خود احتسابی!

خود احتسابی!
خود احتسابی!

  

مقننہ ،انتظامیہ اور عدلیہ کے بعد اب میڈیا؟ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ میڈیا مملکت کے چوتھے ستون ہونے کا دعویدار بنا ۔2000ءکے بعد سے اب تک لگ بھگ 100 کے قریب ٹی وی چینلز نجی شعبے میں کام کا آغاز کر چکے ہیں۔80فیصد سے زائد جن میں سے ایسے ہیں، جو حالات حاضرہ کے پروگرام نشر کر رہے ہیں۔ بنظر عمیق اگر مشاہدہ کیا جائے، تو الیکٹرانک میڈیا نے صحافت کو کارپوریٹ کلچر کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بے پناہ طاقت اور سماجی مرتبے نے ایک نئی اشرافیہ کو خلق کیانظروں کو خیرہ کر دینے والی روشنیوںکی چکا چوند نے الیکٹرانک جرنلزم سے وابستہ افراد کو بھی شوبز کے ستاروں کے برابر لا کھڑا کیا اور ایک ایسے طبقے نے جنم لیا، جو اپنی دانش و فہم کے تکبر میں لوگوں کی دستاریں اُچھالنے سے بھی باز نہ رہا۔ ملکی تاریخ میں اگرچہ یہ پہلی بار ہوا کہ جاگیردار و سرمایہ دار اشرافیہ کے نمائندہ سیاست دانوں کو سرعام لتاڑا جانے لگا، بیورو کریٹس میڈیا کے سامنے بھیگی بلی بنے نظر آئے اور اس طرح دیگر بالا دست طبقات میں بھی یہ احساس جنم لینے لگا کہ اپنی من مانیوں کے لئے اب وہ ماضی جتنے آزاد نہیں رہے، لیکن اس تمام کے باوجود اہل سیاست الیکٹرانک میڈیا کے لئے آسان ہدف ثابت ہو رہے ہیں۔ بعض اینکرز کی جانب سے اس طبقے کو کوتاہ فہم اور صلاحیتوں سے عاری قرار دے کر ان پر تبریٰ بھیجنے کا لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا اس حقیقت سے تو کسی گاودی اور ناقص العقل کو ہی انکار ہو سکتا ہے کہ ہمارا معاشرہ بدعنوانی کی غلاظت میں بُری طرح لت پت ہے اور معاشرے کا شاید ہی کوئی طبقہ اس لعنت سے محفوظ ہونے کا دعویدار ہو سکے، لیکن کسی ایک خاص طبقے کو نشانے پر باندھ لینے کا وطیرہ بھی کسی طور درست نہ تھا۔ اہل سیاست بھی بے شمار خامیوں کا مرقع ہیں، لیکن وہ ایک لحاظ سے معاشرے کے دیگر طبقات سے بہتر ہیں کہ وہ خود ہی اپنے طبقے کی بُرائیوں کو منظر عام پر لاتے رہتے ہیں۔ اگرچہ ہم ابھی تک ایسے نظام سے یکسر محروم ہیں جو معاشرے کے تمام طبقات کا بلاتفریق احتساب کر سکے، لیکن حالیہ سالوں میں عدلیہ کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات کو اس جانب پیش رفت ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ پانچ سال کے دوران عدلیہ جس انداز میں خود احتسابی کے عمل سے گزری ہے، وہ تمام اداروں کے لئے قابل تقلید ہے، عزت مآب چیف جسٹس نے اس ادارے کو آلائشوں سے پاک رکھنے کے لئے قابل قدر کوششیں کی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب3نومبر2007ءکو جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے پی سی او جاری کیا، تو عدالت عظمیٰ سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 60سے زائد ججوں نے پی سی او پر حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا۔3 نومبر2007ءسے16مارچ2009ءتک ان ججوں کی اکثریت اپنے مو¿قف پر ڈٹی رہی اور اس کی وجہ 9مارچ2007ءکا وہ حرف انکار تھا،جو چیف جسٹس آف پاکستان نے آمر مطلق کے سامنے کیا۔ ماضی بعید میں اگرچہ مملکت کے چاروں ستون اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر رہے، لیکن جس ڈھٹائی کا مظاہرہ انتظامیہ کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ وہ یہ باور کرانے کے لئے کافی ہے کہ اس کے سدھرنے کے امکانات نہ ہونے کے برایر ہیں۔ بیورو کریسی تمام حکمرانوںکے سامنے کورنش بجا لانے میں کمال مہارت کو پہنچی ہوئی ہے اور اس کے عزائم ہر دور میں یہی ہوتے ہیں کہ حکمرانوں کو اپنا گرویدہ بنا کر ان کی سب سے بڑی ضرورت بنا جائے۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ نظام حکومت کے کل پرزوں میں بیورو کریسی کی اہمیت مسلمہ ہے، لیکن اپنی اس اہمیت کا خوبی سے غلط استعمال ہمارے ہاں ہوا ہے اس کی نظیر مشکل سے ہی ملے گی، لیکن میڈیا؟ اس میں شامل کالی بھیڑوں کے منظر عا م پر آنے سے ملکی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ میڈیا کے اندر سے خود احتسابی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ کیمرے کے سامنے خود کو را ست گو اور پاک باز قرار دینے والے اینکرز کی حرکات جب عوام الناس کے سامنے آئیں تو شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔

 چند روز کے اندر سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے پیغامات درج کرواتے ہو ئے مذکورہ اینکرز کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مذکورہ پلانٹڈ انٹرویو کو عدلیہ کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے اس کی ویڈیو طلب کرنا اور پیمرا کو اس حوالے سے سخت ہدایات جاری کرنا اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مستقبل میں بہت کچھ تبدیل ہو سکتا ہے۔ میڈیا کی جانب سے عطاءکردہ شعور کے باعث عوامی حلقوں میں یہ بات اب زور پکڑنے لگی ہے کہ میڈیا سمیت تمام ادارے خود احتسابی کا کوئی موثر نظام اپنائیں۔ ارسلان افتخار سیکنڈل میں فی الحال خیر کا یہی پہلو برآمد ہواہے کہ عوام الناس میں ایک سخت گیر نظام انصاف کی تلاش کا شوق پیدا ہوا ہے اداروں اور افراد کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات کی جانب دیکھنے کی عادت کو اپنانا ہو گا اور پہلی بار ملکی تاریخ میں ایسا ہی ہوا ہے کہ جس میڈیا گروپ پر الزام ہے کہ وہ عدلیہ کے خلاف سازش میں شریک ہے اس کی مذمت تقریباً تمام بڑے میڈیا گروپس کی جانب سے کی گئی ہے،جو ایک اچھی پیش رفت ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ارسلان افتخار کیس میں اب تک جس طرح کے بے لچک رویئے کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس بات کا غماز ہے کہ تیزی سے تبدیل ہوتی دُنیا میں سے کچھ مثبت چیزیں یقینا ہمارے معاشرے میں بھی منتقل ہوئی ہیں اور اگر ایک بار یہ سلسلہ چل نکلا تو اُمید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں بدعنوانی ہمارے ہاں بھی کوئی آسان چیز نہ رہے گی۔

مزید : کالم