بے نظیر بھٹو شہید....تاریخ ساز شخصیت

بے نظیر بھٹو شہید....تاریخ ساز شخصیت
بے نظیر بھٹو شہید....تاریخ ساز شخصیت

  



محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ایک بلند قامت سحر انگیز شخصیت،اپنے شہید والد کی سوچ کی وارث تھیں۔ پاکستان کے پسے ہوئے طبقات کی امیدوں کا مرکز تھیں، نہ صرف پاکستان، بلکہ تمام مسلم معاشروں میں خواتین کے حقوق کی علمبردار تھیں۔ وہ جمہوریت جمہوری اداروں اور جمہوری حقوق کی محافظ تھیں۔ وہ کیا نہیں تھیں؟ وہ سامراج اور سامراجی سوچ کے خلاف جدوجہد کی علامت تھیں وہ پاکستان کی محسن تھیں، وہ اسلام کا اصل چہرہ تھیں، وہ تہذیبوں کے درمیان پل تھیں، جس نے بڑی جرا¿ت سے جہاد کو غلط انداز میں پیش کرنے والوں کو صحیح راہ دکھانے کی کوشش کی تھی۔آج کے دن 21جون 1953ءکو کراچی میں قائد عوام فخر ایشیا جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کے گھر جنم لینے والی ”پنکی“ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کرنے کے بعد ہارورڈ آکسفورڈ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی لیکن وہ ماحول اسے اپنے ان ہم وطنوں سے دور نہیں کر سکا، جن کے دکھ، جن کی محرومیاں اس کے دل کی دھڑکن بن گئے تھے۔

1969ءسے 1973ءتک ریڈ کلف کالج کیمبرج یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہنے کے بعد بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1973ءسے 1977ءتک لیڈی مارگریٹ ہال آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات، فلاسفی اور معاشیات کے ساتھ آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کی ”پہلی ایشیائی خاتون“ صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ میں خدمات انجام دینے کا عزم لے کر پاکستان واپس آئیں، لیکن قدرت نے ان کے لئے بہت مرتبہ، لیکن کٹھن راستہ چن رکھا تھا۔ 1977ءمیں ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم پاکستان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ یہ ایک بین الاقوامی سازش تھی۔ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزام سے شروع ہونے والی تحریک ”نظام مصطفی“ کے نفاذ کے مطالبہ میں بدل گئی تاکہ عوام کے مذہبی جذبات کو Exploit کیا جا سکے اور کیا گیا۔

1977ءکے عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ”خفیہ ہاتھ“ جو پاکستان میں حکومتیں بنانا اور حکومتیں گرانا اپنا حق جانتے ہیں،حرکت میں آ گئے۔ راتوں رات پاکستان قومی اتحاد بنا دیا گیا جو سیاستدان ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں تھے، ایک میز پر بٹھا دیئے گئے جو مذہبی رہنما ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا یا پڑھانا تو دور کی بات ہے، ہاتھ نہیں ملاتے تھے اور اگر بہ امر مجبوری ملانا پڑ جاتا تھا تو ہاتھ دھو کر باقاعدہ وضو کرتے تھے کہ ہاتھ ناپاک ہو گئے ہیں، ایک دوسرے کی ”امامت“ تسلیم کرنے پر تیار کر دیئے گئے، لیکن ان سب ”کارستانیوں کے باوجود انتخابات ہونے کی صورت میں جناب بھٹو شہید کی شاندار کامیابی کو ناممکن بنانے کی صورت نظر نہ آئی تو انہیں ایک بے بنیاد مقدمہ قتل میں گرفتار کر لیا گیا، جو قتل کا مقدمہ نہیں تھا، مقدمے کا، بلکہ قانون کا قتل تھا۔یہ وہ حالات تھے جو ”پنکی“ کو خارزار سیاست میں لے آئے۔ 1977ءسے 1979ءتک جس جرا¿ت، حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ بے نظیر بھٹو نے اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو کے ہمراہ مسلط کی جانے والی ہر سختی کا مقابلہ کیا، نظر بندی، جیل، موسم کی سختی، بھٹو شہید کے جیالوں پر توڑے جانے والے مظالم نے محترمہ کی صحت پر برا اثر ڈالا اور وہ 2سال کی جلاوطنی کا عرصہ برطانیہ میں گزارنے پر مجبور ہوئیں، جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب ”مشرق کی بیٹی“ میں تفصیل سے کیا ہے۔

اپریل 1986ءمیں وہ وطن واپس آئیں، لاہور ایئر پورٹ سے مینار پاکستان تک سارا پاکستان ان کے استقبال کے لئے امنڈ آیا تھا، جس سے ”متعلقہ حلقوں“ میں خطرے کی گھنٹی بھی بجنا شروع ہو گئی۔ 1987ءمیں محترمہ کی شادی جناب آصف علی زرداری سے ہوئی اور اگست 1988ءمیں ایک ”حادثے“ جنرل ضیاءالحق کی موت نے نئے الیکشن کا انعقاد یقینی بنا دیا۔ ویسے تو جنرل صاحب جونیجو حکومت کو برطرف کر کے آئینی مدت میں انتخابات کا عندیہ دے رہے تھے، لیکن اس سے پہلے وہ وعدہ ایفا نہیں کر پائے تھے، اس لئے ان کا تازہ وعدہ بھی شاید پور ا نہ ہوتا .... انتخابات ہوئے، لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ ”مقتدر حلقوں“ نے اس ”خطرے“ سے نمٹنے کی تیاری کر رکھی تھی، اس لئے واضح اکثریت تو حاصل نہ ہو سکی لیکن یکم دسمبر 1988ءکو محترمہ بے نظیر بھٹو نے پہلی مسلمان وزیراعظم خاتون کی حیثیت سے حلف لیا۔

وزارت عظمیٰ کا یہ دور ہر طرف سے ”چیلنج“ کا دور تھا۔ پنجاب میں میاں نواز شریف وزیراعلیٰ، سندھ اور مرکز میں ایم کیو ایم کے ساتھ مخلوط حکومت تھی۔ اکتوبر 1989ءمیں ایم کیو ایم کے علیحدہ ہو جانے کے بعد سندھ میں لسانی بنیادوں پر فسادات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مئی 1990ءمیں حیدر آباد میں ”پکا قلعہ“ کے سانحہ نے اس میں شدت پیدا کر دی۔ 6اگست 1990ءکو پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کر دی گئی اور غلام اسحق خاں مرحوم نے وہ تقریر پڑھ دی جو پاکستان میں سویلین حکومت کو ختم کرنے کے لئے خصوصی طور پر ڈرافٹ کی گئی ہے۔ کرپشن کے الزامات، لیکن اس بارامن و امان کی خراب صورت حال بھی وجوہات میں شامل ہو گئی تھی۔ اکتوبر 1990ءمیں انتخابات ہوئے اور میاں نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔ شروع کے 2سال تو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان کشیدگی رہی، لیکن جنوری 1993ءمیں سیاسی ماحول میں ایک خوشگوار لہر محسوس ہوئی، جب محترمہ بے نظیر بھٹو کو قومی اسمبلی میں خارجہ امور کی سٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن منتخب کیا گیا۔ جناب آصف علی ضمانت پر رہا کر دیئے گئے، جنہیں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کرتے وقت مختلف بے بنیاد الزامات کی گردان کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا تھا۔(جاری ہے)

مزید : کالم