اہل ثروت کی زبوں حالی اور صحرائی بابا کی خوشحالی

اہل ثروت کی زبوں حالی اور صحرائی بابا کی خوشحالی
اہل ثروت کی زبوں حالی اور صحرائی بابا کی خوشحالی

  

 صاحب اقتدار اور اہل ثروت پاکستانیوں کی بڑی تعداد بے چینی اور ذہنی الجھنوں میں مبتلا ہے اور ان میں سے اکثر کی حالت قابل رحم ہے۔معمولی سا بھی درد دل رکھنے والے اور حساس طبیعت کے مالک انسان کو انہیں دیکھ کر رونا آٹا ہے۔یہ مانا کہ خوشحالی اور دنیاوی آسائشوں کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے، لیکن بات قیمت سے بھی آگے بڑھ چکی ہے۔جب بھارت اور پاکستان وجود میں آئے تو بھارتی قیادت نے سرپرٹوپی اور معمولی دھوتی میں گزارہ کرنا مناسب سمجھا،نہ انہوں نے کاروں اور کوٹھیوں کے پیچھے بھاگ دوڑ کی اور نہ ہی قیمتی لباس زیب تن کرکے اپنی شخصیت کو نمایاں کرنا مناسب سمجھا۔معمولی خوراک، معمولی لباس اور معمولی رہائش میں گزارہ کرنے کو ترجیح دی۔ملک میں تیار کی جانے والی گاڑیوں پر سفر کرنے کو تریح دی اور اپنی زندگی اورتوانائیاں ملک و قوم کی تعمیر اورخدمت کے لئے وقف کردیں۔اس کے برعکس اس وقت کی پاکستانی قیادت نے دن میں کئی کئی قیمتی سوٹ زیب تن کرنے کی روش اپنائی، قیمتی کوٹھیوں اور اعلیٰ کوالٹی کے فرنیچر کو پسند فرمایا، لیکن اس قیادت کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ دیانتدار تھی،اصول پسند تھی اور حب الوطنی کے جذبے سے بھی سرشر تھی۔

پاکستان کی آزادی کے ابتدائی سالوں والی اس قیادت کے بعد آنے والوں نے قیمتی رہائشیوں، اعلیٰ کوالٹی کے ملبوسات اور قیمتی گاڑیوں جیسی روایات کو نہ صرف برقرار رکھا، بلکہ ان کو چار چاند لگا دیئے، لیکن پرانی قیادت کی دیانتداری، اصول پسندی جیسے اصولوں کو اپنے لئے پسند نہیں فرمایا اور آغاز سے ہی ان سے توبہ کرلی۔رہی بات دنیاوی آسائشوںکی تو اس کے حصول میں دن رات ایک کردیا.... اگر بات چند افراد تک محدود رہتی تو پھر بھی ہم موجودہ المیوں سے شاید بچے رہتے، لیکن ہماری بدقسمتی کہ ان حکمرانوں نے دولت سمیٹنے اور کرپشن کرنے میں بہت سے پاکستانیوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔دولت سمیٹنے اور پُرآسائش زندگی گزارنے کی اپنے ساتھیوں کو بھی ترغیب دی اور پھر آہستہ آہستہ عوام بھی اس مکروہ کھیل میں شامل ہوتے گئے۔دولت جمع کرنے کی دوڑ شروع ہوگئی،بالکل اسی طرح جیسے میراتھن دوڑ ہوتی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کون آگے نکلتا ہے اور کون پیچھے رہتا ہے۔

جدیددور اور سائنسی ترقی نے دنیا کی کایا پلٹ دی۔گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے۔نئی نئی ایجادات اور علاج معالجے کے جدید طریقوں نے انسانیت کی کایا پلٹ دی ہے ،لیکن پاکستانی قوم کی مسافت اور کمپوزیشن دیگر اقوام سے جدا ہے۔ دنیا نے تو سائنسی ایجادات میں ترقی کی ہے،لیکن ہمارے ہاں دوسری قسم کی ترقی ہوئی ہے۔ہم نے سائنسی ایجادات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنے لئے دنیا جہاں کی آسائشیں حاصل کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگا دی ہے۔ہمارے فلاں جاننے والے کی کوٹھی کتنی بڑی ہے،اس میں کتنی آسائشیں ہیں، گیراج میں گاڑیاں کتنی ہیں اور ان کے ماڈل کیسے ہیں؟....ہمیں اپنی نئی نسل سے بہت سی امیدیں تھیں، لیکن ہم بڑوں نے اس نئی نسل کو بھی ہوس، حرص اور دولت کا دیوانہ بنا دیا ہے اور ہمارے نوجوانوں کی ترجیحات میں بھی اصول پسندی وغیرہ نام کی چیز کا ملنا بہت مشکل ہے۔ایسا کیوں نہ ہو، انہوں نے آخر ترقی کرنی ہے،آگے بڑھنا ہے اور سرمایہ داری نظام کے تحت منعقد کئے گئے دولت جمع کرنے کے عالمی مقابلے میں فرسٹ آنا ہے۔اگر کرپشن اور دولت جمع کرنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور ایک خاص نکتے پر پہنچ کر ان کا بدبودار گٹر خود بخود ابلنے لگتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ مقام اب آ چکا ہے یا آنے والا ہے۔

پاکستان کے ایسے اہل ثروت جو غیر قانونی طریقے سے دولت کے انبار جمع کرچکے ہیں،جس طرح کی زبوں حالی کا شکار ہیں تو انہیں دیکھ کر مجھے ایک پرانا سچا واقعہ یاد آرہا ہے۔کافی عرصہ پہلے ہمیں ایک وڈیو ڈاکومنٹری کی شوٹنگ کے لئے بہاولپور کے علاقے میں ایک صحرا میں جانا پڑا۔حدنظر ریت اور خادار جھاڑیاں تھیں، آبادی کا نام و نشان نہیں تھا اور پانی کا قطرہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا تھا۔ہم نے دیکھا کہ اس صحرا میں کچھ تالاب موجود ہیں، جن میں پانی کی معمولی مقدار جمع تھی۔بعض مقامات پر ہمیں چند بکریاں بھی نظر آئیں اور ہم نے کچھ مویشیوں کے گلے میں ڈالی جانے والی گھنٹیوں کی آواز سنی۔چند نوکیلی کانٹے دار جھاڑیوں کے علاوہ ہمیں اس علاقے میں زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔دوران سفر ہم نے دیکھا کہ دور سے ایک جھونپڑی نظر آرہی ہے۔اس علاقے میں جھونپڑی دیکھ کر ہمیں تجسس پیدا ہوا اور ہم نے اس جھونپڑی کو دیکھنے کا ارادہ کیا۔ہم آہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے اس جھونپڑی کے پاس جا پہنچے۔جب ہم جھونپڑی کے پاس پہنچ گئے تو ہم نے دیکھا کہ یہ جھونپڑی کانٹوں کی بنائی ہوئی ہے۔صحرا میں جھونپڑی اور وہ بھی کانٹوں کی جھونپڑی.... ایک عجیب معاملہ تھا۔

ہم نے اس جھونپڑی کے اندر جانے کا ارادہ کیا۔یہ جھونپڑی تقریباً تین میٹر چوڑی اور چار میٹر لمبی ہوگی، جھونپڑی میں نہ کوئی چارپائی تھی ، نہ بستر تھا۔ایک کونے میں پرانا سا پانی کا مٹکا پڑا تھا اور اس پرایک پیالہ رکھا تھا۔جھونپڑی کے اندر ایک بزرگ موجود تھے، جن کی عمر 70سال کے لگ بھگ ہوگی۔آرام کے ساتھ بڑے پُرسکون انداز میں حقہ پی رہے تھے۔جسم اور چہرے پر گوشت بہت کم تھا۔چہرے کے نقوش تیکھے اور ناک قدرے لمبی تھی۔ہم نے اندر داخل ہو کر سلام کیا تو جھونپڑی نشین بابا نے خوشدمی سے سلام کا جواب دیا۔مَیں نے پہلا سوال یہ کیا کہ بابا جی آپ اس صحرا میں اس کانٹوں کی جھونپڑی میں رہتے ہیں۔اس علاقے میں آندھیاں بہت آتی ہیں، یہ جھونپڑی تو آندھی میں اُڑ جائے گی؟....”جھونپڑی نشین بابا نے جس اطمینان سے میرے سوال کا جواب دیا، وہ میرے دل پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نقش ہوگیا۔صحرائی بابا نے نظریں اوپر کیں،میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کہا کہ اگر آندھی میں جھونپڑی اُڑ گئی تو پھر کیا ہوا،نئی جھونپڑی بنا لیں گے،صحرا میں کانٹوں کی کمی نہیں ہے“۔یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے جھونپڑی نشین بابا کے چہرے پر جو سکون اور اطمینان تھا، مَیں نے کسی اہل ثروت کے چہرے پر کبھی نہیں دیکھا۔

آج مَیں اہل ثروت کو دولت بچانے اور چھپانے کے لئے بھاگ دوڑ کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے جھونپڑی نشین بابا یاد آنے لگتا ہے۔کانٹوں کی جھونپڑی میں رہنے والے بابا کی بے فکری اور اہل ثروت کی فکر مندی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں ایک ایسی نشانی ہے،جسے صرف وہ نظریں ہی دیکھ سکتی ہیں، جن سے حرص، ہوس اور دولت جمع کرنے کے جنون کی پٹی اتر جائے اور وہ حقیقی سکون کی لذتوں سے آشنا ہوجائیں۔مولانا روم اپنی ایک مثنوی میں فرماتے ہیں کہ اے بھیڑوں کے ریوڑ والی موٹی بھیڑ تو کیوں اتراتی ہے،خوش ہوتی ہے اور اپنے جسم پر زیادہ گوشت پوست پر غرور کرتی ہے۔تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ قصائی کی نظریں موٹی بھیڑ پر ہوتی ہیں اور اس کی باری پہلے آتی ہے....مَیں نے مفہوم بیان کیا ہے کہ الفاظ میرے اپنے ہیں ،کمی بیشی کے لئے معذرت۔اللہ تعالیٰ لاغر عوام پر رحم کرے اور یہ ریوڑ میں موجود لاغر کیڑوں کو بُرے وقت سے بچائے رکھے۔

مزید : کالم