تر ہو رہا ہے، معاشرتی بگاڑ نے معاشرتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، رہی سہی کسر مہنگائی اور بے روز گاری نے پوری کر دی ہے۔ خاندانی نظام بھی آخری سٹیج پر پہنچ گیا ہے  باپ بیٹا، بھائی بھائی کے سامنے کھڑا ہو رہا ہے، مہنگائی کی شرح اسی طرح بڑھتی رہی اور ہم آئی ایم ایف سے معاہدے پر جشن مناتے ہوئے آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے عوام کا سرعام معاشی قتل کرتے رہے تو وہ دن زیادہ دور نہیں ہے جب عوام اشرافیہ کے گریبان پکڑنے اور ان کے ٹھاٹ بھاٹ کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھنے پر مجبور ہوں گے۔گزشتہ ہفتے حج سے واپسی پر پنجاب کے سرکاری محکموں کے10سے14 جولائی سول سیکرٹریٹ کے سامنے ہزاروں ملازمین کے احتجاجی دھرنے پر نہ لکھ سکا۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ 22جولائی کے جمعتہ المبارک کے کالم میں وفاقی اور صوبوں کے سرکاری ملازمین کی حالت ِ زار، ان سے حکومتی ناروا سلوک پر لکھوں گا۔ وفاقی اور صوبائی بجٹ کا اعلان میرے پاکستان میں عدم موجودگی پر ہوا اور میں حج کی وجہ سے زیادہ دلچسپی بھی نہ لے سکا۔واپسی پر بجٹ اور حکومت کی طرف سے ریلیف اور تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے حوالے سے تفصیل دیکھی تو سر پکڑنے پر مجبور ہو گیا۔وفاق اور صوبوں کی بجٹ اور مراعات کے ساتھ تنخواہوں میں اضافے کی پالیسی ایک ہوتی ہے اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے حوالے سے بھی پالیسی یکساں ہوتی ہے۔ایک گریڈ سے16 تک اور17سے22 گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے تک بات ٹھیک تھی، مگر پنشن کے حوالے سے نگران پنجاب حکومت کی طرف سے پنشنر کو وفاق اور دیگر صوبوں سے ہٹ کر صرف5فیصد اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے، حالانکہ میں ذاتی طور پر محسن نقوی کی ذہانت اور کام کرنے کے طریقہ سے متاثر ہوں، حسن ِ زن رکھتے ہوئے یہی کہوں گا اُن کی نظروں سے نہیں گزرا ہو گا۔اب سڑکوں پر سینہ کوبی کرتے ہزاروں ملازمین اور پنشنرز نے اگر نشاندہی کر دی ہے تو فوری نوٹس لیں اور دیگر صوبوں کے مطابق مراعات کا اعلان کریں اور پنشن میں اضافہ کریں۔ای او بی آئی کے ملازمین کی حالت ِ زار سب سے برتر ہے جن کو کبھی7500 اور کبھی 8500 ماہانہ پر ٹرخایا جا رہا ہے،10جولائی سے14جولائی تک پنجاب کے30ہزار سے زائد محکمہ تعلیم، صحت، لوکل گورنمنٹ، میونسپل کارپوریشن سینٹری ورکر و دیگر چھوٹے ملازمین پنجاب حکومت کی ناانصافی پر سراپا احتجاج  رہے۔


پانچ روزہ تاریخی دھرنے میں مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید، مرکزی جمعیت الحدیث کے ابتسام الٰہی ظہیر، تنظیم اساتذہ کے میاں اکرم، عبدالرزاق باجوہ، ایپکا کے حاجی ارشاد طاہر اقبال چودھری،ٹیچر یونین کے افضل بھنڈر، ڈاکٹر طارق، محمد حنیف، عباسی، افضل عابد، مولانا جاوید قصوری، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق تک نے خطاب کیا اور پنجاب حکومت کے فیصلہ کی مذمت کی اور سرکاری ملازمین کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔گزشتہ جمعتہ المبارک کو میرے محسن اور دوست احمد جمیل راشد صاحب کا مجھے خط آیا جس میں انہوں نے چھوٹے ملازمین کی سول سیکرٹریٹ میں احتجاج تحریک کی کوریج نہ ہونے اور میڈیا کی طرف سے بلیک آؤٹ کا گِلا کیا اور صحافی برادری کے رویے کی مذمت کی،ان سے معذرت کس کس کو بُرا کہیں گے۔ میں نے ایک فقرہ شروع میں تحریر کیا تھا آوے کا آوا ہی بگڑ چکا ہے، آگ ہر گھر کو لگ چکی ہے، آگ مہنگائی کی، آگ بھوک کی، یوٹیلٹی بلز کی آگ، اخلاقی قدروں کے فقدان کی، بے روزگاری جس تیزی سے پھیل رہی ہے حکمرانوں کے لیے وقت ہے اس کے آگے پُل باندھیں ورنہ سب کچھ راکھ  ہو جائے گا، پانچ دن کے دھرنے کے دوران پنجاب حکومت کا رابطہ نہ کرنا قابل مذمت ہے،شدید گرمی میں 30ہزار سے زائد لوگ صبح سے شام تک سول سیکرٹریٹ کے سامنے سینہ کوبی کرتے رہے۔ نگران وزیراعلیٰ وزراء کا نوٹس نہ لینا حیران کن ہے، آخری روز وفاق کے نمائندے مشیر وزیراعظم چودھری احمد خان ایڈووکیٹ تشریف لائے اور حاجی ارشاد و دیگر نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کیے اور موقع پر تمام مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا جس دن مذاکرات ہوئے اسی دن وزیراعظم میاں شہباز شریف نے قوم سے خطاب کیا،مجھے لگ رہا تھا عوامی وزیراعظم ہزاروں سرکاری ملازمین اور لاکھوں پنشنرز کے مطالبات تسلیم کرنے اور ان کے لئے مراعات اور تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ دیگر صوبوں کے مطابق کرنے کا اعلان اپنے خطاب میں کریں گے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ان کا خطاب آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے اور فساد کی جڑ عمران خان تک محدود رہا۔میرے دوست احمد خان کے ساتھ معاہدے پر خوش ہیں اور بڑی تعداد ابھی بھی سول سیکرٹریٹ کے سامنے کیمپ لگائے بیٹھی ہے، اعلان کر رہے ہیں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے نوٹیفکیشن تک نہیں اُٹھیں گے اللہ کرے اُن کی خواہش پوری ہو جائے حق تو یہ ہے حق ادا نہ ہوا۔ میں نے ذمہ داری ادا کر دی ہے مجھے کم از کم خوش فہمی نہیں ہے، موجودہ حکومت8اگست تک  کی مہلت ہے ارکان قومی اسمبلی اپنے اپنے اربوں روپے ترقیاتی کاموں کے لئے وصول کر رہے ہیں تاکہ ایک دفعہ پھر سڑکوں، پلوں کا لالچ دے کر ووٹ حاصل کر سکیں۔اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے لالی پاپ لیتے ہیں یا بیدار ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ووٹ کی پرچی سے ان کو سبق سکھاتے ہیں۔
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -