مرشد سائیں کو دھکا کس نے دیا؟

مرشد سائیں کو دھکا کس نے دیا؟
مرشد سائیں کو دھکا کس نے دیا؟

  

اتفاق یہ ہے کہ جس دن میرا کالم ”میلہ اجڑ نہ جائے“ شائع ہوا، اسی دن مرشد سائیں کا میلہ اجڑ گیا۔ معلوم نہیں وہ خود بھی یہ سوچ رہے ہوں گے یا نہیں کہ انہیں اس منجدھار میں دھکا کس نے دیا، تاہم میں ضرور اس نکتے میں الجھا ہوا ہوں کہ مرشد سائیں کو آخر دھکا کس نے دیا ہے؟ کہنے کو توپوری پیپلز پارٹی ان کی پشت پر کھڑی نظر آتی تھی مگر جو چیرہ تو اک قطرہ خوں نہ نکلا۔ سب نئے وزیر اعظم کے انتظار میں مشغول ہو گئے اور مرشد سائیں کو ایک ہی دن میں قصہ پارینہ بنا دیا گیا۔ میں مال و دولت کی بات نہیں کر رہا، وہ تو بلاشبہ نسلوں تک کے لئے اکٹھی کر لی گئی ہے، میں تو مرشد سائیں کے بطور سیاستدان کیریئر کی بات کر رہا ہوں، جس پر نہ صرف ان کے سامنے بلکہ ان کے بیٹوں کی راہ میں بھی بڑے بڑے پتھر حائل نظر آرہے ہیں۔

چاہ یوسف کی صدائیں سننے والا اتنی سی بات نہ سمجھ سکا کہ سیاسی شہید بننے کے لئے قانون کے پلڑے میں وزن ڈالنا پڑتا ہے، قانون کے خلاف مزاحمت کرنے والے کبھی سیاسی شہید نہیں بنتے۔ مرشد سائیں کسی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حکم عدولی کے مرتکب نہیںہوئے تھے، بلکہ انہوں نے ملک کی سب سے بڑی عدالت کو چیلنج کیا تھا کوئی بھی ذی شعور اس بات کو نہیں مانتا کہ آپ عدلیہ کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے شہادت کی آرزو کریں۔ ٹھیک ہے وہ صدر زرداری اور پارٹی کے زیر بار تھے، لیکن بہرحال تھوڑا بہت دماغ اور اختیار تو انہیں خود بھی استعمال کرنا چاہیے تھا۔ وہ ملک کے سب سے بڑے انتظامی عہدے پر متمکن تھے وہ عدلیہ کو تو کہتے رہے کہ میں وزیر اعظم ہوں مگر مجھے چپڑاسی سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم خود پارٹی کے اندر انہوں نے اپنی پوزیشن چپڑاسی جیسی بنائے رکھی چلو مانا کہ پارٹی کے اور صدر آصف علی زرداری کی منشاءکے خلاف وہ کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے تھے، لیکن سوال یہ ہے کہ 26 اپریل 2012 کو جب سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے انہیں سزا سنا دی تھی، تو اس کے بعد کم از کم وہ اپنے پر ایک ستم ڈھا کر سیاسی شہید کا مرتبہ تو پاسکتے تھے، وہ اگر وزارت عظمیٰ کی کرسی سے چمٹے نہ رہتے اور اس فیصلے کے بعد مستعفی ہو جاتے تو صورت حال آج سے کہیں مختلف ہوتی۔ اب وہ نکالے گئے ہیں، اس صورت میں وہ خود بھریا میلہ چھوڑ کے جاتے۔ صدر پرویز مشرف کو بھی انتخابات کے بعد یہ موقع ملا تھا کہ وہ عہدہ چھوڑ کر اپنی تھوڑی بہت ساکھ بنا لیں، مگر اقتدار سے آخری لمحے تک چمٹے رہنے کی خواہش بالآخر انہیں بھی پوائنٹ آف نورٹرن تک لے گئی۔ یوسف رضا گیلانی المعروف مرشد سائیں تو ایک سیاسی آدمی تھے۔ انہیں حالات کی سمجھ کیوں نہ آئی اور کیوں وہ سیاسی شہید کا مرتبہ حاصل کرنے کی بجائے سیاسی لاش بننے کے راستے پر چل نکلے اور آج وہ پیچھے مڑ کے دیکھنے کے قابل بھی نہیں رہے۔

مرشد سائیں کی عقل و خرد کے حوالے سے حیرتوں کا ایک سلسلہ ہے کہ جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ مجھے کوئی کبوتر بننے کا مشورہ دے تو میں کم از کم سو بار سوچوں گا، مگر حیرت ہے کہ وزیر اعظم ہونے کے باوجود مرشد سائیں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے اقتدار کی کرسی پر جھولتے رہے۔ سپریم کورٹ سے سزا یافتہ ہونے کے بعد ان میں ذرہ بھر بھی اس حوالے سے کوئی تشویش یا تبدیلی دیکھنے میں نہ آئی قانونی مشیر تو انہیں مقتل کی طرف لے جا ہی رہے تھے، تاہم انہیں خود یا اپنے سیاسی دوستوں سے یہ مشورہ ہی کر لینا چاہیے تھا کہ 26 اپریل 2012 کو سزا یافتہ ہونے کے بعد ان کی آئینی و سیاسی نیز اخلاقی پوزیشن کیا رہ گئی ہے میڈیا پر اپوزیشن کے حوالے سے بار بار ان کے لئے ”مجرم وزیر اعظم“ کی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی۔ حیرت ہے کہ انہوں نے ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا کہ اس اصطلاح کو اپنی ذات سے ہٹانے کے لئے بھی کچھ کیا جانا چاہیے۔ اس کی بجائے وہ سو روپے فیس لینے والے وکیل اور عدالت کو اپنے فحش اشاروں اور بے ربط دلائل سے زیر کرنے کی خواہش رکھنے والے اٹارنی جنرل کے ہاتھوں کھیلتے رہے۔

مرشد سائیں اگر کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہ کرتے اور اقتدار کی چکا چوند میں لپٹی خواب و خیال کی دنیا سے باہر نکل آتے تو انہیں بآسانی معلوم ہو جاتا ہے کہ در پیش صورتحال میں ان کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ سزا کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کریں یا پھر مستعفی ہو جائیں۔ تیسرا راستہ کوئی تھا ہی نہیں مگر دھکا دینے والے انہیں تیسرے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتے رہے۔ تیسرا راستہ ہٹ دھرمی اور آئین سے بغاوت کا راستہ تھا، ایک سطحی ذہن رکھنے والے آدمی کو بھی معلوم ہے کہ جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کسی واقعہ پر اپنا فیصلہ صادر کر دے تو پھر کوئی دوسرا ادارہ اسے تبدیل نہیں کر سکتا اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے ایک غیر آئینی فیصلہ کرا کے مٹھائیاں بانٹی گئیں اور مرشد سائیں اس خمار میں ڈوب گئے کہ انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو بھی بچا لیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی بے اثر کر دیا ایک طرف آپ اس خوف سے اپیل نہیں کرتے کہ سپریم کورٹ کہیں نا اہلی کا واضح فیصلہ نہ دیدے اور دوسری طرف آپ ایک ایسے فورم سے ریلیف بھی مانگتے ہیں جو ریلیف دینے کا مجاز ہی نہیں، تو آپ کی سیاسی بصیرت اس تھڑے پر بیٹھے ہوئے سیاسی کارکن سے بھی نچلے درجے کی رہ جاتی ہے، جو روزانہ سیاست کے داﺅ پیچ کا حساب رکھتا ہے۔

مرشد سائیں کو نجانے کس دوست نما دشمن نے یہ راہ دکھائی کہ وہ چیف جسٹس کے مقابل آجائیں۔ انہیں تضحیک اور تنقید کا نشانہ بنائیں اوریہ تاثر دیں کہ ان کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ ذاتی عناد کا نتیجہ ہے بھلا لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہیں یہ بڑھک مارنے کی کیا ضرورت تھی کہ چیف جسٹس اگر اپنے بیٹے کا مقدمہ نہیں سن سکتے تو میرے بیٹے کا ہی سن لیں۔ کسی وزیر اعظم کی زبان سے ملک کے چیف جسٹس کے لئے اس قسم کی بات حیرت کو جنم دیتی ہے۔ یہ سراسر چیف جسٹس کو دباﺅ میں لانے کی کوشش تھی۔ کیونکہ وزیر اعظم کے کسی بیٹے کا کیس ابھی سپریم کورٹ میں موجود نہیں ہے، دونوں بیٹوں کے خلاف کیسز ابھی تفتیش کے مراحل میں ہیں وزیر اعظم کا منصب استعمال کر کے مرشد سائیں اپنے بیٹوں کو شفاف تفتیش سے بچانے کے لئے کیا کچھ کرتے رہے ہیں، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل اس طرح بدلے جاتے رہے، جیسے مرشد سائیں اپنے لباس بدلتے تھے۔ آپ چیلنج تو اس وقت کریں جب آپ کے ہاتھ صاف ہوں۔ اگر آپ گردن تک الزامات میں دھنسے ہوئے ہیں، تو پھر بڑھک مارنے سے پہلے سو با رسوچ لینا چاہیے۔ ملک ریاض اور وزیر اعظم میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے، ٹھیک ہے اندر سے مرشد سائیں ملک ریاض سے ملے ہوئے تھے اور ٹی وی چینل کے پروگرام میں اپنے بیٹے عبدالقادر گیلانی کو چیف جسٹس پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگوانے کا ٹاسک بھی دے رکھا تھا اور ”بنے میاں“ نے یہ ٹاسک ملک ریاض کو دوران پروگرام فون کر کے پورا بھی کیا، مگر یہ ایک بہت ناقص اور سطحی منصوبہ تھا، ملک ریاض کے انٹرویو کی آف ائر وڈیو اگر سامنے نہ بھی آتی، تب بھی ملک ریاض ایک ایسا کارتوس ثابت نہ ہو سکتا کہ جس سے سپریم کورٹ کو فتح کرنے کی خواہش پوری ہو سکتی۔ ارسلان افتخار کیس سامنے آتے ہی ان کے فرزند عبدالقادر گیلانی نے یہ بڑھک بھی مار دی کہ سیر کو سوا سیر بھی ٹکر جاتا ہے اندازہ لگائیں چھوٹے گیلانی صاحب کی ذہنی سطح کا کہ وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو سیر اور ملک ریاض کو سوا سیر سمجھتے رہے ایسی اصطلاحیں گلی محلے میں تو استعمال ہوتی ہیں لیکن آئینی عہدوں کے حوالے سے ان کا استعمال مرشد سائیں اور ان کے فرزندوں نے ہی متعارف کرایا ہے۔

میں پہلے کہہ آیا ہوں کہ دولت کا پیمانہ استعمال ہو تو مرشد سائیں ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں اس حوالے سے انتہائی سرخرو رہے ہیں انہوں نے پہلی بار خاندانی سطح پر دولت اکٹھی کرنے کا طریقہ کار متعارف کرایا چونکہ یہ طریقہ کار تھوڑا بے لگام بھی تھا، جس کی وجہ سے انہیں کئی بار ہزیمت بھی اٹھانا پڑی مگر ان کے اور دیگر ممبران کے پائے استقلال میں آخر وقت تک کوئی لغزش نہیں آئی اب جہاں تک مرشد سائیں کی سیاسی زندگی کا تعلق ہے تو وہ شہادت کی آرزو میں عملی سیاست سے باہر ہو گئے ہیں پانچ سال کے لئے نا اہل ہونے کے بعد وہ اپنے بیٹوں کے لئے گاڈ فادر کا کردار ادا کرنے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بے رحم سیاسی کلچر بتائے گا کہ خود انہیں اپنی جماعت ایک چلا ہوا کارتوس سمجھنے لگے گی انہیں اگر پارٹی کا کوئی عہدہ دے بھی دیا گیا تو وہ اس قدر لولا لنگڑا ہو گا کہ بیساکھیاں بھی اسے چلا نہیں پائیں گی، کیونکہ جس پارٹی پر آصف علی زرداری بیٹھے ہوں، اس میں ایک ایسے شخص کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے، جو پیپلز پارٹی کے لئے ایک تہمت بن کر رہ گیا ہو، کیا صدر آصف علی زرداری کی منشاءیہی تھی؟ اس سوال کا جواب خود مرشد سائیں کو ڈھونڈنا چاہیے انہیں کس نے مجبور کیا کہ وہ اڑتے تیر کے سامنے آجائیں؟ کس نے روکا کہ سزا یافتہ ہونے کے باوجود کرسی سے چمٹے رہیں؟ کون تھا وہ کہ جس نے 26 اپریل کے فیصلے کے فوری بعد سیاسی شہید بننے کے سنہری موقع سے فائدہ نہیں اٹھانے دیا؟ اگر یہ سب کچھ نہیں تھا اور خود مرشد سائیں کی ہوس اقتدار انہیں ایسا کرنے سے روک رہی تھی تو پھر انہیں سب کچھ بھول بھال کر پیری مریدی کی طرف آجانا چاہیے جہاں ان کے لئے میدان کھلا ہے اور نا اہلی بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔  ٭

مزید : کالم