گیلانی دور کا خاتمہ

گیلانی دور کا خاتمہ

19جون2012ءمنگل کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا دن تھا جسے بھلایا نہیں جا سکے گا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے متفقہ طور پر منتخب ہونے والے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اس طرح”معزول“ کر دیا کہ اُن کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ وزیراعظم کا عہدہ26اپریل2012ءسے خالی ہے۔ اس دن سے وزیراعظم قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔ الیکشن کمیشن اُن کی نااہلیت کا نوٹس جاری کرے اور صدرِ پاکستان جمہوریت کا تسلسل یقینی بنانے کے لئے نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لئے انتظامات کریں۔ یاد رہے اسی عدالت کے ایک7 رکنی بنچ نے26اپریل2012ءہی کو انہیں توہین عدالت کا ”مجرم“ قرار دیا تھا، لیکن رکن اسمبلی کے طور پر کام کرنے سے روکا نہیں تھا۔ 7رکنی بنچ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ( اس فیصلے کے نتیجے میں) وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار پا سکتے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کے مخالفین نے اُن سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنا عہدہ خالی کر دیں۔ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف نے اُن کو وزیراعظم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور قومی اسمبلی سے باہر حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں (تحریک انصاف اور جماعت اسلامی) نے بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے۔

حکمران جماعتوں کے علاوہ ملک بھر میں وسیع تر اتفاق تھا کہ وزیراعظم اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ اُن کی نااہلی کا فیصلہ آئینی طور پر سپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔ وزیراعظم کو7رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل تھا، توہین عدالت کے آرڈیننس مجریہ2003ءکے مطابق عدالت پر اُن کی اپیل سننا لازم تھا۔ یہ دلیل بھی سامنے آئی کہ جب تک اپیل کا فیصلہ نہیں ہو گا وزیراعظم کو مجرم قرار دیئے جانے کا معاملہ حتمی طور پر طے نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم گیلانی کی اپیل سننے کے لئے8یا اس سے زیادہ جج موجود نہیں تھے۔ سپریم کورٹ کی 17مستقل نشستوں میں ایک خالی تھی،ایک جج صاحب وزیراعظم کے قریبی عزیز ہیں،اِس لئے وہ بنچ میں بیٹھنے سے انکاری تھے۔ ایک جج صاحب قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کا منصب سنبھال چکے تھے کہ مستقل چیف ریٹائر ہو گئے تھے۔ ایک فاضل جج دل کے عارضے میں مبتلا ہو گئے تھے۔ کوشش کی گئی کہ 8 (یا9) رکنی بنچ بنانے کے لئے ایڈیشنل اور ایڈہاک ججوں کا تقرر کر لیا جائے، لیکن وکلاءکے حلقوں نے اِس کی شدید مخالفت کی۔ اُن کا مطالبہ تھا کہ مستقل آسامی پُر کرنے سے پہلے سپریم کورٹ میں کوئی ایڈہاک یا ایڈیشنل جج مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر مستقل نشست پُر کی گئی اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جناب عظمت سعید اسلام آباد چلے گئے۔

اسی دوران سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے وزیراعظم کی نااہلی کے لئے ریفرنس دائر کر دیا گیا، سپیکر کو اس طرح کے ریفرنس پر30روز کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر وہ فیصلہ نہ کرے تو معاملہ خود بخود الیکشن کمیشن کو ریفر ہو جاتا ہے۔ سپیکر نے ریفرنس کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے لکھا کہ وزیراعظم نااہل نہیں ہوئے۔ سپیکرکے مطابق انہیں جس قانون کے تحت جو سزا دی گئی تھی، وہ اُن کی نااہلی کا سبب نہیں بن سکتی تھی، گویا محض توہین عدالت کے جرم میں سزا یافتہ کوئی شخص نااہل نہیں ہو سکتا، اِس کے لئے دستور کی دفعہ 63 (1۔جی) کے تحت عدالت کا تمسخر اُڑانا اور اس کی تضحیک کرنا ضروری ہے.... سپیکر کے فیصلے کے بعد حکمران جماعت خوشی سے دیوانی ہو گئی، اس کے وکلاءنے اعلان کیا کہ سپیکر کی رائے حتمی اور فیصلہ کن ہے۔ اِس معاملے میں سپریم کورٹ کو کسی مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔ اعلان کیا گیا کہ اب سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جائے گی، کہ وزیراعظم نااہل ہی نہیں ہوئے، تو اپیل کی کیا ضرورت؟

حکومت اور اس کے قانونی ماہرین کی توجہ اِس طرف دلائی گئی کہ اپیل نہ کرنے کی صورت میں7رکنی بنچ کا فیصلہ حتمی قرار پا جائے گا۔ اس کے بعد تو کوئی جائے اماں نہ رہے گی، لیکن اس طرف توجہ نہ دی گئی۔

اس پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ آصف کئی دیگر درخواست گزاروں کے ساتھ سپریم کورٹ جا پہنچے اور استدعا کی کہ سپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا جائے۔ سماعت شروع ہوئی تو یہ معاملہ کھل گیا کہ وزیراعظم کو رخصت ہونا پڑے گا۔ ایک رائے تھی کہ سپیکر کی رولنگ کو ختم کر کے معاملہ نبٹانے کے لئے الیکشن کمیشن کو بھیج دیا جائے گا، بعض حلقوں کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ وقت ضائع کئے بغیر اقدام کرے گی۔

3رکنی بنچ نے وزیراعظم کو 26اپریل2012ءہی سے نااہل قرار دے دیا، اسی روز سے اُن کی رکنیت اور وزارت عظمیٰ ختم ہوگئی۔ اِس فیصلے پر بحث و تمحیض جاری ہے۔ پیپلز پارٹی کے حلقے ناخوشی کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن فیصلہ نافذ العمل ہو چکا۔ وزیراعظم نے سرکاری گھر اور دفاتر خالی کر دیئے ہیں، اُن کی گاڑی سے جھنڈا اُتر گیا ہے۔

گیلانی صاحب کے پاس دو مواقع ایسے آئے تھے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر اخلاقی ساکھ کو بہتر بنا سکتے تھے۔ 26 اپریل2012ءکو 7رکنی بنچ نے جب اُن کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا، اسی روز وہ مستعفی ہو جاتے، تو اُن کا قد بڑا ہو جاتا۔ دوسرا موقع اُس وقت آیا جب قومی اسمبلی کی سپیکر نے اُن کے حق میں فیصلہ دیا تھا، اس کے فوری بعد وہ اپنے منصب سے ”فاتحانہ“ الگ ہو سکتے تھے ،لیکن انہوں نے کرسی پر جم جانے کو ترجیح دی۔

گیلانی صاحب کا دور ختم ہو چکا، اُن کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا جاتا رہے گا، اُن کے خلاف چونکہ کوئی قرارداد عدم اعتماد پاس ہوئی ہے، نہ انہوں نے انتخابات میں شکست کھائی ہے، اِس لئے فی الوقت اُن کی وزیراعظم ہاو¿س سے رخصتی کا جائزہ اُن کی ناکامیوں یا خامیوں کے حوالے سے لینا غیر ضروری ہوگا۔ وہ عدالت کے فیصلے کی نذر ہوئے ہیں اور عدالت کا یہ فیصلہ این آر او کے خلاف فیصلے کی کوکھ سے پیدا ہوا تھا، اِس لئے ” گیلانی انجام “کا جائزہ سیاسی طور پر لیا جاتا رہے گا.... اور یہ پاکستان کی سیاست میں کوئی نیا واقعہ نہیں۔ یہاں عدالت سیاست کو اور سیاست عدالت کو متاثر کرنے کی اپنی تاریخ رکھتی ہیں۔ گیلانی صاحب کا حال بہرحال متاثر ہو چکا، باقی باتیں بعد کی ہیں۔

جدید مصر کے فرعون کا عبرتناک انجام

تین عشروں تک مشرق وسطیٰ کے سب سے اہم ملک مصر کے بلا شرکت غیرے حکمران رہنے والے حسنی مبارک84خزائیں دیکھ کر جہان ِ فانی سے رخصت ہوئے۔ فراعنہ کی سرزمین پر حکمرانی کرنے والے شخص نے عام سپاہی ہوتے ہوئے بھی حادثتاً ملنے والے اقتدار میں تمام عرصہ فرعون بن کر حکومت کی۔ اس کے عہد میں کسی جگہ پانچ سے زیادہ افراد کو اکٹھا ہونے کی اجازت نہ تھی۔ سارا زمانہ ¿ اقتدار ہنگامی حالت کے سہارے حکومت کرنے والے آمر نے شہری آزادیاں سلب کئے رکھیں اور عوام پر جبر و اکراہ کے لئے فوج اور سیکیورٹی اداروں کو بے حساب اختیارات تفویض کئے رکھے۔ مصر میں سیاحت کی صنعت کو بچانے کے نام پر اسلامی اور مذہبی جماعتوں پر ناروا پابندیاں لگا کر اور دینی گروہوں کا ناطقہ بند کئے رکھنے کے انعام میں امریکہ اور مغرب کا اعتماد حاصل کیا۔ اس سے ملک میں بظاہر استحکام رہا اور معاشی خوشحالی بھی آئی، مگر رفتہ رفتہ اُن کے طرز حکمرانی سے لوگ نالاں ہونے لگے۔ ملک میں شہری آزادیوں اور جمہوریت کے لئے تحریک زور پکڑنے لگی، تو حالات کے دھارے کا رُخ دیکھ کر حسنی مبارک کے آقاﺅں نے بھی آنکھیں پھیر لیں اور پھر انہیں اپنے کرم فرماﺅں سے ہی جمہوری آزادیوں کے فروغ کے لئے دباﺅ قبول کرنا پڑا۔ عوام کے مظاہرے زور پکڑنے لگے، تو التحریر اسکوائر پر دھرنے نے حسنی مبارک کواقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔1981ءکے بعد سے تین بار بلا مقابلہ صدر بننے والے مردِ آہن کو عوام کے سامنے ہتھیار پھینکنے پڑے۔ اپنے دورِ اقتدار میں چھ خطرناک قاتلانہ حملوں میں معجزانہ طور پر محفوظ رہ جانے والا آمر مطلق عوام کے جم غفیر کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور فروری2011ءمیں ایوانِ اقتدار ہی نہیں قاہرہ ہی چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اس ماہ کے آغاز میں مبارک کو گزشتہ سال کے احتجاج کے دوان ہونے والی ہلاکتوں کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جیل میں فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد انہیں جیل سے آرمی ہسپتال میں لائف سپورٹ سسٹم پر ڈال دیا گیا۔ بعد ازاں وہ بے ہوشی کے عالم میں ہی دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ملک میں آمریت قائم کر کے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے تمام اخلاقی قدروں کو پامال کرنے والوںکو حسنی مبارک کی زندگی اور عبرت ناک انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔ 

مزید : اداریہ